ایک طرف اگر موسمِ سرما اپنے عروج پر ہے، تو دوسری طرف بارشیں نہ ہونے اور گریوٹی سکیم کے دھول اور مٹی کی وجہ سے مختلف اقسام کی بیماریاں بھی سر اُٹھا رہی ہیں۔ ان بیماریوں میں سے ایک بیماری جو توجہ حاصل کر رہی ہے، وہ ہے "H3N2” (انفلوئنزا اے وائرس کی ذیلی قسم) جس نے پورے سوات کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
آج کی نشست میں ہم اس بیماری کے بارے میں بات کریں گے کہ کس طرح یہ ہمارے پھیپڑوں کو متاثر کررہا ہے اور ایک وبا کی باقاعدہ شکل اختیار کرچکا ہے۔
٭ مینگورہ شہر میں وبائی شکل اختیار کرنے والا وائرس:۔ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ (H3N2) دراصل ایک قسم کا فلو وائرس ہے، جو انفلوئنزا اے کی ایک ذیلی قسم ہے۔ موسموں میں تبدیلی کے ساتھ اس انفیکشن کا خطرہ عموماً بڑھ جایا کرتا ہے۔ ڈبلیو ایچ اُو کے مطابق، موسمی انفلوئنزا ایک شدید سانس کا انفیکشن ہے، جو انفلوئنزا وائرس سے وجود پاتا ہے۔
٭ موسمی انفلوئنزا وائرس کی اقسام:۔ موسمی انفلوئنزا وائرس چار مختلف ذیلی قسموں میں آتے ہیں: اے، بی، سی اور ڈی (A, B, C & D)۔
دراصل ’’انفلوئنزا اے‘‘ اور ’’انفلوئنزا بی‘‘ وائرس پھیلتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بیماری کی وبا سالانہ حساب سے پھیلتی ہے۔ انفلوئنزا اے وائرس کی سطح پر پائے جانے والے دو پروٹین ’’ہیماگلوٹینن‘‘ (HA) اور ’’نیورامینیڈیس‘‘ (NA) وائرس کی ذیلی قسمیں بھی بناتے ہیں۔
٭ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ (H3N2) کی علامات:۔
1) بخار:۔ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ کے مریضوں کی اکثریت میں بخار بنیادی علامت ہے۔ بخار ایک جسمانی علامت ہے، جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ آپ کا جسم کسی بھی بیرونی یا خارجی مادے کا مقابلہ کرنے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
2) کھانسی:۔ کھانسی ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ کی ایک اور علامت ہے، جو ابتدائی مرحلے میں ظاہر ہوتی ہے اور کئی دنوں تک رہ سکتی ہے۔
3) تھکاوٹ اور سر درد:۔ دوسرے وائرل انفیکشن کے برعکس، کم زوری اور سر درد تمام وائرل انفیکشنز کا حصہ ہے۔
4) پٹھوں میں درد:۔ پٹھوں میں درد زیادہ تر آپ کی کمر اور ٹانگوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
5) گلے کی سوزش:۔ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ میں گلے میں درد اور انفیکشن ہوتا ہے۔ شدید حالتوں میں، مریض کو سینے میں تکلیف، نگلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اس طرح ناک بند ہونا بھی درجِ بالا علامات سے منسلک ہو سکتا ہے اور بعض اوقات بچوں میں پیٹ کے مسائل جیسے کہ قے اور دست کا عارضہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔
٭ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ کے پھیلاو کا طریقہ:۔ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ انفیکشن غیر معمولی طور پر متعدی ہے اور سانس کی بوندوں کے ذریعے موثر طریقے سے ایک فرد سے دوسرے تک پھیلتا ہے۔ یہ وائرس دوسرے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اگر کوئی متاثرہ شخص کھانستا ہے، چھینکتا ہے یا بولتا ہے۔ اپنے منھ، ناک یا آنکھوں سے آلودہ سطحوں کو چھونے سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے۔ انفلوئنزا اے وائرس کی یہ ذیلی قسم (ایچ تھری این ٹو) انتہائی متعدی سانس کی بیماری کے لیے ذمے دار ہے۔
٭ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ انفلوئنزا کی تشخیص:۔ زیادہ تر معاملات کی تشخیص طبی طور پر کی جاتی ہے۔ مرض پیدا کرنے والے جرثومے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے سانس کے نمونے اور لیبارٹری تشخیصی ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔
ٹیسٹ جو آپ کا ڈاکٹر تجویز کرسکتا ہے:
1) رئیل ٹائم RT-PCR کے لیے ناک یا گلے سے لعاب۔
2) ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ وائرس کا کلچر ٹیسٹ۔
3) اینٹی باڈیز کے ساتھ ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ وائرس کی جانچ۔
٭ علاج اور احتیاطی تدابیر:۔ معالجین ’’ایچ تھری این ٹو‘‘ انفلوئنزا کا علاج بنیادی طور پر اینٹی بائیوٹکس کے بہ جائے علامتی علاج سے کرتے ہیں، جیسے:
1) کافی مقدار میں پانی پئیں اور خوب کھائیں۔
2) کھانسی کے ساتھ، گرم نمکین غرارے اور بھاپ سے سانس لینے سے کان اور گلے کی تکلیف کو دور کیا جاسکتا ہے۔
٭ ایک اہم انتباہ:۔ ایک بات کا خیال رکھا جائے۔ خود ادویہ لینے یا ’’اینٹی بائیوٹک‘‘ یا ’’اینٹی وائرل‘‘ ادویہ شروع کرنے سے گریز کریں۔ کیوں کہ ان کے اثرات مضر ہو سکتے ہیں۔ یہ ادویہ ضروری بھی نہیں۔ تاہم، جب ضروری سمجھا جائے گا، آپ کا ڈاکٹر اینٹی وائرل ادویہ خود تجویز کردے گا۔
اس طرح اگر اعلا درجے کا بخار برقرار رہے، سانس لینا مشکل ہو جائے، یا "SpO2” کی سطح 94 سے نیچے گر جائے، تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔
٭ سانس کے آداب کی پیروی:۔ سانس کے آداب کی پیروی بہت ضروری ہے۔ ہر شخص، چاہے وہ متاثر ہو یا نہ ہو، جب بھی کھانسی یا چھینک آئے، تو اپنی ناک اور منھ کو ٹشو یا رومال سے ڈھانپنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح باہر نکلتے وقت ماسک ضرور پہنیں۔
٭ ہاتھ کی اچھی حفظان صحت پر عمل:۔ ہمیں چاہیے کہ ہاتھ کی اچھی حفظانِ صحت پر عمل کریں۔ اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونے چاہییں۔
٭ دیگر ضروری اقدامات:۔
1) اگر آپ بیمار محسوس کرتے ہیں تو خود کو الگ تھلگ کریں۔
2) اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر سال ویکسین لگوائیں۔
3) گندے ہاتھوں سے اپنے منھ اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔
قارئین! یاد رکھیں کہ اس وائرس (’’ایچ تھری این ٹو‘‘ ) پر قابو پانا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں ۔ صحتِ عامہ کے بنیادی اُصولوں پر عمل کرکے اور کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم اپنا اور اپنے عزیزوں کا علاج کرسکتے ہیں۔ کیوں صحت مند پھیپڑے صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










