حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی پیدایش کے بارے میں کوئی یقینی تاریخ موجود نہیں، تاہم اندازاً بیان کیا جاتا ہے کہ وہ، ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں زمانۂ جاہلیت میں 28 یا 22 قبل از ہجری، قریش کے ایک ممتاز قبیلے بنو مخزوم میں پیدا ہوئے۔ نام خالد، کنیت ابو سلیمان اور لقب سیف اللہ تھا۔ والدہ کا نام بی بی لبابہ صغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حارث رضی اللہ عنہ تھا، جو ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ قریش میں فصاحت و بلاغت، لیاقت، تجارت، زراعت، دولت، حشمت، ریاست اور امارت میں مشہور تھے، جب کہ حسن و جمال اور خوش اخلاقی کے سبب سے ’’گُلِ قریش‘‘ کہلاتے تھے ۔ ان کی تجارت ایسی تھی کہ ذاتی خزانے میں ہر وقت ایک لاکھ دینار سرخ اور دس لاکھ روپے موجود رہتے تھے۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ ایسے ماحول میں پیدا ہوئے، جہاں شمشیر زنی، نیزہ بازی، نشانہ بازی، شہ سواری، جنگی داو پیچ اور جنگ جوانہ سرگرمیاں عام تھیں، جب کہ دیگر اذکار و معمولات بہت کم تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی ایک جنگ جو سپہ سالار اور جنگی چالوں میں ماہر تھے۔ اسلام لانے سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جو ظالمانہ تدبیریں اور جنگی منصوبے بنائے گئے، اُن میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بڑا حصہ تھا۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، مگر سب سے مستند روایت ’’مسند احمد بن حنبل‘‘ کی ہے۔ اس کے مطابق عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ لیے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، تو راستے میں قریش کا ایک اور خوش نصیب ہیرواسی غرض سے مدینہ جاتے نظر آیا۔ یہ ہیرو کوئی اور نہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہ زمانہ 6 اور 8 ہجری کے درمیان بیان کیا جاتا ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ واپس آئے، جب کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں مستقل قیام اختیار کیا۔ اسلام سے پہلے جس طرح مسلمانوں کے سخت دشمن تھے، اسلام لانے کے بعد مشرکین کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ بن گئے۔ چناں چہ اکثر غزوات میں اُن کی تلوار نے مشرکین کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔
اگر بختِ نصر، جولین، سکندر مقدونی، نپولین اور دیگر فاتحین کی فتوحات کا تجزیہ کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت ور نے کم زور کو، کثرت نے قلت کو اور ظالم نے مظلوم کو فتح کیا…… مگر کہاں یہ فاتحین اور کہاں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنھوں نے ہمیشہ ظالم کا گریبان پکڑا، قلت نے کثرت کو چیلنج کیا، بے سرو سامانی نے ساز و سامان والوں کو للکارا اور جن کے پیادہ غازیوں نے آہن پوش سواروں کو شکست دی۔
٭ غزوۂ موتہ:۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوتِ اسلام کے سلسلے میں حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ایک خط شاہِ بصریٰ کو بھیجا۔ وہ مقامِ موتہ پہنچے تھے کہ شرجیل بن عمرو غسانی نے اُنھیں شہید کر دیا۔ اس واقعے نے حضور صلعم اور مسلمانوں کو نہایت متاثر کیا۔ چناں چہ آپ صلعم نے انتقام کے لیے دو ہزار کا لشکر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ اگر زید (رضی اللہ عنہ) شہید ہو جائیں، تو جعفر طیار (رضی اللہ عنہ) ان کی جگہ لیں گے۔ اگر وہ بھی شہید ہوجائیں، تو عبداللہ بن رواحہ (رضی اللہ عنہ) قائم مقام ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہوجائیں، تو پھر مسلمان کسی کو بھی امیر مقرر کر لیں۔ (ضیاء النبی صلی اللہ علیہ و سلم، جلد 4، صفحہ 364)
اللہ تعالیٰ کی رضا سے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تینوں شہید ہوگئے، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قیادت سنبھالی۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق جب غزوۂ موتہ جاری تھی، تو اُسی وقت مسجد نبوی میں نبی کریم صلعم صحابہ رضی اللہ عنہ کو جنگ کا عینی حال بیان فرما رہے تھے۔ حالاں کہ کوئی قاصد مدینہ نہیں پہنچا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک ایک کر کے اُن شہدا کا ذکر فرما رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ پھر فرمایا: ’’اب اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے جھنڈا سنبھال لیا ہے، اب مسلمانوں کے لیے خیر ہے۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا: ’’اے اللہ! خالد تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، اس کی مدد فرما۔‘‘ (ضیاء النبی صلعم جلد 4، صفحات 258 و 375)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس جنگ میں ایسے جوہر دکھائے کہ مسلمان ہی نہیں، دشمن بھی داد دینے لگے۔ اس جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں 9 تلواریں ٹوٹ گئیں۔
٭ فتحِ مکہ اور دیگر معرکے:۔ فتح مکہ میں مشرکین نے ہتھیار ڈال دیے، تاہم چند نے مزاحمت کی اور وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے۔ فتحِ مکہ کے بعد بنو ثقیف اور حوازن (اوطاس) کے میدان میں جمع ہوئے، تو حضور صلعم12 ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ بنو سلیم کا قبیلہ مقدمۃ الجیش تھا اور اس کی قیادت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت شجاعت سے لڑتے ہوئے کئی زخم کھائے۔ حضور صلعم عیادت کو تشریف لائے ، زخموں پر دم فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہ جلد صحت یاب ہوگئے۔
غزوۂ حنین کے بعد مشرکین کی شکست خوردہ فوج طائف کے قلعے میں محصور ہو گئی۔ مسلمانوں پر قلعے سے تیروں کی بارش کی گئی، جس سے کئی مسلمان شہید ہوئے۔ مقدمۃ الجیش کے امیر خالد رضی اللہ عنہ نے جوابی حملہ کیا اور کام یاب ہوئے ۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے تبوک، سریہ بنو حزیمہ، سریۂ یمن اور سریۂ عزیٰ میں بھی شجاعت کے جوہر دکھائے۔ مدعیانِ نبوت کا خاتمہ کیا اور مرتدین کی سرکوبی کی۔ عراق میں فوج کشی، جنگِ مذار، کسکر، لَیس، امغیشیا، خیرہ کی صلح، اَنبار کی تسخیر، عین التمر، حصید و خنافس اور ثنیٰ و بُشر جیسے معرکوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔
٭ عراق سے شام کی طرف روانگی:۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ عراق کی مہم سر کرچکے تھے کہ دربارِ خلافت سے حکم ملا کہ عراق چھوڑ کر شام میں اسلامی فوج سے جاملیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عراق کا انتظام حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا اور راستے میں متعدد مقامات فتح کرتے ہوئے شام پہنچے، جہاں آپ رضی اللہ عنہ نے بصریٰ کی طرف پیش قدمی کی اور اجنادین کو فتح کیا۔ پھر دمشق کا محاصرہ کیا گیا اور شہر فتح ہوا۔ دمشق کے بعد رومیوں نے فحل میں مورچہ بند ہو کر مقابلے کی تیاری کی، مگر مسلمان کام یاب رہے۔ پھر حمص، یرموک، حاضر، قنسرین اور بالآخر بیت المقدس بھی فتح کر لیا گیا۔
٭ سپہ سالاری سے سبک دوشی:۔ 22 جمادی الآخرہ، 13 ہجری (بہ مطابق 22 اگست 634ء) کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو اُنھوں نے حضرت خالدرضی اللہ عنہ کو سپہ سالاری سے معزول کرکے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار مقرر کیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے پر کوئی رنج نہ کیا اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھرپور جواں مردی سے جہاد میں شریک رہے۔
الزام لگایا جاتا ہے کہ بنو کندہ کے سردار اشعث بن قیس نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف میں قصیدہ پڑھا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے خوش ہو کر دس ہزار درہم انعام دیا، جس پر امیر المومنین نے اُنھیں مدینہ بلاکر فوج سے سبک دوش کیا۔ سبک دوشی کے بعد آپرضی اللہ عنہ حمص چلے گئے اور وہیں مقیم ہوئے۔ خلیفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے تین ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔
کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے جسم پر کوئی ایسا مقام نہ تھا، جہاں زخم نہ آیا ہو، مگر قسمت میں شہادت نہ تھی اور طبعی موت ہی مقدر تھی۔
٭ وفات:۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی وفات 22 ہجری میں مختصر علالت کے بعد ہوئی۔ بعض روایات میں وفات حمص میں بیان کی گئی ہے، مگر کئی محققین اسے درست نہیں مانتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو نوحہ کرنے سے منع کیا تھا، لیکن جب خالد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو مدینہ میں عورتوں نے بین کیا اور خلیفہ نے منع نہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ہم شیرہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے رقت آمیز نوحہ کیا، جس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے ۔ (از ’’نورانی حکایات‘‘، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ،صفحات 19، 29، صفحہ 53)
٭ تاریخی نوٹس:۔
1) پیدایش کی تاریخ 28 یا 22 قبلِ ہجری ایک محتاط علمی اندازہ ہے۔ اکثر مورخین اس کے قریب رائے رکھتے ہیں، مگر قطعی تاریخ موجود نہیں۔
2) مالی اعداد ’’ایک لاکھ دینار سرخ‘‘ اور ’’دس لاکھ روپے‘‘ جیسے بیانات مختلف کتب میں ملتے ہیں، مگر بعض محققین ان اعداد کو مبالغہ قرار دیتے ہیں۔
3) جائے وفات، مورخین کی اکثریت ’’حمص‘‘ ہی کو حضرت خالد کا مقامِ وفات مانتی ہے۔ لہٰذا ’’مدینہ میں وفات‘‘ والی روایت کم زور شمار ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










