سیلاب،قہرِ خداوندی یا ہماری کوتاہی؟

Blogger Fazal Khaliq

سوات میں مون سون کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی دلوں میں ایک اَن جانا سا خوف جاگ اُٹھتا ہے۔ بارش کی پہلی بوند رحمت لگتی ہے، لیکن یہی بارش جب طوفان کی شکل اختیار کرکے گھروں کو بہا لے جائے، کھیتوں کو ڈبو دے اور معصوم بچوں کو یتیم کر دے، تو دل سوال کرنے لگتا ہے: ’’کیا یہ سب قہرِ خدا ہے، یا ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ؟‘‘
ہمارے دیہی علاقوں میں عام تاثر یہی ہے کہ جب زمین پر گناہ بڑھ جاتے ہیں، تو آسمان سے عذاب اُترتا ہے۔ سیلاب کو خدا کی ناراضی سمجھا جاتا ہے۔ مساجد میں اجتماعی دعائیں مانگی جاتی ہیں، علما اصلاح اور توبہ کی تلقین کرتے ہیں اور عوام یہ یقین کرلیتے ہیں کہ یہ سب کچھ اُن کے اعمال ہی کا نتیجہ ہے۔ بلاشبہ اس سوچ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کمیونٹی ایک دوسرے کے قریب آ جاتی ہے اور وقتی طور پر دل کو سکون ملتا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانکا ہے ؟ گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، پہاڑوں میں جھیلیں ٹوٹ کر اچانک پانی کا ریلا بہا لاتی ہیں۔ ہم نے اپنے جنگلات بے دریغ کاٹ ڈالے، پہاڑ ننگے کر دیے اور زمین کو کم زور کر دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بارش کے چند دن ہی سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ اس پر مزید موسمیاتی تبدیلی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ یہ سب ہماری اپنی غلط پالیسیوں اور بے پروائی کا نتیجہ ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم تقدیر پرستی میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ’’یہ سب اللہ کا فیصلہ ہے، اس میں ہم کچھ نہیں کرسکتے‘‘ جیسے جملے استعمال کرکے اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کرلیتے ہیں۔ حالاں کہ اللہ نے ہمیں عقل عطا کی ہے، اختیار دیا ہے اور زمین کو سنبھالنے کی ذمے داری ہمارے کاندھوں پر رکھی ہے ۔
دعاؤں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن صرف دعاؤں سے ٹوٹے ہوئے بند نہیں رُکتے۔ ہمیں فوری طور پر جنگلات کی کٹائی پر پابندی لگانی ہوگی۔ حکومت کو سخت قانون سازی کے ذریعے ٹمبر مافیا کے پر کاٹنے ہوں گے اور زیادہ سے زیادہ نئے جنگلات لگانے ہوں گے۔
اسی طرح ہمیں سائنس کی بات بھی سننی ہوگی۔ بہتر ڈیم، مضبوط انفراسٹرکچر، درست شہری منصوبہ بندی، جنگلات کی بہ حالی اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ہم ہر سال اسی کرب سے گزرتے رہیں گے ۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مذہب اور سائنس کو ایک دوسرے کے مخالف نہ سمجھیں، بل کہ ساتھی بنا لیں۔ مذہب ہمیں عاجزی، اصلاح اور خدا پر بھروسا سکھاتا ہے، جب کہ سائنس ہمیں عملی اقدامات کی راہ دکھاتی ہے۔ اگر ہم دونوں کو ساتھ لے کر چلیں، تو شاید آنے والے کل کے سیلاب ایک خبر ضرور ہوں گے، مگر کسی بڑے سانحے کا روپ اختیار نہیں کریں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے