پھیپڑے انسانی وجود کا چھپا رستم ہیں

Blogger Doctor Noman Khan

ہمارے سینے میں ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ہوتا ہے، جسے پسلیاں کہتے ہیں۔ اُن پسلیوں کے بیچ میں ہمارے دو پھیپڑے ہو تے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں ہمارے دونوں پھیپڑے ایک جسامت کے نہیں ہوتے؟ ہمارے بائیں جانب والے پھیپڑے کا حصہ دائیں جانب والے حصے سے چھوٹا ہوتا ہے۔ پھیپڑے کی یہ ساخت ہمارے دل کے لیے ایک کمرا بناتی ہے۔ پسلیوں کا یہ جال ہمارے پھیپڑے اور دل کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے نیچے اور تھوڑا پیچھے کی طرف ہمارے گردے ہوتے ہیں جو پیچھے سے ریڑھ کی ہڈی سے اور آگے سے سینے کی ہڈی سے جڑے ہوتے ہیں۔ مسلز سینے کی ہڈیوں سے جڑے ہوتے ہیں، جو سانس لینے میں مدد دیتے ہیں۔ ہمارے پھیپڑوں کے نیچے مسلز ہوتے ہیں۔ جب پھیپڑے سانس لینے کے لیے سکڑتے ہیں، تو یہ مسلز اس کام میں پھیپڑوں کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ مسلز درست طریقے سے کام نہ کریں، تو ہمیں سانس لینے میں دقت پیش آتی ہے۔
منھ کے اندر چھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتی ہیں جو کہ پھیپڑوں تک جاتی ہیں۔ گلے کے اندر بڑی سی سانس کی نالی پائی جاتی ہے، جوکہ پھیپڑوں میں جاکر ’’برانکائی‘‘ میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ برانکائی آگے جا کر چھوٹی چھوٹی نالیوں میں تقسیم ہوجاتی ہے، جسے ’’برانکیولز‘‘ کہتے ہیں۔ ہمارے پھیپڑوں میں تقریباً 30 ہزار برانکیولز پائے جاتے ہیں۔ یہ بر انکیولز مزید ’’الولائی‘‘ میں تقسیم ہوجاتی ہیں جو کہ سانس لینے کے عمل میں مددگار ہوتی ہیں اوراس عمل میں پھیلتی اور سکڑتی ہیں۔ الولائی خون کی باریک باریک نالیوں پر مشتمل ہوتی ہے، یہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ الگ ہوکر باہر خارج ہو جاتی ہے، جب کہ آکسیجن خون میں شامل ہوجاتی ہے۔ ہمارے پھیپڑوں میں تقریباُ چھے سو ملین الولائی پائی جاتی ہیں۔ اگر ان سب میں ایک ساتھ ہوا بھر ی جائے، تو یہ ایک ٹینس کورٹ جتنی بڑھ سکتی ہے۔
ہمارے پھیپڑوں میں خاص خلیے (Cells) پائے جاتے ہیں، جو ایک میوکس (سیال مادہ) بناتے ہیں۔ یہ میوکس ہماری ناک کے بالوں کو نم رکھتا ہے اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہونے والے جراثیم، مٹی اور آلودگی کو اندر داخل ہونے سے روکتا ہے۔ یہ سانس لینے کے عمل میں ہمارے جسم کا سب سے پہلا دفاعی نظام ہے۔
ہمارے پھیپڑے بات کرنے کے عمل میں بھی مددگار ہوتے ہیں۔ ہماری سانس کی نالی کے بالکل اوپر ’’ٹریکیا‘‘ کے پاس ایک باکس ہوتا ہے، جسے ’’وائس باکس‘‘ یا ’’لیرنکس‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ’’ووکل کارڈ‘‘ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے دو حصے ہوتے ہیں جو کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے یہ ہلکی اور تیز آواز کی سطح (Pitch) کو کنٹرول کرتے ہیں۔
بولنے کے لیے جو ہوا کی جو طاقت درکار ہوتی ہے، وہ پھیپڑوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے اور یہ ہوا ہماری آواز کی سطح (Pitch) تبدیل کرتی ہے، جس کی وجہ سے ہم آہستہ اور تیز آواز میں بات کر پاتے ہیں۔
سانس کی مقدار کا تعین ہمارا دماغ کرتا ہے۔ دماغ جسم میں آکسیجن کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے سا نس لینے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ سونے، چلنے، بھاگنے دوڑنے یا میراتھن میں آکسیجن کی جتنی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے، ہم سوچے بغیراُسی حساب سے سانس لیتے ہیں۔ اپنے پھیپڑوں کو صحت مند رکھنے کے لیے اور بیماریوں سے بچانے کے لیے شہری آلودگی اور تمباکو نوشی سے بچنا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے