میونسپل کمیٹی مینگورہ (کل اور آج)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مجھے مینگورہ شہر کی 90ء کی دہائی والی میونسپل کمیٹی کچھ اس طرح یاد ہے، جیسے ابھی کل پرسوں وہاں سے ہوکر آیا ہوں۔ روڈ کی طرف سے اس کے دو بڑے دروازے تھے۔ آپ جیسے ہی اندر قدم رکھتے، وہاں کی ہری بھری گھاس آپ کی آنکھوں کو تراوت بخشتی۔ گھاس کے اُن قطعوں کے اردگرد کیاریاں اور اُن میں کھڑے پودے گویا باؤنڈری وال کا کام دیتے۔
اُس وقت کی میونسپل کمیٹی میں قائم لائبریری سے کبھی کتاب حاصل نہیں کی۔ ہم مینگورہ بازار کی دکانوں کے تھڑوں پر سجائی گئی چار آنے، آٹھ آنے اور روپے والی کتب (جو بیش تر کہانیوں پر مشتمل اور غیر مجلد ہوتیں) پر اکتفاکرتے۔ اس لیے آج کی تصویر کہانی میں شامل عکس میں دکھائی دینے والی لائبریری کے حوالے سے صرفِ نظر کرکے آگے جاؤں گا۔
تصویر میں نمایاں یہ عمارت اور اس کے آگے چمن دراصل 90ء کی دہائی میں میونسپل کمیٹی مینگورہ کی خوب صورتی کو چار چاند لگاتے تھے۔ روڈ کی طرف سے دیوار اتنی اونچی نہیں تھی۔ دس بارہ سالہ لڑکا بھی گردن اٹھا کر بہ آسانی عمارت کے اندر کا جائزہ لے سکتا تھا۔ عمارت کے اندر والے ستونوں کی شان اور برآمدوں میں گونجتی گہماگہمی شہر کے مستقبل کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ یہاں لوگ اپنی چھوٹی بڑی اُمیدیں لے کر آتے، فائلوں کی ریل پیل، کورے کاغذ کی سرسراہٹ اور قلم کی سیاہی فیصلوں کو جنم دیتی…… مگر پھر نہ جانے کس کو یہ خام خیال چرا کہ ہری بھری گھاس کے قطعوں، کیاریوں ا ور مشامِ جاں کو معطر کرتے پودوں کی جگہ کنکریٹ کا جال بچھایا جائے، تو کمیٹی ترقی کرلے گی۔ نتیجتاً اس خوب صورت عمارت کی حدود میں ایک عجیب شکل کا پلازہ کھڑا کیا گیا، جہاں باؤلے کتے رات بھر گاڑیوں کے پیچھے بھاگنے کے بعد نور کے تڑکے کے ساتھ میونسپل کمیٹی کی ملکیتی پلازے میں آکر ’’محوِ استراحت‘‘ ہوجاتے ہیں۔
عمارت کا تصویر میں دکھائی دینے والا حصہ پھر بھی ایسا تھا کہ کم از کم اسے دیکھ کر پرانی عمارت کی یاد ہی تازہ ہو جاتی…… مگر پھر 15 اگست 2025ء کو ہول ناک سیلاب نے یہ عیاشی بھی ہم جیسے دیگر یادوں کے اسیروں سے چھین لی۔
اب یہ عمارت شکستہ کھڑی ہے، اس سے سیلاب کی بدبو آرہی ہے، کھڑکیاں خالی آنکھوں کی طرح خلا کو تکتی ہیں اور چھت گویا آسمان کے بوجھ تلے دب سی گئی ہے۔ یہ منظر صرف عمارت کی بربادی کا نہیں، بل کہ ایک عہد کی شکستگی کا ہے۔ پانی اُتر گیا، لیکن ملبے پر بکھری یادیں اب بھی چیخ رہی ہیں۔ 90 ء کی دہائی میں جو ادارہ زندگی کی علامت تھا، آج بھوت بنگلے کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے