بھارت اور امریکہ کا دس سالہ دفاعی معاہدے کا فریم ورک آخرِکار دفاعی شراکت داری کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ کیوں کہ یہ سلسلہ کل یا پرسوں کا نہیں، بل کہ حقیقت میں پہلی بار 28 جون 2005ء کو بھارتی وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی اور امریکی سیکرٹری دفاع ’’ڈونلڈ رمسفیلڈ‘‘ (Donald Rumsfeld) نے واشنگٹن میں کیا تھا، جس کی یادداشت پر 12 جنوری 1995ء کو ہندوستانی وزیرِ داخلہ ’’شنکر راؤ چوہان‘‘ اور امریکی سیکرٹری دفاع ’’ولیم پارکر‘‘ (William Parker)نے دست خط کیے تھے۔
اس معاہدے کی تجدید 2015ء کو کوالالمپور میں بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر اور امریکی سیکرٹری دفاع ’’ایشٹن کارٹر‘‘ ( Ashton Carter) کے دست خطوں سے ہوئی اور اب 31 اکتوبر 2025ء کو ایک بار پھر اس معاہدے کی تجدید کوالالمپور میں امریکی سیکرٹری دفاع ’’پیٹ ہیگسیتھ‘‘ (Pete Hegseth)اور بھارتی وزیرِ دفاع ’’راج ناتھ سنگھ‘‘ کے دست خطوں سے ہوئی ہے۔
معاہدے کے بارے میں امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ ہم آہنگی، معلومات کے تبادلے ، تکنیکی تعاون، علاقائی استحکام میں اضافہ اور تنازعات کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دے گا۔
اس حوالے سے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ ہماری پہلے سے مضبوط دفاعی شراکت داری میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ دفاع ہمارے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون رہا ہے اور ہماری شراکت داری ایک آزاد، کھلے اور قواعد پر مبنی ہند بحرالکاحل خطے کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔
راج ناتھ سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ یہ دفاعی فریم ورک، ہندوستان -امریکہ دفاعی تعلقات کے تمام پہلوؤں کو پالیسی سمیت فراہم کرے گا اور اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے دور کی شروعات قرار دیا۔
معاہدے کے حوالے سے پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک تازہ پیش رفت ہے اور جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی اور استحکام پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ہم معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مذکورہ معاہدے کے حوالے سے بی بی سی کے نامہ نگار کے ایک سوال کے جواب میں یوریشیا گروپ کے تھنک ٹینک کے پرمیت پال چوہدری کا کہنا تھاکہ یہ معاہدہ رواں برس اگست میں مکمل ہونا تھا، لیکن پاکستان کے ساتھ تنازعات ختم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات پر انڈیا کی نارضی کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔
پرمیت پال چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے دیگر معاہدوں میں تازہ ترین ہے۔ اس سے دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان رابطہ بڑھے گا، انڈیا کو ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور دونوں فوجوں کے لیے دفاعی شعبے میں مل کر کام کرنا آسان ہو جائے گا۔
کہا جاتا ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان کو ’’ایف تھرٹی فائیو‘‘ (F-35) لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی راہ ہم وار ہو سکتی ہے، لیکن ہندوستان کا روس سے سستا تیل خریدنا اور روس کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات ٹرمپ انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
معاہدے کے حوالے سے ایشیا ایکسچینج فاؤنڈیشن کی ریسرچ فیلو ثناء ہاشمی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹویٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دراڑ ہے، لیکن کسی ایک لیڈر کی وجہ سے دونوں کے تعلقات مجموعی طور پر متاثر نہیں ہوتے۔ کیوں کہ ٹرمپ چار سال پورے کرکے چلے جائیں گے؛ اس تناظر میں دونوں کے درمیان جو معاہدے دست خط کیے گئے ہیں یا اس سے پہلے جو معاہدے ہوئے ہیں، وہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے لیے خاص طور پر دفاعی معاملات میں ہندوستان بہت اہم ہے۔
امریکہ کے نزدیک بھارت کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں، بل کہ جغرافیائی لحاظ سے بھی مرکزی ہے۔ بحیرۂ ہند، مشرقِ وسطیٰ خلیجِ بنگال اور جنوبی چین کے سمندر کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے امریکہ اس خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے ہندوستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے امریکہ نے ’’انڈو پیسفک اسٹریٹجی‘‘ کے نام سے ایک پالیسی ترتیب دی ہے، جس میں ہندوستان کو کلیدی کردار دیا گیا ہے ۔ یہ ڈیل محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بل کہ سیاسی خودمختاری کا امتحان ہے اور بھارت نے اسٹریٹجک خودمختاری کے نظریے پر ہمیشہ فخر کیا ہے۔
دوسری طرف اگر ہم امریکہ پاکستان تعلقات پر نظر ڈالیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی تھنک ٹینکس اور حکومتوں نے گذشتہ تین دہائیوں سے بھارت کو اسٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے دیکھا، جب کہ پاکستان کو عموماً وقتی ضرورت کے تحت استعمال کیا گیا اور تعلقات کو عارضی رکھا گیا۔ امریکی صدر ’’ٹرمپ‘‘ پاکستان کو خوش کرنے کے لیے پاکستانی وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کی تعریف کے علاوہ کچھ واضح اقدامات کرتے نظر نہیں آئے ۔ امریکہ نے ایک طرح سے پاکستان کو جنگی جہاز گرانے اور خالی خولی تعریفوں پر ورغلایا، جب کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں مصروف رہا۔
عام خیال ہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ امریکہ کی حمایت کے بعد کیا۔ پھر جب امریکہ کو ہندوستان کی واضح شکست نظر آنے لگی، تو جنگ بندی کے لیے حرکت میں آگیا۔ ہندوستان نے امریکہ اور اسرائیل کو افغانستان میں بگرام ایئر بیس حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے نتیجے میں چابہار بندرگاہ پر پابندی سے چھے ماہ کا استثنا بھی مل گیا تھا۔
اس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اپنے بیانات میں 7 مئی 2025ء کو پاکستان کے ذریعے ہندوستان کے 7 جنگی جہاز گرانے کا بار بار اعلان کرتے رہے، جس کا مقصد بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔ دوسری طرف ہندوستان نے ظاہری طور پر ٹرمپ کے مذکورہ بیانات کو تسلیم نہیں کیا۔
اب اگر اس تمام تر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ چین کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیوں کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی جاری ہے۔ ایسے موقع پر ہندوستان کو کھلے عام عسکری تعاون فراہم کرنا چین کے لیے ایک بڑا اور واضح اسٹریٹجک چیلنج ہے۔
ہماری اپنی حالت یہ ہے کہ حکم ران اور ریاستی ادارے، پاکستان تحریکِ انصاف کو منظر سے ہٹانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ اُنھیں ملکی مفادات کی کوئی پروا نہیں۔ ایسے حالات میں حکم رانوں اور ریاستی اداروں کو سیاست دانوں کو راستے سے ہٹانے کے بہ جائے ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ورنہ پھر ہمیں حرفِ غلط کی طرح مٹنے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










