’’تعلیم اہلِ ثروت کے لیے‘‘ (پی ایم ڈی سی)

Blogger Noor Muhammad

پاکستان میں تعلیم کو ’’سب کے لیے‘‘ ایک بنیادی حق کہا جاتا ہے، لیکن عملی صورتِ حال اس حق کی نفی کر رہی ہے۔
حال ہی میں ’’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل‘‘ (پی ایم ڈی سی) نے اعلان کیا ہے کہ ان کے زیرِ نگرانی ہونے والے ایک ٹیسٹ کے لیے طلبہ سے 9 ہزار روپے فیس وصول کی جائے گی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ فیس صرف 3 گھنٹے کے ایک پرچے کے لیے ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 40 فی صد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جب کہ لاکھوں گھرانوں کی ماہانہ آمدنی 30 سے 40 ہزار روپے سے زیادہ نہیں۔
نور محمد کی دیگر تحاریر:
تعلیم عام کرنے بارے چند تجاویز
علم کے مسافر یا غربت کے قیدی؟
’’دیو کی سرزمین‘‘ کی سیر

ایسے حالات میں ایک طالب علم کے لیے 9 ہزار روپے کا ٹیسٹ دینا نہ صرف مشکل، بل کہ ناممکن کے قریب ہے۔ یہ صرف ایک پرچہ نہیں، بل کہ طلبہ اور والدین کی جیب پر بھاری بوجھ ہے۔
اعلا تعلیم، خاص طور پر میڈیکل اور ڈینٹل کے شعبے میں، پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
یونیورسٹیوں کی فیسیں لاکھوں میں، اور اب ٹیسٹ فیس بھی ہزاروں میں…… یہ سب غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
اگر یہ روش جاری رہی، تو مستقبل میں ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ بننا صرف امیر گھرانوں کے بچوں کا حق رہ جائے گا اور قابلیت، محنت اور ذہانت پیچھے رہ جائیں گے۔
قارئین! یہ سوال اُٹھانا ضروری ہے کہ 3 گھنٹے کے ایک پرچے کی لاگت اتنی زیادہ کیوں ہے؟
امتحانی ہال کا کرایہ، اسٹاف کی تنخواہ اور پرچے کی تیاری یہ سب اخراجات یقینا ہوتے ہیں، لیکن یہ اخراجات 9 ہزار روپے فی طالب علم تک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟
کیا اس کا کوئی شفاف حساب عوام کے سامنے رکھا گیا ہے؟
پاکستان میں پہلے ہی ہونہار طلبہ کو تعلیمی سہولیات، اسکالرشپس اور سستی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے فیصلے اُن طلبہ کو حوصلہ شکنی کی طرف دھکیلتے ہیں، جو محنت اور لگن سے اپنی منزل پانا چاہتے ہیں…… مگر معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہیں۔
ہم ان سطور کے ذریعے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ’’پی ایم ڈی سی‘‘ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرے اور فیس کو کم سے کم سطح پر لائے۔ تعلیم کاروبار نہیں، ایک قومی فریضہ ہے۔
اگر آج فیس کے اس ظالمانہ بوجھ کو برداشت کرلیا گیا، تو کل یہ رقم مزید بڑھا دی جائے گی…… اور یوں تعلیم کا دروازہ ہمیشہ کے لیے غریب طلبہ و طالبات کے لیے بند ہوجائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے