اگر مملکتِ خداداد میں کوئی ایسا پریس کلب تھا، جو واقعی پیشہ ورانہ صحافت اور صحافیوں کے لیے ایک طرح سے آزمایش گاہ تھا،تو وہ کوئی اور نہیں، شمالی پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں واقع بدقسمت ’’سوات پریس کلب‘‘ ہی تھا۔
سوات جو کبھی سیاحتی جاذبیت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز رہا…… بعد ازاں شدت پسندی اور فوجی کارروائیوں کے باعث اس کی شناخت بری طرح مجروح بھی کی گئی۔
اس پس منظر کے باوصف، سوات پریس کلب کا کردار اور مقامی آبادی میں اس کی ساکھ اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ زیادہ تر پیشہ ور صحافی اس جگہ سے دور ہی رہنے میں عافیت جانتے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے اس ادارے سے عام شہری کو کبھی کوئی حقیقی سہولت نہیں ملی۔ خود کو صحافی کہلانے والے بیش تر افراد دراصل اعلا سرکاری افسران کے کارندے سمجھے جاتے، جن کا بنیادی کام عوامی خدمت کی بہ جائے اپنی ذاتی تشہیر اور تعلقاتِ عامہ (پی آر) کو مضبوط کرنا تھا۔
ایسے مایوس کن اور ابتری کے ماحول میں، اسی مٹی کے ایک باہمت بیٹے، فیاض ظفر،جو خود فالج جیسے عارضے سے نبرد آزما ہیں، نے تنِ تنہا پریس کلب کا نظم و نسق سنبھالا اور اس کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھول دیے، تاکہ وہ بغیر کسی سفارش، رشوت یا ’’ہتھیلی گرم‘‘ کیے اپنے مسائل کے لیے آواز اسی پلیٹ فارم سے اُٹھاسکیں۔ فیاض ظفر کا یہ عمل ایسا تھا، جو برسوں تک سوات پریس کلب میں رائج رہا۔
اب حالیہ صورتِ حال میں ہم بس دعا ہی دے سکتے ہیں کہ فیاض ظفر کی جرأت مندانہ کاوشیں بارآور ثابت ہوں اور یہ مردِ میدان اپنی دھرتی کی خدمت کے ساتھ ساتھ صحافت جیسے مقدس پیشے کی گرتی سنبھلتی ساکھ کو دوبارہ بہ حال کرسکیں، جسے ماضی میں غلط ہاتھوں نے پاتال تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔
میری ان سطور کے ذریعے قومی و بین الاقوامی صحافتی اداروں سے اپیل ہے کہ اس تنہا مگر باہمت مجاہد (فیاض ظفر) کا ساتھ دیں، جو دراصل اُنھی کی لڑائی لڑ رہا ہے…… صحافت کی اُتری ہوئی لوئی واپس اُٹھانے کی لڑائی۔
جاتے جاتے جگر مراد آبادی کا یہ شعر فیاض ظفر کے نام
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










