انسانی زندگی محض جذبات یا محض سختی پر نہیں چل سکتی، بل کہ اس کے لیے نرمی اور قوتِ فیصلہ دونوں لازم ہیں۔ ہم دردی دل کی خوب صورتی ہے اور قوتِ فیصلہ عقل کی روشنی۔ جب یہ دونوں مل کر کام کریں، تو ایک ایسی زندگی جنم لیتی ہے، جو نہ صرف فرد کے لیے، بل کہ معاشرے کے لیے بھی باعثِ سکون اور ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہی اُصول صرف افراد کے لیے نہیں، بل کہ قوموں اور تحریکوں کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ہم دردی انسان کو دوسروں کے دُکھ درد کو محسوس کرنے اور اُن کا مداوا کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ یہی جذبہ معاشرتی رشتوں اور قوموں کے درمیان اعتماد پیدا کرتا ہے۔ مظلوم قومیں جب ظلم کا شکار ہوتی ہیں، تو اُن کے ساتھ اظہارِ ہم دردی اور یک جہتی نہ صرف انسانی عظمت کی مثال ہے، بل کہ عالمی امن کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ دشمن کے زخم پر مرہم رکھنا صرف افراد کے لیے نہیں، بل کہ اجتماعی سطح پر بھی ضروری ہے، تاکہ نفرت اور بداعتمادی کو کم کیا جاسکے۔
زندگی ہمیشہ ہم وار نہیں رہتی۔ بعض اوقات ایسے حالات آ جاتے ہیں، جہاں صرف نرم رویہ یا احتجاج کافی نہیں ہوتا۔ مظلوم قومیں جب اپنے حقوق کے لیے اٹھتی ہیں، تو اُنھیں محض ہم دردی پر قناعت نہیں کرنی چاہیے، بل کہ بروقت اور مضبوط فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ بہ صورتِ دیگر اُن کی قربانیاں رائیگاں جا سکتی ہیں۔ قوتِ فیصلہ ہی وہ ہتھیار ہے، جو مظلوم تحریکوں کو انصاف دلا سکتا ہے اور اُن کے مستقبل کو محفوظ بناسکتا ہے۔
اصل کمال یہ ہے کہ افراد اور قومیں نیکی اور طاقت دونوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ مظلوم تحریکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جد و جہد میں انسانی اقدار اور اخلاقی برتری کو قائم رکھیں، تاکہ دنیا اُن کی آواز کو حق سمجھے…… لیکن ساتھ ہی اُنھیں اتنی طاقت اور حکمتِ عملی بھی رکھنی چاہیے کہ وہ ظلم و جبر کے سامنے ڈٹ سکیں۔ نیکی اور طاقت کا یہ امتزاج ہی اُنھیں کام یابی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ طاقت کا استعمال اگر حدود سے تجاوز کر جائے، تو وہ ظلم میں بدل جاتا ہے، چاہے وہ کسی مظلوم تحریک کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اگر صرف ہم دردی اور صبر پر اکتفا کیا جائے، تو ظالم کو مزید شہ ملتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر قدم انصاف، قانون اور انسانی وقار کے مطابق ہو، تاکہ تحریک کا مقصد خالص رہے اور دنیا بھی اسے جائز سمجھے۔
زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ ہم ہم دردی اور قوتِ فیصلہ دونوں کو اپنائیں۔ دشمن کے زخم پر مرہم رکھنا انسانیت ہے اور غیر متوقع خطرے کے وقت مضبوط قدم اُٹھانا بقا کی ضرورت۔ یہی اصول آج مظلوم قوموں اور اُبھرتی تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر وہ نیکی اور طاقت کے درمیان توازن قائم کرلیں، تو نہ صرف اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں، بل کہ دنیا میں ایک منصف، پُرامن اور باوقار نظام کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










