مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

Blogger Fazal Raizq Shahaab

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘
کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، ارد گرد سرسبز وشاداب کھیت، بلند و بالا پہاڑوں میں گھری ہوئی ایک محفوظ پناہ گاہ،جو صرف شمال کی طرف کھلی ہے۔
سیدو بابا اسی مسجد (سیدو بابا مسجد) کے قریب رہتے ہوں گے۔ یہ پتھر، مٹی اور لکڑی پر مشتمل عمارت ہوگی۔ گمان اغلب ہے کہ زائرین کے لیے کھانا پکانے کا لنگرخانہ ہوگا اور سیدو بابا کے کچے گھر میں ان کے دو صاحب زادوں کی ڈولیاں چترال سے شہزادیاں لاکر اُتری ہوں گی۔
یہ ایک درویش کی روحانی عظمت ہے کہ صاحبانِ جا ہ و حشم ان سے دوستی اور رشتے ناتے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اِن باتوں کا سیاسی تجزیہ علما اور مورخین کا منصب ہے، مجھ جیسے کم علم کا نہیں۔
سیدو بابا کی عالی شان مسجد جس سال مکمل ہوئی، (یعنی 1943ء) وہ میری پیدایش کا سال ہے۔ مسجد کا ہر مینار، گنبد، ستون، منبر و محراب، خطاطی، فرش کا سنگِ مرمر، آتش دان وغیرہ فنِ تعمیر کا شاہ کار ہیں۔
اس مسجد کے لیے سنگِ مرمر کے حصول کے تمام مراحل پر جناب جلال الدین نے تفصیل سے لکھا ہے جو اُن کی ویب سائٹ ’’سوات انسائیکلو پیڈیا‘‘ پر دست یاب ہے۔
مجھے حیرت اس بات پر بھی ہے کہ جب اُس دور میں بجلی یا پٹرول سے چلنے والے "Grinders” نہیں تھے، تو اتنے صاف سنگ مرمر کے ’’سلیب‘‘ کیسے گرائنڈ کیے جاتے تھے؟
مسجد کی صحن کی وقتاً فوقتاً توسیع کئی سال تک جاری رہی۔ جب 1949-50ء میں مجھے اس مسجد میں جانے کاموقع ملا، تو مَیں نے قیدیوں کو سفید سنگِ مرمر کے تختوں کو مکعب شکل کی پتھروں سے رگڑتے دیکھا۔ یہ اخلاقی مجرم ہوسکتے تھے کہ اُن کے پیروں میں بیڑیاں تھیں۔ وہ اُن پتھر کے بلاکس کو ایک دوسرے کی طرف چلاتے رہتے اور ساتھ کچھ گاتے بھی رہتے۔ مجھے بعد میں بتایا گیا کہ یہ رگڑائی والے بلاک ’’گرینائٹ‘‘ ہیں۔
مسجد کی مشرقی دیوار پر کی گئی خطاطی کا غور سے جائزہ لیں، جن میں 82 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ کسی روز باریک بینی سے مسجد کی عمارت میں چل پھر کر دیکھیں۔ آپ کو کہیں سقم، کہیں جھول نہیں ملے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے