شنگرئی اور سرے شاہ ڈب کی سیر

Blogger Hilal Danish

منگلور کے بائی پاس سے جیسے ہی ہماری گاڑی فرشی پُل کی جانب مڑی، تو محسوس ہوا جیسے ہم وقت کی رفتار سے آزاد ہوچکے ہوں۔ یہ راستہ محض سڑک نہیں، ایک کیفیت ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں شہر کی گرد آلود فضا سے نکل کر ہم ایک ایسی وادی میں داخل ہوئے، جہاں خاموشی بولتی ہے اور ہوا میں پرندوں کے پروں کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے۔
فرشی پُل پار کرتے ہی گورتئی، اضغرے ، انظر تنگے اور ریورس موڑ پر بل کھاتی سڑک نے ہمارے ساتھ جیسے عہدِ وفا باندھ لیا۔ یہاں کی فضا ایسی معطر، درختوں کے سائے ایسے سحر انگیز اور ہوائیں ایسی مخلص کہ آدمی تھکنے کے بہ جائے تازہ دم ہو جائے۔
ٹیکے گاؤں اور سنگر کے بعد ’’چجو کمر‘‘ کا منظر ایک جھٹکے میں کیمرہ نکالنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہاں سوات بھر سے فوٹوگرافر اپنی لینز کی پیاس بجھانے آتے ہیں، لیکن میرے لیے یہ محض عکس بندی کا مقام نہیں، ایک داخلی منظر کا دریچہ ہے۔
سنگر ختم ہوتے ہی شنگرئی شروع ہو جاتا ہے اور یہاں پہنچ کر دل خودبہ خود کہتا ہے: ’’یہ تو مصورِ فطرت کا شاہ کار ہے، یہ تو کشمیر کی ہم زاد وادی ہے!‘‘
ہم پیدل چلتے شنگرو ڈنڈ کی طرف بڑھے، جو شنگرئی سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آبشار کی سرگوشی دور سے سنائی دیتی ہے، جیسے فطرت ہمیں پکار رہی ہو۔ اس کے جھالروں میں چھپے قوسِ قُزح کے رنگ اور اردگرد کی سر سبز چٹانیں ہر دل پر جادو کرتی ہیں۔
واپسی پر ہم نے ایک الگ راستہ لیا، جو ہمیں ’’سرے شاہ ڈب‘‘ کی طرف لے گیا۔ یہ ایک دشت نما سبزہ زار ہے، مگر یہاں کی فضا میں نہ تو ویرانی ہے، نہ تنہائی…… بل کہ ایک روحانی سی مسرت ہے، جیسے فطرت کی گود میں آ بیٹھے ہوں۔
اسی طرف ایک اور حیرت ہمارا انتظار کر رہی تھی، وہ مقام جہاں تین اضلاع کا سنگم ہے: سوات کا شنگرئی، بونیر کا چغرزئی اور شانگلہ کا مخوزئی۔ مَیں نے جب تینوں اطراف میں نظریں دوڑائیں، تو لگا کہ سرحدیں صرف نقشے کی حد تک ہوتی ہیں، قدرت کے مناظر میں کوئی تقسیم نہیں ہوتی۔
اس سارے سفر میں سب سے زیادہ خوش بو وہ تھی، جو یادوں کے کھیت سے اُٹھ رہی تھی۔ اضغرے سے زرے، سرسردارے اور کنڈو تک ہر گلی، ہر چہرہ، میرے دل میں نقش ہے۔ مَیں نے یہاں 1998ء سے 2010ء تک پریکٹس کی اور اگر کہوں کہ ان 12برسوں میں میرا پیٹ ان گھروں سے بھرا، جنھوں نے مجھے بیٹا جانا، تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
شنگرئی میں بخت زمین خان اور حنیفہ ناظم صاحب نے جس طرح مجھے اپنایا، وہ خلوص لفظوں سے بالاتر ہے ۔
’’کس‘‘ میں استاد فضل رحیم صاحب کی شفقت اور راہ نمائی نے مجھے خدمت کی راہوں سے روشناس کرایا۔ وہ سیدو شریف کے فرزند تھے، مگر کس کی گلیاں اُن کی آہٹوں سے شناسا تھیں۔ آج اُن کے بیٹے افضل خان صاحب انھی کے نقشِ قدم پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
کنڈو میں ظاہر رحمان صاحب کی سادگی اور وسعتِ دل نے مجھے زندگی کے اصل معنی سکھائے۔ اور علی شیر میاں، وہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا شخص جب بھی ملا، دل خوشی سے بھر گیا۔
اسی سفر کے دوران میں ہم ’’کس‘‘ کے ایک کھیت کے قریب رُکے۔ یہاں چاول کی فصل اُگائی جا رہی تھی۔ پانی سے لبالب بھرے کھیتوں میں کسان کمر جھکائے دھان کی پنیری لگا رہے تھے۔ میرے ذہن میں اچانک مرحوم غمے صوبے دار کا نام گونجا۔ وہی غمے صاحب، جنھوں نے ان پہاڑوں کا سینہ چیر کر نہریں نکالیں، جن کے ہاتھوں سے بنی نہر آج بھی ان کھیتوں کو سیراب کرتی ہے۔ ان کی بنائی ہوئی نہر دیکھ کر مجھے چین کے وہ مناظر یاد آئے، جہاں لوگ پہاڑوں میں نہریں بناتے دکھائے جاتے ہیں، مگر یہاں یہ سب بغیر ایکسکیویٹر یا مشینری کے ، محض انسانی حوصلے اور ہنر سے کیا گیا کارنامہ ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وادی صرف خوب صورتی کی نہیں، عظمت کی بھی وادی ہے ۔
شنگرئی میں کوئی ہوٹل نہیں، اس لیے نہیں کہ یہاں سیاحت نہیں، بل کہ اس لیے کہ یہاں کا ہر گھر ایک مسافر خانہ ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز، خوددار اور محنتی ہیں۔ کوئی حیدر آباد میں کوئلہ نکالتا ہے، کوئی ماربل کاٹتا ہے، کوئی روٹی پکاتا ہے، مگر اپنے گاؤں لوٹتا ہے، تو ماں کی گود میں سونے والے بچے کی طرح مسکراتا ہے۔
یہ سفر ختم ہو گیا، مگر شنگرئی نے مجھے دوبارہ زندہ کر دیا جیسے کسی پرانی یاد نے اچانک سینے میں آنکھ کھول لی ہو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے