وادیِ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں 25 اگست 2025ء کی افسردہ دوپہر، سہ پہر میں تبدیل ہونے کو ہے۔ 10 روز قبل آنے والے سیلاب کی تباہی و بربادی کے نشان بکھرے پڑے ہیں ۔ چہار سو مٹی اور دھول کا راج ہے۔ فضا پٹرول کے دھویں کے زہریلے اثرات سے مرجھا چکی ہے۔ ٹریفک کا نظام شدید درہم برہم ہے۔ پانی، بجلی اور گیس کی سپلائی لائنیں معطل ہیں۔ ہر چہرہ مغموم اور ہر ذی روح حالتِ سوگ میں ہے۔
ایسے گھمبیر حالات میں ایک بندۂ خدا سجے سجائے پُررونق شہر اسلام آباد سے اپنے شہر کا احوال جاننے کے لیے یہاں تشریف لائے ہیں۔ وہ مہمان بھی ہیں اور میزبان بھی۔ ہم اُن سے ملنے سروش اکیڈمی، مکان باغ جا رہے ہیں۔ راستے میں شریف آباد، لنڈیکس اور چینہ مارکیٹ کے گلی کوچوں سے گزرتے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پانی کے ریلے مکان، دکانیں اور خواب سب کچھ بہا لے گئے۔ آدھے شہر کی گلیاں اور مکانات اب بھی ریت، مٹی اور پتھروں سے اَٹے پڑے ہیں۔ لوگ سرکار کے ’’رنگیلوں‘‘ کو بھول کر اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ بہ حالی کے کام میں سرگرداں ہیں۔ جیسے شہد کے چھتے میں ہر مکھی کسی نہ کسی کام پر مامور رہتی ہے، اُسی طرح یہاں بھی مرد، عورتیں اور بچے بیلچہ، کدال اور جھاڑو سنبھالے صفائی اور دیگر کاموں میں جتے ہیں۔ ہاتھ اور کپڑے کیچڑ سے آلودہ، بدن تھکاوٹ سے چور چور…… مگر دلوں میں زندگی کا پہیہ دوبارہ چلانے کا عزم ہے۔
لنڈیکس میں ایک خاتون اپنے 7 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر کا ملبہ ٹوٹی دیوار کے باہر نکال رہی ہے۔ ہمیں دیکھتے ہی کہتی ہے: ’’بس بدن پر یہ کپڑے بچے ہیں، باقی سب کچھ پانی بہا لے گیا۔‘‘ خاتون کی آنکھوں کا درد لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
اسی علاقے میں ’’خپل کور ماڈل سکول‘‘ کی وسیع و عریض عمارت ہے ،جہاں یتیم اور بے سہارا بچوں کے خواب پلتے ہیں۔ یہاں کا بہت سا سامان سیلاب بہا لے گیا، لیکن کام کرتے ہوئے بچوں کی آنکھوں میں اعتماد کی روشنی جھلک رہی ہے۔ اُن کی مسکراہٹ کہتی ہے کہ تعلیم کا چراغ بجھے گا نہیں۔ اُنھیں یقین ہے کہ سکول کے ڈائریکٹر محمد علی خان، جو خود کو ’’بھکاری‘‘ کہتے ہیں، مگر دراصل آہنی ارادوں کے مالک ہیں،وہ اس ادارے میں دوبارہ روح پھونک دیں گے۔
چینہ مارکیٹ کا ایک دکان دار مٹی کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔ ریشمی قالین کیچڑ میں ریشوں کی طرح بکھرے ہیں۔ وہ آہستہ کہتا ہے: ’’شکر ہے جان بچ گئی۔ باقی تو 20 برس کی کمائی تھی، جو سیلاب بہا لے گیا۔‘‘ یہ جملہ پورے شہر کی کہانی سناتا ہے۔
اسی دوران میں ہمیں مہر فاؤنڈیشن کے رضاکار دکھائی دیتے ہیں۔ ادارے کا روحِ رواں محمد عالم دن رات متاثرین کے درمیان رہتا ہے۔ پتا نہیں یہ شخص آرام بھی کرتا ہوگا یا نہیں……! کہیں سامان بانٹتا ہے، کہیں ملبہ ہٹاتا ہے، کہیں کسی کو نقدی دیتا ہے یا پھر حوصلہ۔ محمد عالم جیسے لوگ اصل میں اُمید کے چراغ ہیں، جو اندھیروں میں روشنی بانٹتے ہیں۔
اسی لنڈیکس میں ہمارے مرنجاں مرنج دوست پروفیسر محمد روشن کا آستانہ بھی ہے۔ اللہ نے اُنھیں بڑے نقصان سے بچالیا، مگر وہ اپنے محلے کی صفائی اور متاثرین کی دل جوئی میں پیش پیش ہیں۔ اُستاد کا یہ عملی کردار طلبہ کے لیے جیتی جاگتی مثال ہے۔
حاجی بابا روڈ پر ایک دیہاتی ملا، عبداللہ…… ایک ہاتھ میں کپڑوں کا گٹھا اور دوسرے میں کدال تھی۔ پوچھا:’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ مسکرا کر بولا: ’’چینہ مارکیٹ کے متاثرین کے پاس جا رہا ہوں، اب تو خدمت فرضِ عین ہے۔‘‘ اُس کے لہجے کی سچائی دل کو چھوگئی۔ یہی جذبہ تبلیغی جماعت کے بھائیوں اور مدرسوں کے بچوں میں بھی نظر آتا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار پہلے دن سے سرگرم ہیں۔ مکان باغ میں اُن کا میڈیکل کیمپ لگا ہے، جہاں ڈاکٹر اور نوجوان مریضوں کو علاج اور ادویہ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ گاؤں سلام پور کے درجنوں رضاکار بھی کارِ خیر کی اس دوڑ میں یوں منہمک ہیں کہ ہمارے ساتھ بات کرنے کے لیے بھی اُن کے پاس وقت نہیں۔ یہ منظر صاف بتاتا ہے کہ سوات کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں، نہ کہ ’’نام نہاد حکومتی نمایندے۔‘‘
سروش اکیڈمی میں احمد شاہ صاحب کے دفتر میں اُس مہمان سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوتی ہے، جو کئی دنوں سے سیلاب زدگان کے ساتھ عملی طور پر کام میں مصروف ہونے کے باوجود تروتازہ ہیں۔ وہ کیچڑ بھری گلیوں میں چلتے، ملبہ اُٹھاتے، متاثرین کی دل جوئی کرتے اور کام کرنے والے رضاکاروں کو موبائل کیمرے کے ذریعے دنیا کو دکھاتے ہیں۔ اُن کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نہیں۔ اُنھیں دیکھ کر ایک کتاب ’’بتیس برس امریکہ میں‘‘ کا ایک زندہ و تابندہ جملہ یاد آتا ہے: ’’نافع شخص کو کوئی قوم ضائع نہیں کیا کرتی۔ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، محبت بانٹتا ہے اور دکھوں کا سہارا بنتا ہے۔‘‘
احسان الحق حقانی، جنھیں لوگ محبت سے ’’بابو‘‘ کہتے ہیں، ایسے ہی گنے چنے لوگوں میں سے ہیں۔ وہ نوکری کے سلسلے میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ اُنھوں نے وہاں کی خوب صورتی کا خمار نہیں دیکھا، لیکن یہاں کے مصائب و مشکلات ضرور دیکھی ہیں۔ جب بھی کوئی آفت نازل ہوتی ہے، تو وہ وہاں سے دوڑ کر اپنے سوات پہنچ جاتے ہیں۔ سوات کے عوام ایسے نافع لوگوں کو یاد رکھیں گے۔
سرکار کی غیرسنجیدگی اور ’’نام نہاد عوامی نمایندوں‘‘ کی مجرمانہ غفلت کے باوجود انسانیت کا تقدس ابھی قائم ہے۔ مینگورہ شہر اُجڑا ضرور ہے، مگر زندہ ہے۔ لوگ مکان، دکان اور کھیت کھو بیٹھے ہیں، مگر حوصلہ اور عزم اب بھی قائم ہے۔ محترم احسان الحق حقانی، محمد علی خان، محمد عالم اور پروفیسر محمد روشن جیسے نافع لوگ، الخدمت فاؤنڈیشن، مہر فاؤنڈیشن، دیہی علاقوں کے رضاکار اور عام شہری یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ابھی اُمید کا دیا جگمگا رہا ہے اور یہی ہماری اصل طاقت ہے۔
یہ اُن چند ساتھیوں کا ذکر ہے، جنھیں ہم نے بہ چشمِ خود کام کرتے دیکھا، جب کہ ان کے علاوہ بھی کئی دوست خدمتِ خلق میں مصروف ہیں، جو نہ نام کے طلب گار ہیں نہ انعام کے…… کوشش ہے کہ اُن کا بھی ذکر ہو جائے ، ان شاء اللہ!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔











5 Responses
کسی کو اپنی تعریف کرتے دیکھتا ہوں تو بخدا، شرمندہ ہوتا ہوں اور بعض اوقات شک میں پڑتا ہوں کہ بندہ مذاق تو نہیں اڑا رہا. میں نے اتنی خدمت تو کی ہوگی جتنا ایک بلبل کی چونچ میں پانی آتا ہے. خانجی کے یہ الفاظ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے. اللہ قبول فرمائے آمین
بہت ہی عمدہ خاکہ پیش کیا ہے۔ یقینن عام عوام ہی ہمارے معاشرے کی خوبصورتی ہے-
یہ تعریف نہیں، بخدا، وطن کی مٹی کے ساتھ آپ کی بیسیار محبت اور اس کے باسیوں کے لئے آپ کے کرب کا ہمیں شدت سے احساس ہے۔ اس احساس کا کسی نہ کسی طرح اظہار ہونا چائیے۔
شکریہ سعید خان۔ بالکل بجا ارشاد۔
شکریہ سعید خان۔ بالکل بجا ارشاد۔