سردی کی ایک خنک صبح تھی۔ وہ گرم پانی سے نہا دھو کر ’’میس‘‘ میں ناشتا کرنے بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی ہیٹر جل رہا تھا۔ سردی کی شدت کچھ کم ہورہی تھی۔ گرم چائے کی چسکی سے ماحول مزید خوش گوار بن رہا تھا۔ موصوف ایک سرکاری جامعہ میں پڑھاتے ہیں اور دوسری سرکاری جامعہ میں پی ایچ ڈی کے طالبِ علم ہیں۔ اس لیے ہر ہفتے کچھ دنوں کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ انسانوں اور حیوانوں میں ایک فرق ’’قوتِ نطق‘‘ یعنی گویائی کا بھی ہے ، اسی لیے انسان کو حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ جہاں دو یا دو سے زیادہ انسان موجود ہوں، وہاں باتوں کا ہونا حیران کن نہیں، البتہ مکمل خاموشی ضرور سوالیہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے موصوف نے بلا وجہ ارشاد فرمایا:’’اس ملک نے ہمیں کیا دیا ہے؟‘‘
ہم سب سننے والے ہمہ تن گوش ہوگئے۔ ہر کسی نے مقدور بھر ردِعمل دیا، کسی نے مُثبت، کسی نے منفی۔
پہلے پہل میں نے از راہِ تفنن کہا کہ بہ قول ایک سابق وزیرِاعظم کے: ’’اگر آپ اس ملک میں حد درجہ مایوس ہیں، تو کہیں اور چلے جائیں۔‘‘ میرا مقصد تھا کہ بات ختم ہوجائے، مگر موصوف نے چہرے پر ناگوار تاثرات کے ساتھ دوبارہ ارشاد فرمایا: ’’اس ملک میں ظلم ہورہا ہے، ہمیں اپنے صوبے میں وافر مقدار میں پیدا ہونے والی گیس تک میسر نہیں، جب کہ فُلاں صوبے کے کونے کونے تک گیس کی دست یابی یقینی بنائی گئی ہے۔‘‘
مَیں نے جواباً عرض کیا: ’’حضور! فُلاں صوبے یا مرکز کے کس ادارے یا شخص نے آپ کے صوبے کے ذمے داران کو کہا ہے کہ اپنے لوگوں کو گیس سمیت دیگر سہولیات سے محروم رکھیں؟‘‘
جواب تو نہ ملا، البتہ پینترا بدلتے ہوئے صاحب بولے : ’’فُلاں صوبے میں اتنی زیادہ جامعات ہیں کہ اس کے مقابلے میں ہمارے صوبے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘
عرض کیا: ’’ملک آزاد ہونے سے لے کر سنہ 2000ء تک آپ کے صوبے میں صرف دو جامعات اور ایک میڈیکل کالج تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ صرف سرکاری جامعات کی تعداد 10 سے زیادہ ہے، جب کہ ایک میڈیکل یونیورسٹی اور پانچ میڈیکل کالج قائم ہوچکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ریاست اور حکومت کم زور سہی، مگر کچھ نہ کچھ کر رہی ہے، اور بہتری آہستہ آہستہ آرہی ہے۔
یہ سن کر موصوف ایک اور شاخ کی طرف اُڑ بیٹھے، بولے:’’شمال اور جنوب کے صوبہ جات میں حالات خراب ہیں، لوگوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔‘‘
مَیں نے پوچھا: ’’شمال والے صوبے کے کن علاقوں میں گئے ہو؟‘‘
جواب ملا: ’’کسی میں بھی نہیں۔‘‘
مَیں نے پھر پوچھا: ’’تو پھر آپ کو کیسے معلوم کہ وہاں ظلم ہورہا ہے؟‘‘
جواب ملا: ’’سب واضح ہے۔‘‘
مَیں نے کہا: ’’مَیں تو خود شمال سے ہوں، مگر ایسی حالت نہیں، جو آپ بتا رہے ہیں۔‘‘
کہنے لگے: ’’پھر آپ کے بھائی بند ضرور اس ادارے میں ہوں گے، جو سیاہ و سپید کے مالک ہیں۔‘‘
مَیں نے عرض کیا:’’اُس ادارے سے تو کوئی تعلق نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ اُس ادارے کو بھی آپ ہی کی طرح حقائق سے انکار ہے۔ لہٰذا وہ بھی ناچیز کو پسند نہیں کرتے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔‘‘
خیر، بات سے بات نکلتی گئی۔ میرا دوست جو چائے پی رہا تھا اور سردی میں ہیٹر کی حدت سے لطف اندوز ہورہا تھا، کسی بات کا معقول جواب دینے سے کتراتا رہا۔ آخر میں اس نے یہ بھی کہا: ’’گیس تو ہمارے صوبے میں زیادہ پیدا ہورہی ہے ، مگر یہاں کے عوام کو نہیں مل رہی۔‘‘
مَیں نے عرض کیا:’’پیارے ! اس وقت گیس کی پیداوار میں آپ کا صوبہ نہیں، بل کہ ایک اور صوبہ سرِفہرست ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا کی سنسنی خیزیوں سے نکل کر حقائق کا ادراک کیجیے، تو ممکن ہے آپ کی مایوسی خوش اسلوبی سے ختم ہوجائے۔‘‘
طویل بحث کے بعد موصوف نے کہا: ’’اس ملک سے میری مراد وہ بڑا صوبہ (پنجاب) ہے جو ہمارے ساتھ ظلم کرتا ہے۔‘‘
مَیں نے جواباً پوچھا:’’اُس صوبے کے کس حکم ران نے آپ کے کس حکم ران کو کہا ہے کہ اپنے عوام کو محکوم رکھو…… یا کس صاحبِ حیثیت کو کہا ہے کہ اپنے علاقے میں اسکول نہ بننے دو؟‘‘
دوست کی طرف سے خاموشی پر اکتفا کیا گیا۔پھر چائے کا ایک اور دور چل پڑا، تو مَیں نے آخر میں یہ بات سامنے رکھ دی کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ایک سرکاری جامعہ میں پڑھانے والا اور پی ایچ ڈی کرنے والا شخص بھی حقائق سے اتنا نابلد ہے کہ خود مایوسی کی انتہا پر ہے…… تو وہ اپنے قوم کے بچوں کو مایوسی کی کس پاتال تک پہنچائے گا؟
قارئین! یہ اس ملک کے کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں۔ چھوٹے صوبوں میں اکثر نوجوانوں کو میڈیا کے پروپیگنڈوں کے ذریعے ورغلایا گیا ہے اور اُنھیں تصوراتی و تاریخی مغالطوں کے جال میں پھنسایا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صاحبانِ اختیار ابلاغِ عامہ کے ذریعے حقائق کی تشہیر کو یقینی بنائیں، تاکہ عوام کو حالات کا درست ادراک ہو۔ ساتھ ہی آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ دشمن کے نظریاتی وار کا موثر جواب دیا جا سکے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بہ حال اور پختہ تر ہوجائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










