منفی خبروں کی نفسیات

Blogger Nida Ishaque

حال ہی میں مجھے ایک نوجوان لڑکے کا سیشن لینے کا موقع ملا، باقی کے پاکستانیوں کی طرح اسے بھی سیاست سے دل چسپی تھی اور آرمی کے ادارے سے متعلق معلومات (ایسی معلومات کو ہم مخالفت بھی کَہ سکتے ہیں) بھی۔ اسے فلسطین اور عالمی سیاست کی بھی خوب خبر تھی۔ جنگ اور تنازعات پر بات کرنے والے چینل بھی سبسکرائب کررکھے تھے۔ البتہ اس کو تاخیر (Procrastination) کی عادت کا سامنا تھا اور ساتھ میں کئی مختلف لت (Addictions) کا بھی شکار تھے۔
یوں ہی ایک اور جناب بھی تھے، جنھوں نے کئی بہترین اور مہنگے کورس خرید رکھے تھے، البتہ کبھی انھیں کھول کر پڑھنے کی زحمت و ہمت نہ کرسکے۔ کیوں کہ انھیں ملکی و عالمی سیاست کو سننے کی عادت تھی، البتہ خواہش تھی کہ وہ اپنے ہنر (Skill Set) کو مزید بہتر کریں، تاکہ ان کی نوکری میں ترقی ہوسکے۔
بہت ممکن ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں کو ملکی/ عالمی سیاست، نیوز اور تبصروں کو دیکھنے کا شوق ہو، یا زیادہ تر وقت اس قسم کا مواد دینے میں گزارتے ہوں، لیکن ان سب کا آپ کی نفسیات سے کیا تعلق ہے اور کیا اثر پڑسکتا ہے؟ ’’منفی مواد‘‘ (Negative Content) زیادہ تر لوگ دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہماری توجہ کو کھینچتا ہے، ’’ارتقائی سائیکالوجی‘‘ (Evolutionary Psychology) کے مطابق ہمارا دماغ منفی اور خطرناک معلومات کی جانب زیادہ حساس اور توجہ دیتا ہے۔ کیوں کہ دنیا آج سے پہلے اتنی محفوظ نہیں تھی انسانوں کے لیے، جنگلی جانوروں کے ہاتھ مارنے جانے کا خطرہ ہوتا تھا۔ تبھی چوکنا رہنا پڑتا تھا۔ آپ مُثبت سوچ کے ساتھ جنگل میں سانپ، بچھو اور خوں خوار جانوروں کے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے۔ منفی ہونا، شک میں اور چوکنا رہنا بقا کے لیے ضروری تھا۔ پورا میڈیا انسانی دماغ کی اسی کم زوری پر وجود میں آیا ہے، جہاں منفی خبروں سے کاروبار چلتا ہے۔ کیوں کہ منفی خبروں کو توجہ ملتی ہے۔
لیکن ایک بہت دل چسپ بات جو مَیں نے نفسیات میں سیکھی، اپنے کیرئیر اور ذاتی زندگی میں نوٹ بھی کی کہ ہر انسان جو بھی مواد دیکھتا ہے، اُس کا گہرا تعلق اُس کی زندگی میں چل رہے واقعات، تجربات اور نفسیات سے ہوتا ہے۔
آپ کے اندر کی دنیا میں جو بھی چل رہا ہو، آپ اُسے باہر پروجیکٹ کرتے ہیں، جیسا کہ کچھ لوگ اپنے درد، سفرنگ یا خیالات کا اظہار شاعری، مصوری وغیرہ کرکے کرتے ہیں۔بالکل ویسے ہی بہت سے لوگ مخصوص کانٹینٹ کو دیکھتے ہیں، جس سے اُن کے اندر چل رہے جذبات یا ان کی اندر کی دنیا کی عکاسی ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر ایک مرتبہ ایک جناب نے سیشن میں کہا کہ انھوں نے ارتغرل نامی ایک ڈراما دیکھا اور اس سے جذباتی طور پر جڑگئے۔ مَیں نے پوچھا کہ اس ڈرامے میں کیا خاص بات ہے؟ تو کہتے ہیں کہ اس میں ایک ریاست ہے، جو عدمِ استحکام کا شکار ہے، جہاں غیر متوقع اور مشکوک صورتِ حال ہے۔
مَیں نے مزید پوچھا کہ اُس وقت آپ کی ذاتی زندگی میں کیا چل رہا تھا؟ تو جناب کہتے ہیں کہ مَیں مایوسی اور اضطراب میں تھا۔ میری ڈگری مکمل نہیں ہو پارہی تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرا مستقبل کیا ہوگا؟ عدمِ استحکام اور غیر متوقع صورتِ حال تھی۔ مَیں ان دنوں بہت زیادہ شدت پسند مذہبی اور جذباتی انسان ہوگیا تھا۔
قارئین! آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ جب ہمارے اندر کی دنیا یا ذاتی زندگی میں افراتفری ہو، تو ہم باہر بھی ایسے مواد کے ساتھ خود کو جذباتی طور پر جوڑ لیتے ہیں، جہاں ہمیں پروجیکٹ کرنے کا موقع ملے۔
باہر کی دنیا تو ہمیشہ سے ہی خطرناک، غیر متوقع اور عدمِ استحکام و عدم یقینی میں رہتی ہے، وہاں ہمارا کوئی اختیار نہیں…… لیکن اگر آپ کی زندگی میں لاشعوری طور پر دبے واقعات (Unprocessed Events) یا جذبات (Unprocessed Emotions) ہوں، تو آپ منفی کانٹینٹ کا بہت آسان شکار ہوتے ہیں اور اس کا اثر آپ پر زیادہ ہوسکتا ہے۔
جی جناب! منفی کانٹینٹ کا اثر سب پر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ جو انسان ٹروما سے گزرا ہے، یا گھریلو حالات سازگار نہیں۔ اس پر منفی کانٹینٹ اور باہر کے حالات کا زیادہ اثر پڑتا ہے، بہ نسبت ایک جذباتی طور پر آگاہ اور مستحکم (Emotionally Aware and Stable) انسان کے۔ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہوچکے واقعات، جسم میں اٹھنے والے جذبات اور ذہن میں چلنے والی سوچوں کے متعلق آگاہ نہیں ہوتے، اُن کے لیے منفی کانٹینٹ ایک ڈرگ کی طرح کام کرتی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے درد اور بکھری ہوئی زندگی سے اپنا دھیان ہٹاتے ہیں۔
اپنے ہی خیالات اور جذبات کو سمجھ پانا بہت باریک اور گہرا کام ہے۔ ایک اور مثال دے کر سمجھاؤں، تو ایک نوجوان لڑکا جس نے بچپن میں اپنی والدہ کو والد صاحب سے جسمانی طور پر ابیوز ہوتے دیکھا، اور وہ اُس وقت اپنی والدہ کو بچانے میں ناکام رہا، تو بڑا ہوکر وہ عالمی سیاست میں دل چسپی لیتا ہے۔ آدھا دن یوٹیوب پر ایسا ہی کانٹینٹ دیکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلم قوتیں ایک ساتھ ہوکر امریکہ کو سبق سکھائیں۔ اُسے عالمی طاقت امریکہ ایک جھگڑالو (Bully) لگتا ہے اپنے والد کی طرح، مسلم ممالک مظلوم (Victim) اپنی ماں کی طرح۔ چوں کہ وہ خود ایک بے بس بچہ ہے، تبھی وہ محض یہ خواہش رکھتا ہے کہ کوئی آئے اور اس جھگڑالو امریکہ سے مظلوم مسلم ریاستوں کو بچا لے۔
مَیں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کا دل کرتا ہے مسلم ریاستوں کو امریکہ سے بچانے کا؟ تو کہتے ہیں کہ ’’مَیں تو کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘
وہ بس دور سے کھڑے رہ کر اس سب کی خواہش کرتا ہے، بل کہ ویسے جیسے وہ دور سے اپنی والدہ کو والد کے ہاتھوں ابیوز ہوتا دیکھ کر یہ خواہش کرتا تھا کہ کوئی آئے اور ان کے والد کو روک لے۔ اس عالمی سیاست پر وہ اپنی زندگی کے واقعات اور جذبات کو پروجیکٹ کرتے ہیں۔
آپ کوئی بھی کانٹینٹ دیکھتے اور پڑھتے ہیں، وہ یوں ہی نہیں ہوتا۔ انسان نے اس دنیا کا نقشا یوں ہی نہیں بدل کر رکھ دیا۔ انسان جانور سے بہت اوپر کی مخلوق ہے۔ آپ کا دماغ یوں ہی کوئی کام نہیں کرتا، کارل یونگ کہتے ہیں: ’’جب تک آپ لاشعور کو شعور نہیں لے آتے، تو لاشعور آپ کی زندگی کی سمت مقرر کرے گا اور آپ اسے تقدیر کہتے رہیں گے۔‘‘
آرمی جنرل کے طیش دلا دینے والے بیانات ہوں، یا سیاست دانوں کی منافقت، آپ کو اسے دیکھنے کی ہر گز ضرورت نہیں…… اگر تو آپ ایک صحافی نہیں اور آپ کا گھر نیوز بیچنے سے نہیں چلتا! آخر کو سرمایہ دارانہ نظام میں ہر چیز بزنس ہے اور اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔ کیوں کہ یہ نظام انھی اُصولوں پر قائم ہے۔
فرائیڈ کہتا تھا کہ انسان دو چیزوں کو لے کر بہت شیم میں رہتے ہیں، ’’پیسا اور سیکس۔‘‘ اگر آپ کی روزی روٹی یا جاب کی ضرورت عالمی/ ملکی سیاست سے باخبر رہنا ہے، تو ضرور رہیے، لیکن یہ آرٹیکل اگر آپ پڑھ رہے ہیں، تو یقین مانیے آپ کو نیوز دیکھنے یا سیاست کے متعلق جاننے کی کوئی ضرورت نہیں۔
باراک اوبامہ اپنی کتاب ’’آ پرامسڈ لینڈ‘‘ میں کہتے ہیں کہ آخر کو امریکہ کا صدر بننا بھی ایک جاب ہی ہے۔ آرمی چیف ہوں یا سیاست دان سب ہی نوکری کررہے ہیں، کوئی بھی جذباتی نہیں، کچھ بھی ذاتی نہیں۔ وہ ایک بند اے سی کمرے میں چار لوگوں کے سامنے بیان بازی کرکے چلے جاتے ہیں، کیوں کہ یہ ان کی نوکری ہے…… اور پھر لوگ اس پر تبصرہ سن کر طیش میں آکر اپنی ذہنی صحت کو خراب کردیتے ہیں اور اپنی نوکری ٹھیک سے نہیں کرپاتے، جس کا مالی حالات پر اثر پڑتا ہے۔ منفی کومنٹ لکھتے ہیں، موڈ خراب ہوجاتا ہے ، گھر والوں پر غصہ اُترتا ہے ، مایوسی اور نااُمیدی گھیرے لے لیتی ہے اور پھر آپ کا دل کرتا ہے کہ ملک سے باہر چلا جاؤں، تاکہ ذہنی سکون ملے۔ ذہنی سکون پاکستان میں بھی مل سکتا ہے، اگر آپ عقل مندی سے اپنی زندگی اور توانائی کو صرف کریں۔
میرے ایک کلائنٹ نے اپنی جاب چھوڑ دی اور پھر باہر بھی نہ جاسکے۔ کیوں کہ اُنھوں نے اتنا منفی کانٹینٹ دیکھا یوٹیوب پر کہ ان کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا جاب اور اس ملک میں۔ کوئی بھی جاب ہو، وقت لگتا ہے اُس میں اپنی جگہ بنانے میں۔ اور جب آپ کے پاس بھاگنے کی جگہ نہ ہو، تو آپ جہاں ہیں وہیں آپ کو زندگی کا مقصد تلاشنا پڑتا ہے۔ جیسے ڈاکٹر وکٹر فرینکل نے نااُمیدی کو چھوڑ، ہٹلر کے کنسنٹریشن کیمپ میں بھی سکون اور زندگی کا مقصد تلاش کرلیا۔
ڈاکٹر وکٹر کہتے ہیں کہ کیمپ میں اُن لوگوں کی موت جلدی ہوگئی جو ناامید تھے۔ کیوں کہ ناامیدی، مایوسی اور تناو آپ کے مدافعتی نظام کو کم زور کردیتا ہے اور پھر آپ پر بیماریاں جلدی اثر انداز ہوتی ہیں۔
دنیا کوئی مثالی (Ideal) اور خوشی کی جگہ نہیں ہے، اسے بھگود گیتا میں کرشنا دکھالایم اساسوتم (Dukhalayam Asasvatam) کہتے ہیں جب کہ قرآنِ پاک میں اسے آزمایش کی جگہ کہا گیا ہے اور یقینا یہ دونوں الفاظ دنیا کو خوش گوار جگہ ہر گز قرار نہیں دیتے، یہاں آپ کو جھکنا پڑتا ہے باہری حالات کے سامنے، حالات کبھی آپ کے سامنے نہیں جھکتے۔ زیادہ تکلیف ہمیں اپنی امیدوں اور خواہشات کے پورا نہ ہونے کی ہوتی ہے، جس کا اثر ہماری ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔ جو بدل سکتے ہیں، اُسے بدلیں اور جہاں صرف جھکنا ہے، وہاں خاموشی سے جھکیں۔
خود کو منظم (Self-regulation) کرنے کے لیے اپنے جذبات پر فوکس کریں، منفی کانٹینٹ سے دور رہیں، اگر استطاعت رکھتے ہیں، تو تھراپی لیں، دن میں آدھا گھنٹا میڈی ٹیشن ضرور کریں (اگر نماز پڑھتے ہیں، تو پانچ میں سے کسی ایک وقت کی نماز کے بعد آدھا گھنٹا جائے نماز پر بیٹھ کر ہی مراقبہ کرلیں) اور اس کے علاوہ سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ نفسیات، جذبات اور ذہنی صحت پر کتابیں ضرور پڑھیں۔ مَیں ہمیشہ اپنے اُن کلائنٹس کو کتابیں ضرور تجویز کرتی ہوں اُن کی ضرورت اور حالت کے مطابق، کیوں کہ ادب میں طاقت ہے آپ کے جسم، جذبات، موڈ اور سوچوں کو منظم کرنے کی۔ اچھی کتابیں پڑھیں اور وہ کانٹینٹ دیکھیں، جس سے آپ کی ذہنی نشو و نما ہو۔
جو بھی آپ کے حالات ہیں، ان کے آگے سرنڈر کریں، انہیں قبول کریں اور پھر بہت آہستہ سے جتنی آپ کی سکت ہے اسے بہتر کرنے کی کوشش کریں، اور ضروری نہیں کہ زندگی میں سب بہتر ہوسکے ، چونکہ دنیا آزمائش اور امتحان ہے ، اور امتحان میں کبھی کبھار کسی پرچہ میں کچھ ایسے سوال بھی آتے ہیں جن کے جواب یا تو غلط ہوجاتے ہیں یا ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتے!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے