ہمیں جب بھی پشاور یا اسلام آباد کے لیے رختِ سفر باندھنا ہوتا، تو اولاً گاڑی میں تیل ڈلواتے، ثانیاً ٹائروں میں ہوا بھرواتے اور ثالثاً پیٹ کی پوجا پاٹ کرتے۔ سو، تیل جہاں سے بھی ڈلواتے اور ہوا جہاں سے بھی بھرواتے، اس پہ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، مگر ناشتا ہمیشہ ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ ہی پر ہوتا۔
ٹرکونو ہوٹل ہی کیوں؟
تو وہ اس لیے جناب! کہ وہاں آج بھی گیس کے چولھے کی جگہ مٹی کے چولھے پر لکڑیاں سلگ رہی ہوتی ہیں۔ چائے دانی میں گُڑ والی چائے کی خوش بو اُڑ اُڑ کر ہوا کے دوش پر سوار ہوتی ہے، اور سفر کرتے کرتے جب آپ کے نتھنوں کے ذریعے آپ کی حسِ شامہ کو چھیڑتی ہے، تو آپ کی ’’رگِ اشتہا‘‘ پھڑکنے میں ایک بھی لمحہ دیر نہیں لگتی۔ پھر جب بھاپ اُڑاتی لب ریز، لب سوز و لب دوز چائے کی پیالی آپ کے سامنے رکھی جاتی ہے اور آپ اسے اُٹھا کر ہونٹوں سے لگاتے ہیں، تو اولین ’’پُرشور چسکی‘‘ ہی آپ کے دماغ کی بتی جلانے کے لیے کافی شافی ہوتی ہے۔
ناشتے میں ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ کے نان چھولے کا جواب نہیں۔ وہاں خدمت پر مامور لڑکے جب بھی پلیٹ سامنے رکھتے ہیں، تو چھولے کے اوپر روغنی تہہ، اس کے اوپر کالی مرچ کی تہہ اور ساتھ تندور کی گرما گرم نان کی خوش بو ایسی بھوک جگاتی ہے کہ ہاتھ خود بہ خود اس خوش ذائقہ پلیٹ کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
90ء کی دہائی میں گھر کے بڑوں کے ساتھ جب ضلع سے باہر جانے کا قصد ہوتا، تو ہر جگہ کھانا ٹرکونو ہوٹل ہی میں کھانے کو ترجیح دی جاتی۔ جتنا مجھے یاد ہے، اُس کے مطابق بریکوٹ کے ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ کی طرح جی ٹی روڈ پر تقریباً ہر ضلعے میں دو دو تین تین ایسے ہوٹل چوبیس گھنٹے سروس دیتے تھے۔ ایسے ہی ایک سفر میں، مَیں نے اپنے چچا رسول خان (اپنے وقت کا جانا اور مانا ڈرائیور) سے پوچھا کہ آپ ناشتے یا کھانے کے لیے ٹرکونو ہوٹل ہی کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ تو ان کا جواب بڑا مدلل تھا کہ ’’جہاں بھی کوئی ٹرکونو ہوٹل ہو، تو وہاں بلا جھجھک کھانے کے لیے جانا چاہیے، کیوں کہ کسی بھی ایسے ہوٹل میں ایک وقت کا تیار کردہ ناشتا یا کھانا دوسرے وقت تک نہیں بچتا۔ یہاں ہر وقت تازہ بہ تازہ خوراک کھانے کو ملتی ہے۔
جتنا مجھے یاد پڑتا ہے، مجھے تو ایسے کسی بھی ہوٹل میں باسی کھانا کھانے کو نہیں ملا۔
اب تو خیر زمانہ بدل چکا ہے۔ موٹر وے اور فاسٹ فوڈ برانڈز نے پرانے ذائقوں کی جگہ لے لی ہے، مگر دل اب بھی اُس مٹی کے چولھے کی چائے کو یاد کرتا ہے۔ شاید ہمارے بعد آئی ہوئی نسل اُس ذائقے سے واقف نہ ہو، مگر ہم جیسے مسافروں کے لیے ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ صرف ایک ہوٹل نہیں، ایک یاد ہے…… گُڑ والی چائے کی خوش بو میں بسی ہوئی یاد۔










