ہمارے معاشرے میں آج کل خواجہ سرا برادری کے خلاف جو منظم نفرت، دباو اور محاصرے کا ماحول بن رہا ہے، وہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے، بل کہ انسانیت کے بنیادی اُصولوں کے بھی منافی ہے۔ کبھی انھیں گلیوں اور محلوں سے نکالنے کی آوازیں بلند ہوتی ہیں، کبھی ان پر ’’فحاشی‘‘ یا ’’جرائم‘‘ کے الزامات لگا کر اجتماعی سزا دینے کی کوشش کی جاتی ہے…… اور کبھی یہ تک کہا جاتا ہے کہ انھیں شہر بدر یا ضلع بدر کیا جائے۔ یہ طرزِ فکر اس بات کی علامت ہے کہ ہم بہ حیثیت معاشرہ اپنی کم زوریوں کا بوجھ صرف اس طبقے پر ڈال کر خود کو نیک ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
٭ معاشرتی تضادات اور دوہرا معیار:۔ اگر معاشرہ واقعی ’’فحاشی‘‘، ’’بے راہ روی‘‘ یا ’’جرائم‘‘ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے، تو سوال یہ ہے کہ یہ برائیاں صرف خواجہ سرا برادری میں ہی کیوں نظر آتی ہیں؟ کیا ہمارے مدرسوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے سنگین کیس منظرِ عام پر نہیں آئے؟ کیا گھروں، دفاتر، عدالتوں، اسپتالوں اور سیاسی حلقوں میں اخلاقی بگاڑ کے واقعات عام نہیں؟ اگر ایک مخصوص طبقے کے کچھ افراد اخلاقی غلطی کریں، تو پورے طبقے کو مجرم قرار دینا عدل نہیں، ظلم ہے۔ پھر اس منطق کے مطابق تو معاشرے کے ہر ادارے اور ہر طبقے کے خلاف اسی شدت کی مہم چلنی چاہیے ، مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہم صرف کم زور پر ہاتھ ڈالتے ہیں، کیوں کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
٭ خیر کے نام پر ظلم ایک اخلاقی دھوکا:۔ خواجہ سراؤں کے خلاف ’’خیر‘‘ کے نام پر چلائی جانے والی مہم دراصل خیر نہیں، بل کہ اپنی مذہبی یا سماجی نمایش کا ایک آسان راستہ ہے۔ طاقت ور طبقات اس کم زور کمیونٹی کو نشانہ بنا کر اپنے آپ کو ’’محافظِ اخلاق‘‘ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر واقعی خیر کا جذبہ ہوتا، تو وہ ان افراد کے لیے پناہ گاہیں، تربیتی مراکز، تعلیمی ادارے یا روزگار کے مواقع فراہم کرتے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کروڑوں روپے چندہ جمع کرنے والی بے شمار تنظیمیں موجود ہیں، لیکن پختونخوا، سوات یا ملک کے کسی حصے میں کوئی ایسا بڑا ادارہ قائم نہیں ہوا جہاں خواجہ سرا برادری کو تعلیم کا حق ملے۔ ان کے لیے ہنر سکھانے کا باوقار مرکز ہو۔ ان کو تحفظ، عزت اور قانونی معاونت مل سکے۔ اگر معاشرہ ان کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑے گا، تو پھر وہ مجبور ہو کر وہی کام کریں گے، جو معاشرہ انھیں کرنے پر دھکیلتا ہے۔
٭ اصل مسئلہ:معاشرتی رویے:۔ خواجہ سرا جرائم پیشہ نہیں ہوتے، انھیں جرائم کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ خواجہ سرا فحاشی نہیں پھیلاتے، معاشرہ انھیں عزت دار ماحول سے محروم کر کے ان راستوں پر مجبور کرتا ہے۔ انسان کو جب گھر، تعلیم، روزگار، تحفظ اور ایک شناخت نہ ملے، تو اس کا راستہ کون متعین کرتا ہے ؟ معاشرہ……!
یہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے، جو انھیں دائرے سے باہر رکھتا ہے، اور پھر الزام بھی انھیں پر لگاتا ہے ۔
٭ مذہبی اور انسانی زاویہ:۔ اسلام کسی بھی انسان کو اس کی پیدایشی ساخت کی بنیاد پر حقیر نہیں سمجھتا۔ نہ دین اجازت دیتا ہے کہ کسی کو گھر سے نکالا جائے، نہ یہ کہ اُسے باعزت زندگی سے محروم کیا جائے۔ خواجہ سرا اللہ کی قدرت کا حصہ ہیں، کسی کے امتحان، کسی کا رزق، کسی کے گھر کی آزمایش۔ ان کی تذلیل کرنا در اصل خدا کی تخلیق کا انکار ہے۔ اب یہ دعا کہ ’’اللہ ہر گھر میں کم از کم ایک خواجہ سرا پیدا کرے!‘‘ یہ جذبات نہیں، بل کہ ایک گہرا سماجی پیغام ہے۔ اگر ایسا ہو جائے، تو شاید معاشرہ سمجھ سکے کہ عزت کسی کی جنس سے نہیں، انسانیت سے بنتی ہے ۔
٭ آگے بڑھنے کا راستہ عملی تجاویز:۔ اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں، تو ہمیں درجِ ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:
1) حکومتی سطح پر پناہ گاہیں اور محافظ مراکز قائم کرنا۔
2) تعلیم اور ہنر مندی کے خصوصی ادارے۔
3) روزگار کے کوٹے اور قانونی تحفظ۔
4) میڈیا میں مثبت نمایندگی۔
5) عوامی سطح پر آگاہی مہم۔
6) مذہبی راہ نماؤں کی کردار سازی میں شمولیت۔
جب تک معاشرہ عزت، ہم دردی اور انصاف پر قائم نہ ہو، ہم کسی برائی کا خاتمہ نہیں کرسکتے۔
خواجہ سرا برادری ہمارے معاشرے کا وہ حصہ ہے، جو سب سے زیادہ کم زور ہے اور اسی لیے سب سے زیادہ ظلم کا شکار بھی ہے۔ انھیں شہر بدر کرنا مسئلے کا حل نہیں، بل کہ ہماری اجتماعی ناکامی کا اعتراف ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم ان کے لیے وہی حقوق، وہی ماحول اور وہی مواقع فراہم کریں، جو ہم اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں۔ یہ وقت نفرت پھیلانے کا نہیں، انسانیت کے امتحان میں سرخ رو ہونے کا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










