گذشتہ روز جب سوات کے تاریخی گراسی گراؤنڈ میں سوات چمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز ہوا، تو اس موقع پر صرف گیند اور بلّے کا شور نہیں تھا، بل کہ یہاں ایک نئے دور کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ یہ محض کھیلوں کا ایک میلہ نہیں، بل کہ اجتماعی شعور، قومی یک جہتی اور وسیع النظری کی ایک ایسی روایت کا سنگ بنیاد تھا، جس نے پورے خطے کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
افتتاحی تقریب کی مہمان خصوصی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی اور بونیر کی بیٹی، ڈاکٹر سویرا پرکاش تھیں۔ اُن کی بہ طورِ مہمانِ خصوصی شمولیت نے اس تقریب کو ایک عام ٹورنامنٹ سے اُٹھا کر پاکستان کے سافٹ امیج کی نمایندگی کرنے والی علامت بنا دیا۔ یہ منظر قلب و روح کے لیے باعثِ اطمینان تھا کہ ایک پختون سرزمین پر عوامی سطح کی تقریب کی قیادت ایک خاتون کر رہی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر، وہ غیر مسلم اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔
یہ اقدام، بلا شبہ، ایک معمولی واقعہ نہیں، بل کہ ایک نہایت طاقت ور پیغام ہے، جو پختونوں کی قدیم تہذیبی رواداری اور سوات کے نئے، روشن چہرے کو دنیا کے سامنے لے آیا ہے۔ وہ سوات، جو ایک الم ناک دور میں بدامنی اور انتہا پسندی کے باعث عالمی منظرنامے پر زیرِ بحث رہا، آج اپنی اصل روح محبت، احترام اور وسیع القلبی کے ساتھ دوبارہ ابھرا ہے۔ ڈاکٹر سویرا پرکاش کی موجودگی یہ ٹھوس ثبوت ہے کہ پختون معاشرہ جمود کا شکار نہیں، بل کہ تبدیلی، شمولیت اور ترقی کی راہ پر گام زن ایک متحرک سماج ہے۔ اس قسم کا مُثبت عمل سوات اور پورے خیبر پختونخوا کے سافٹ امیج کو تقویت دیتا ہے اور منفی تاثرات کی دھند کو ہمیشہ کے لیے چھانٹ دیتا ہے۔
مذہبی ہم آہنگی دراصل کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی اور دنیا میں امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے تمام طبقات کو، اُن کے مذہب، عقائد، رنگ یا نسل سے قطع نظر، برابر کا شہری اور قابلِ احترام حصہ دار تسلیم کرتا ہے، تو وہ ترقی کی معراج کو چھوتا ہے۔ یہ صرف رواداری نہیں، یہ انسانیت کا وہ بلند معیار ہے، جس کی بنیاد احترام اور باہمی اعتماد پر رکھی جاتی ہے۔ مذہبی ہم آہنگی کا یہ عملی پرچار دنیا کو بتا رہا ہے کہ سوات کے دل کتنے صاف ہیں، جہاں فرقے اور عقائد کی دیواریں انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتیں۔ یہ وہ عملی نمونہ ہے، جس کی تعلیم ہماری سماجی اور دینی اقدار صدیوں سے دیتی آئی ہیں۔ اقلیتی برادری کو نمایاں مقام دے کر، ہم نے درحقیقت اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ہے، جہاں ہر فرد کو اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ معاشرتی دھارے میں شامل ہونے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اس قسم کے شمولیت پسندانہ مثبت اثرات ضلع سوات کے پُرامن ماحول کو پائیدار بنا کر مستقبل پر دور رس نتائج مرتب کریں گے۔ ایسے اقدامات مقامی آبادی، خصوصاً نوجوانوں میں، مزید مضبوطی، اعتماد اور امید پیدا کرتے ہیں۔ جب نئی نسل یہ دیکھتی ہے کہ اُن کی سرزمین پر مذہبی یا صنفی تفریق کو مسترد کیا جاتا ہے اور میرٹ کی بنیاد پر ہر فرد کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے، تو اُن کی فکری تربیت زیادہ مُثبت اور تخلیقی انداز میں ہوتی ہے۔ یہی سوچ آگے چل کر ایک مضبوط، متحد اور پُرامن سماج کی بنیاد بنتی ہے۔ یہ نہ صرف اندرونی استحکام کے لیے ضروری ہے، بل کہ یہ پاکستان کے عالمی موقف کو بھی مستحکم کرتا ہے کہ ہم ایک ایسا ملک ہیں، جو اپنی تمام اقلیتوں کو تحفظ، احترام اور ترقی کے یک ساں مواقع فراہم کرتا ہے۔
یہ بات نہایت لازمی اور اہم ہے کہ اس قسم کے مشترکہ پروگرام باقاعدگی اور تسلسل سے منعقد کیے جائیں۔ یہ صرف ایک بار کا ایونٹ نہیں ہونا چاہیے، بل کہ ایک مستقل ریاستی اور عوامی پالیسی ہونی چاہیے، جس میں خواتین اور اقلیتی برادری کو صرف نمایشی طور پر نہیں، بل کہ ہر سطح پر حقیقی معنوں میں نمایاں حصہ دیا جائے۔ ہمیں ایسے مواقع اور پلیٹ فارمز کو فروغ دینا ہو گا، جو اس مثبت بیانیے کو مزید تقویت دیں، تاکہ سوات کا یہ روشن خیال چہرہ دنیا بھر میں امن اور محبت کا سفیر بن سکے۔ اس پروگرام کے بنیادی مقاصد میں یہ شامل ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف، امن اور بھائی چارے کے پیغام کو کھیلوں اور ثقافت کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچایا جائے، تاکہ وہ تعمیری اور صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب ہوں اور تخریبی اثرات سے دور رہیں۔
اس کا دوسرا اہم مقصد بین الاقوامی سطح پر یہ ثابت کرنا ہے کہ سوات مکمل طور پر بہ حال ہوچکا ہے اور مذہبی رواداری یہاں کی ثقافت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ بالآخر، یہ کوشش خواتین اور اقلیتی برادری کو قومی دھارے میں عملی طور پر شامل کرنے، اُنھیں عزت و احترام کے ساتھ تسلیم کرنے اور مختلف کمیونٹیوں کے درمیان صحت مند مقابلے کے جذبے کو فروغ دے کر باہمی ربط اور قومی یک جہتی کو مضبوط کرنے کی طرف ایک کلیدی قدم ہے، کیوں کہ یہی مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد انسانیت کی ترقی اور معراج کی اصل راہ ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










