اکیڈمی آف مینجمنٹ کی سالانہ کانفرنس امسال ’’کوپن ہیگن، ڈنمارک‘‘ میں منعقد ہوئی۔ ہمارے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ’’سویڈش سینٹر فار ڈیجیٹل انو ویشن‘‘ (Swedish center for digital innovation) کی طرف سے ایک ورک شاپ اس کانفرنس میں منعقد کی گئی، جہاں دنیا بھر سے تحقیق کاروں کو "Twin transition” پر سیشن ڈیلیور کیے گئے۔
میں اصل میں دو ریسرچ گروپس میں بہ یک وقت خدمات سر انجام دے رہا ہوں، جن میں سے یہ ریسرچ گروپ، شہری علاقوں کی گورننس اور ترقی سے منسلک موضوعات پر تحقیق کرتا ہے اور خاص ٹیکنالوجی کے عوام دوست ، ماحول دوست اور دیرپا استعمال کو یقینی بنانے کے مشن پر گام زن ہے۔
علاوہ ازیں میرے ایک پی ایچ ڈی سٹوڈنٹ کا ایک تحقیقی مقالہ بھی پیش کیا گیا ۔
یہ کانفرنس پچھلے 84 سال سے امریکہ ہی میں منعقد ہورہی ہے، لیکن پہلی بار ٹرمپ کے ’’تحقیق کُش‘‘ اور امیگریشن پالیسیوں کے موجب، یہ امریکہ سے باہر منعقد ہورہی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یورپ بھر کی یونیورسٹیاں، ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ سے مائیگریشن کرنے والے ریسرچرز کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں اور باوجود فار رائٹ حکومتوں کے، اس حوالے سے اپنی پالیسیوں کو ری وزٹ کررہے ہیں، تاکہ بہترین ٹیلنٹ کو اپنے ممالک کی جانب راغب کرسکیں۔
اس کے مقابلے میں ہمارا رویہ ہے کہ تعلیم و تحقیق کے بہ جائے، جگت بازی اور نقالی سے اوپر ہماری سوچ ہی نہیں اٹھتی۔ اعلا تعلیم اور تحقیق کے ادارے بہت تھوڑے ہیں اور جو گنے چنے ہیں، اُن پر ازکارِ رفتہ قسم کے جغادریوں کی قبضہ گیری کی وجہ سے عملی تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس طرح ہمارے صوبے کا تحقیقی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک ادارہ ’’دوست‘‘ (Directorate general of science and technology) کے نام سے ہے، جہاں تحقیق سے غیر متعلقہ لوگوں کو رکھا گیا ہے، جوکہ وہی افسر شاہی رویہ رکھنے والے ہوتے ہیں۔
ہماری پالیسیاں ایسی ہیں، جن کی بہ دولت اہلیت رکھنے والے تحقیق کار اور اساتذہ باہر منتقل ہونے پر مجبور ہوجائیں۔
مَیں اپنے نزدیکی سوشل سرکل میں درجنوں ایسے پروفیسروں کو جانتا ہوں، جو انجینئرنگ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کو خیر آباد کَہ کر ولایت سدھار چکے ہیں۔ جن لوگوں نے ایک وقت میں، ولایت میں جاذب تنخواہوں کو رد کرکے مادرِ وطن کی خدمت کرنے کا قصد کیا تھا، وہ بھی شکستہ پا ہو کر باہر جا کے سیٹل ہونے پر مجبور ہیں۔ یہاں ’’گوتھینبرگ‘‘ شہر میں ایک صاحب، جو کہ پاکستان کے ایک نامی گرامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ ڈین کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، مجبور ہو کر یہاں واپس سدھارے ہیں۔
بہ حیثیت مجموعی، جب تک انفرادی اور اجتماعی طور اپنی ترجیحات کا تناسب ہم ٹھیک نہیں کریں گے، یہ خرابیاں روز افزوں بدتر ہوتی جائیں گی۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










