پانی کے طوفان اور دلوں کے چراغ

Blogger Syed Asrar Ali

بونیر میں قیامت خیز سیلاب آیا اور اپنے ساتھ سب کچھ بہاکر لے گیا، تو طعنہ دیا گیا کہ ’’پیربابا رحمۃ اللہ علیہ کہاں گئے ؟‘‘
لاہور پانی میں ڈوبا، تو زبانوں سے تیر برسنے لگے کہ ’’علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے کیا کیا؟‘‘
قصور میں جل تھل ایک ہوا، تو طنز ابھرا،’’ بلھا شاہ کتھے اے ؟‘‘ (بلھے شاہ کہاں ہے ؟)
پاکپتن کی زمینیں زیرِ آب آئیں، تو سوال اُٹھا:’’ بابا فرید چُپ کیوں پئے ہیں؟‘‘ (بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ خاموش کیوں ہیں؟)
قادر آباد میں پانی چڑھا، تو جملہ تراشا گیا: ’’سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کچھ نہ کرسکے۔ ‘‘
اب سوال یہ ہے کہ کیا سید علی شاہ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر تھے ،جنھوں نے بارش کی پیش گوئی کرنی تھی؟
کیا حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہوزارتِ آبی وسائل کے سربراہ تھے، جنھوں نے ڈیم اور بیراج بنانے تھے؟
کیاسید عبداللہ شاہ قادری یعنی بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین تھے، جنھوں نے سیلاب سے بچاو کی منصوبہ بندی کرنی تھی؟
شیخ فریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہوفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی تھے، جنھوں نے گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج اڈاپٹیشن پر پالیسی مرتب کرنی تھی؟
کیا سلطان العارفین، سلطان باہو بن بازید محمد رحمۃ اللہ علیہ محکمۂ انہار (آب پاشی) کے سیکرٹری تھے، جنھوں نے نہروں اور بندوں کی دیکھ بھال کرنی تھی؟
اگر یہ سب کچھ ان بزرگوں کا کام نہیں تھا، تو پھر طنز ان پر کیوں؟
کیا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ ادارے کہاں تھے، جنھیں عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے؟ محکمۂ انہار کیوں سویا رہا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی اداروں کی پیشگی وارننگ کہاں گئی، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے موسمی تغیرات پر کیا حکمت عملی بنائی اور مقامی حکومتیں نالے صاف کرنے اور تجاوزات ہٹانے میں کیوں ناکام رہیں؟ مگر افسوس یہ ہے کہ اصل ذمے داروں پر زبانیں بند ہو جاتی ہیں اور آسان نشانہ یہ بزرگ بن جاتے ہیں، جن کا یہ کام سرے سے تھا ہی نہیں اور نہ کبھی انھوں نے ایسا دعوا ہی کیا۔
اولیائے کرام ومشائخِ عظام کا کام بند باندھنا نہیں تھا، بل کہ جہل کے سیلاب کو روکناتھا۔ ان کا فرض ڈیم بنانا نہیں تھا، بل کہ انسان کو انسان بنانا تھا۔ وہ نہریں نہیں کھودتے تھے، بل کہ محبت اور قربانی کے چشمے جاری کرتے تھے۔ ان کا مقصد سیلاب کے ریلے روکنا نہیں تھا، بل کہ دلوں کی خشکی کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سیراب کرنا تھا۔ وہ تجاوزات ہٹانے والے نہ تھے، بل کہ معرفت کے راستے میں کھڑی دیواروں کو گرانے والے تھے۔ اگر طنز کرنے والے انصاف کریں، تو انھیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ان بزرگوں نے وہی کام کیا، جو ان کے ذمے تھا…… اور ایسا کیا کہ صدیوں بعد بھی ان کے فیض کے چراغ بجھ نہ پائے۔
طنز کرنے والوں کو اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے گنتی کے چند جاہل مریدوں کے بہ جائے ان بزرگوں کو مخاطب کرکے طنز کیا اور مذاق اڑاکر کروڑوں مریدوں اور چاہنے والوں کے جذبات و عقیدت کو ٹھیس پہنچایا۔ انھیں شاید معلوم نہ ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ توحید کے سب سے بڑے علم بردار یہی بزرگانِ دین تھے۔ حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کشف المحجوب‘‘ میں لکھا ہے کہ توحید یہ ہے کہ بندہ غیر اللہ سے دل خالی کرے اور صرف اسی پر بھروسا کرے۔یہی وہ تعلیم تھی جس نے دلوں سے شرک کے اندھیرے مٹا دیے۔وہ فرماتے تھے کہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بغیر کوئی ولایت مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خانقاہ میں ذکر و اذکار کے ساتھ نعت و درود کی صدائیں بلند رہتیں۔ انھوں نے خدمتِ خلق کو تصوف کا حاصل قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی خانقاہ بھوکوں اور مسافروں کے لیے پناہ گاہ بنی۔ ان کے حسنِ اخلاق اور عدل سے متاثر ہو کر کئی غیر مسلم اسلام میں داخل ہوئے۔ کیا ایسے بزرگ پر طنز کے نشتر پھینکنا مناسب ہے؟
سید عبداللہ شاہ قادری یعنی حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی بات کریں، تو انھوں نے تو برملا اعلان کیاکہ ’’ساچّا رب دل اندر وسدا، لوکاں کہندے مَکّے وچ وسدا۔‘‘ یعنی سچا رب دل کے اندر بستا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ وہ مکہ میں بستا ہے۔
یہ ایک سادہ مگر انقلابی سبق تھا کہ خدا رسومات میں نہیں، بل کہ دل کی پاکیزگی میں ہے۔ وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایمان کی شرط سمجھتے تھے اور بار بار کہتے کہ نجات کا دروازہ اسی غلامی سے کھلتا ہے ۔ انھوں نے انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھایا، طبقاتی امتیازات کے خلاف علم بلند کیا اور بتایا کہ اللہ کی رضا بندوں سے محبت اور ان کی خدمت میں ہے ۔ بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام میں کم زوروں پر شفقت اور حیوانات پر رحم کے اشارے ملتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کم زوروں پر رحم نہ کرنے والا دراصل خدا کی مخلوق کا دشمن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی انسانیت کا سبق دیتا ہے ۔
شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر یعنی حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کا لنگر تو بھوکوں اور بے کسوں کے لیے سب سے بڑی پناہ گاہ تھا۔ روایت ہے کہ پاکپتن آنے والا کوئی بھی محتاج خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔ یہ خدمت ہی ان کی ولایت کا نشان بن گئی۔ ان کا کلام صبر اور برداشت کا سبق دیتا ہے۔’’فریدا بَریاں نہ ماریں کوں، جو تُساں مارن گے ، تاں میں نہ ماراں ہو۔‘‘ یعنی اے فرید! برائی کا جواب برائی سے نہ دو، اگر وہ تمھیں مارتے ہیں تو تم نہ مارو۔
یہ وہ اخلاق تھا جس نے دلوں کو جوڑ دیا۔ بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں کو بار بار تاکید کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور اسی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غیر مسلموں کو بھی اسلام کی طرف مائل کیا۔ ہندو اور سکھ برادری کی بڑی تعداد ان کے اخلاق اور خدمت سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئی۔
سلطان الفقر، سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کا کلام معرفت اور عشق سے لب ریز ہے۔ فرماتے ہیں:’’دل دریا سمندروں ڈونگھے ، کون دلان دیاں جانے ہو۔‘‘ یعنی دل دریا سے بھی زیادہ گہرے ہیں، کون ہے جو ان کی گہرائی کو جان سکے ۔
یہ دل کی گہرائی اور اللہ کی محبت کا درس ہے ۔ انھوں نے اعلان کیا:’’ہو جملہ جہاں دا مالک، میرا باہو اللہ ہو!‘‘ یعنی تمام جہان کا مالک میرا اللہ ہے۔
یہ وہ توحید تھی، جس نے دلوں سے غیر اللہ کے سہارے چھین لیے۔ آپ نے غربا اور مساکین کی خدمت کو اصل ولایت قرار دیا اور کہا کہ جس دل میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت نہ ہو وہ اندھیرا ہے۔ وہ جانوروں پر بھی شفقت کو ایمان کا حصہ سمجھتے اور کہتے کہ ہر ذی روح اللہ کی امانت ہے ، اس پر ظلم ناشکری ہے۔
شہنشاہ خراسان حضرت سید علی شاہ ترمذی المعروف پیربابا رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات بھی یہی تھیں۔فرمایا کرتے:’’یقینا کام یابی اسی کی ہے جو اللہ کے سوا کسی پر بھروسا نہ کرے۔ ‘‘
یہ خالص توحید کا سبق تھا۔ پیر بابا کی خانقاہ میں ہر ذکر کا آغاز درود شریف سے ہوتا تھا۔ انھوں نے اپنے مریدوں کو نصیحت کی کہ نجات اسی وقت ہے، جب دل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منور ہو۔ ان کی خانقاہ غربا، مساکین اور مسافروں کے لیے کھلی رہتی تھی۔ فرماتے: ’’جو بندوں کی خدمت کرتا ہے ، وہ دراصل اپنے رب کی خدمت کرتا ہے۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ بونیر اور سوات کے کئی غیر مسلم قبائل آپ کے اخلاق اور خدمت سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔
یہ تھے ان بزرگوں کے کام اور ان کا اصل منصب ۔ انھوں نے کبھی یہ دعوا نہیں کیا کہ وہ دریاؤں کے دھارے روکیں گے ، بادلوں کو باندھیں گے یا سیلاب کے ریلے موڑیں گے۔ خود صبر وشکراور فقر کی زندگی گزاری اور اپنے مریدوں کو یہی سکھایا۔ اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ دل کو اللہ کے ساتھ جوڑو، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غلامی اختیار کرو، مخلوق کی خدمت کرو، بھوکوں کو کھلاؤ، جانوروں پر شفقت کرو اور کم زوروں کو سہارا دو…… اور وہ یہ کام ایسے کر گئے کہ آج صدیوں بعد بھی ان کا فیض جاری ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ سیلاب کے وقت اولیاء اللہ نے کیا کیا…… بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی ادارے کہاں تھے ؟ اصل سوال یہ ہے کہ حکومتیں کیوں ناکام رہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ بند اور ڈیم کیوں نہ بنے ، نالے کیوں نہ صاف ہوئے ، وارننگ سسٹم کیوں نہ چلا؟
اور اصل جواب یہ ہے کہ یہ سب کام ان اداروں کے تھے، جنھیں ہم نے ٹیکس دیا، ووٹ دیا، اختیار دیا۔ ان کی ناکامی کو نظر انداز کر کے ان بزرگوں پر طنز کرنا دراصل لاعلمی اور ناانصافی ہے۔
سیلاب کو روکنے کے لیے ہمیں بند اور ڈیم بنانے ہیں، لیکن دلوں کی ویرانی کو روکنے کے لیے ہمیں ان بزرگوں کی تعلیمات کو زندہ کرنا ہوگا۔ پانی کے طوفان شاید ایک بار آ کر گزر جائیں، لیکن اگر دلوں کے چراغ بجھ گئے، تو اندھیرا نسلوں کو کھا جائے گا۔ اولیاء اللہ کی اصل امانت یہی ہے کہ دلوں میں توحید کے چراغ جلائے جائیں، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خوش بو پھیلائی جائے ، خدمتِ خلق کو عبادت سمجھا جائے اور مخلوق پر شفقت کو ایمان کا حصہ بنایا جائے۔ یہ وہ مشن ہے، جو انھوں نے شروع کیا اور آج بھی ہمیں اسی راستے کی ضرورت ہے۔اس لیے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ درخواست ہے کہ طنز کے تیر چلانے کے بہ جائے اگر اپنا رشتہ ان ہستیوں سے جوڑ لیں، تو تب پتا چلے گا کہ یہ بزرگ کہاں تھے اور اصل میں کہاں ہونے چاہییں، دلوں میں یا طنز کے نشانے پر……؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

One Response

داود کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے