فاضل دوست کی تحریر ’’جامعات و دینی مدارس (جوابِ آں غزل)‘‘ میں پاکستانی جامعات اور دینی مدارس کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ایک مخصوص زاویۂ نظر اختیار کیا گیا ہے، جس میں مدارس کو طنز و تحقیر کا نشانہ بنایا گیا ہے اور جامعات کے کردار کو یک طرفہ طور پر مثالی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے، بل کہ ایک ایسے علمی ماحول کو مجروح کرتا ہے، جس میں دونوں اداروں کی خدمات اور خامیوں کو دیانت داری سے جانچنے کی ضرورت ہے۔
دینی مدارس کا بنیادی مقصد نہ تو جدید سائنسی ایجادات ہے اور نہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں حصہ لینا ہی ہے، بل کہ وہ قرآن، حدیث، فقہ، روحانی تربیت، دینی شعور اور اُخروی نجات کو نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا دائرۂ کار دین کی حفاظت اور اسے عوام الناس تک پہنچانا ہے، نہ کہ صنعتی معیشت کی قیادت کرنا۔
موصوف نے چند مدارس کے مہتممین کی سماجی حیثیت، ذاتی استعمال میں وقف املاک کی مثالیں اور بعض مدارس کی عمارات کے پُرتعیش ہونے کو دلیل بنا کر پوری دینی روایت کو زیرِ سوال لانے کی کوشش کی ہے، جو کہ ایک خطرناک مغالطہ ہے۔
اگر یہ اصول مان لیا جائے، تو پھر ہمیں سیاسی جماعتوں، بیورو کریسی، عدلیہ، حتیٰ کہ جامعات کے وائس چانسلرز کے طرزِ زندگی، اقربا پروری اور بدعنوانی کو بھی انھی اداروں کی ناکامی قرار دینا ہو گا۔
حقیقت یہ ہے کہ مدارس نے اپنے وسائل، عوامی تعاون اور خالص نیت کے ساتھ اس معاشرے کو دینی راہ نمائی فراہم کی ہے۔ وہ لاکھوں طلبہ کو بلا معاوضہ تعلیم، رہایش اور خوراک مہیا کر رہے ہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیم کو مسلسل نسل در نسل منتقل کر رہے ہیں۔ اگر ان میں اصلاح کی ضرورت ہے، تو وہ اصلاح تنقید برائے اصلاح سے آئے گی، نہ کہ تحقیر اور تقابل سے۔
موصوف نے یہ بھی کہا کہ مدارس کے طلبہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے اور ان کا کام فقط مسجد کی امامت ہے۔
یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے۔ مدارس کے فضلا مساجد، مکاتب، دارالافتا، دینی تعلیمی اداروں، خطابت، دینی میڈیا اور اصلاحی و فلاحی اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ذریعے ہی معاشرے میں دینی شعور، اسلامی اقدار اور روحانی تسکین کی روشنی پھیل رہی ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جو لوگ مساجد میں دو رکعت نماز پڑھاتے ہیں، وہی لاکھوں دلوں کو جوڑتے ہیں، اُن کی دعاؤں سے بیمار شفا پاتے ہیں اور اُنھی کے کردار سے لوگ توبہ کرتے ہیں۔ اگر اُنھیں صرف دو رکعت کے امام کَہ کر ہدفِ تنقید بنایا جائے، تو یہ نری علمی و فکری ناعاقبت اندیشی ہے۔
جہاں تک اخلاقی زوال کا سوال ہے، تو یہ سوال ریاستی نظام، عدلیہ، میڈیا، تعلیمی ادارے ، سیاسی جماعتیں اور معیشت کے ذمے داروں سے بھی ہونا چاہیے۔ صرف مدارس کو اس کا ذمے دار ٹھہرانا حق تلفی ہے۔
ایک طرف مدارس لاکھوں طلبہ کو دین کی تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف پورا معاشرہ مادہ پرستی، فحاشی، کرپشن اور مذہبی بے حسی میں دھنسا ہوا ہے۔
کیا اس زوال کا سبب فقط مدارس ہیں؟
کیا ریاست، میڈیا اور نظامِ تعلیم کی مکمل دین بے زاری کو نظرانداز کر دینا انصاف ہے؟
کیا دینی طبقے کو ان اسباب کے بغیر بھی ذمے دار ٹھہرانا علمی تعصب کی نشانی نہیں؟
یہ دعوا کہ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل افراد بیرونِ ملک کام یاب ہو رہے ہیں، بالکل درست ہے…… لیکن یہ دعوا مدارس کی نفی کا جواز نہیں بن سکتا۔ ہر ادارہ اپنی ساخت، مقصد اور کردار کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ یونیورسٹیاں سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تو مدارس روحانی، اخلاقی اور دینی ترقی کی بنیاد ہیں۔
دونوں اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا، انھیں متضاد میدانوں میں زبردستی مقابل کھڑا کرنا دانش مندی نہیں، بل کہ فکری بے بصیرتی ہے۔
اگر موصوف واقعی ایک تعمیری مکالمہ چاہتے ہیں، تو اُنھیں دونوں اداروں کی خوبیوں اور خامیوں کو تسلیم کر کے اصلاح کے پہلو تلاش کرنے چاہییں، نہ کہ طنز و تمسخر کی زبان سے پورے دینی نظام کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
ورنہ یہ روش نہ صرف غیرمنصفانہ ہے، بل کہ معاشرتی انتشار کو بڑھاوا دے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










