قریباً سات کنال رقبے پر مشتمل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول منڈی احمد آباد (اولڈ کیمپس) کی عمارت تقسیمِ بر صغیر سے پہلے ہندوؤں کا مندر ہوا کرتا تھا۔ یہ مندر ابھی زیرِ تعمیر تھا، جب پارٹیشن ہوگئی۔ مندر کی مرکزی عمارت اور مینار تعمیر ہوچکے تھے۔ مرکزی عمارت کا فرش ابھی نہیں ڈالا گیا تھا۔ البتہ پوجا پاٹ کا سلسلہ چند سال سے شروع ہوچکا تھا۔ یہ مندر اَب بھی موجود ہے اور اس کے مینار میلوں دور سے دکھائی دیتے ہیں جن کی اونچائی 100 فٹ سے بھی زائد ہے۔ عمارت بہت مضبوط ہے، تاہم چھت قدرے کم زور ہوچکی ہے۔
مندر کی عمارت کے اندر بیٹھ کر برسوں طلبہ پڑھتے رہے ہیں۔ اب حکومت کی طرف سے اس عمارت کو مخدوش قرار دے دیا گیا ہے۔
مندر کا رقبہ قریباً ڈیڑھ ایکڑ تھا۔ مرکزی عمارت سے مغرب کی جانب پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پختہ اینٹوں سے ایک کنواں تعمیر کیا گیا تھا۔ مندر کی تعمیر کے لیے پانی اسی کنوئیں سے لیا جاتا تھا۔ کنوئیں سے تھوڑے فاصلے پر مغربی دیوار میں لوہے کی مضبوط سلاخوں والا ایک بھاری بھرکم گیٹ تھا۔ یہ مندر کا مرکزی دروازہ تھا، جو بازار کی طرف کھلتا تھا۔ مرکزی عمارت سے مغرب کی جانب ہی قریباً 30 فٹ کے فاصلے پر پیپل کا ایک قدرآور اور گھنا درخت تھا۔ گرمی کے موسم میں زائرین اور پجاری اس کے سائے میں بیٹھا کرتے تھے۔ پیپل کے ساتھ ہی جنوبی طرف چار کمرے بنے ہوئے تھے۔ پیپل کے سامنے والا کمرہ بڑے پنڈت کے لیے مخصوص تھا۔
کہا جاتا ہے کہ مذکورہ کمرے کی مغربی دیوار میں ایک سرنگ کا دروازہ تھا۔ یہ سرنگ دوسری طرف مندر کی مرکزی عمارت کے اندر کھلتی تھی۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ سرنگ کافی طویل تھی اور نامعلوم مقام پر جا کر کھلتی تھی۔
مندر کی مرکزی عمارت چوکور ہے۔ 34 فٹ چوڑائی اور 67 فٹ لمبائی کی حامل اس عمارت کی دیواریں پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں۔ اس کی چھت کی اونچائی 20 فٹ ہے۔ عمارت خوب روشن اور ہوادار ہے۔ عمارت کی مغربی دیوار میں چھ6 بائے 4 فٹ سائز کے 8 دروازے ہیں۔
مندر کا ’’کرشن ہال‘‘ بہت خوب صورتی سے بنا ہوا ہے، جس میں سٹیج اب بھی موجود ہے، جس پر بیٹھ کر پنڈت مذہبی رسومات ادا کیا کرتے تھے۔ کرشن ہال کے تین اطراف یعنی جنوب، مغرب اور شمال کی دیواروں میں 10 فٹ اونچی گیلری بنی ہوئی ہے، جہاں مذہبی تہواروں کے اجتماع کے موقع پر ہندو خواتین بیٹھا کرتی تھیں۔ شمالی دیوار کے ساتھ شروع سے آخر تک الماریاں بنی ہوئی ہیں، جن میں ضروری سامان رکھا جاتا تھا۔ مندر کی عمارت کے وسط میں دونوں میناروں کی بنیادیں ہیں۔ ہر مینار کی بنیاد 12ضرب 10 فٹ پر مشتمل ہے اور دونوں بنیادوں کے اندر کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ان کمروں کے اندر بڑے بتوں کے مجسمے مشرقی دیواروں کے ساتھ ایستادہ کیے ہوئے تھے۔ ان کمروں کے اندر بہت خوب صورت نقش و نگار بنائے گئے تھے، جو تاحال موجود ہیں، جب کہ فرش بھی بہت مضبوط اور ڈیزائن والے بنے ہوئے ہیں۔ ان کمروں کی گنبد نما محرابی چھتیں بھی پختہ رنگوں کے نقش و نگار سے مزین ہیں۔ میناروں کی بنیاد والے کمروں کی مغربی دیواروں کی بیرونی جانب 1 ضرب 1.5 فٹ سائز کے جالے (طاق) بنے ہوئے ہیں، جن میں بت ایستادہ تھے۔ یہ مینار شمالاً جنوباً ایک دوسرے کے برابر میں تعمیر کیے گئے ہیں، جن کی بنیادوں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ ہے۔
میناروں اور کرشن ہال کی گیلری پر خوب صورت نقاشی کی گئی ہے۔ مندر کی مرکزی عمارت کے دروازے دیار کی لکڑی کے بنے ہوئے ہیں، جو اَب کافی مخدوش حالت میں ہیں۔
دونوں میناروں کے اوپر چوٹی پر کلس موجود ہیں، جنھیں عرصۂ دراز تک لوگ سونے کے بنے ہوئے سمجھ کر اُتارنے کی ناکام کوشش بھی کرتے رہے۔ شمالی مینار کے کلس پر پیتل سے بنا ہوا ایک جھنڈا بھی لگا ہوا ہے۔ یہ دونوں مینار نر اور مادہ کے نام سے بھی معنون ہیں۔ شمالی جانب واقع مینار پر دیویوں کے مجسمے ایستادہ تھے، جب کہ جنوبی جانب والے مینار پر دیوتاؤں کے مجسمے نصب تھے اور اسی نسبت سے انھیں نر اور مادہ میناروں کا نام دیا گیا ہے۔
تقسیمِ برصغیر کے بعد اس مندر میں بوائز مڈل سکول کی کلاسز کا آغاز کیا گیا۔ یہ مڈل سکول 1964ء میں گورنمنٹ ڈی سی ہائی سکول بنا، تو اس مندر کے صحن کو غالباً دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ 7 کنال پر مشتمل مشرقی حصہ چھٹی سے دسویں کلاسوں کے لیے ہائی سکول کے حصے میں آیا، جب کہ پہلی سے پانچویں کلاسوں کے لیے مغربی جانب قریباً پانچ کنال رقبہ پرائمری سکول کو ملا۔
جب بابری مسجد کا سانحہ ہوا تھا، تو پورے ملک کی طرح منڈی احمد آباد کے باسیوں میں بھی شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ شہر کی مذہبی اور سیاسی قیادت کی سربراہی میں بہت بڑا جلوس نکالا گیا۔ نوجوانوں میں سخت غصہ اور اشتعال پایا جاتا تھا۔ اسی جوش کے عالم میں ہتھوڑوں اور لوہے کے راڈوں سمیت جس کے جو ہاتھ لگا، وہ لے کر اس مندر کو گرانے کے لیے دوڑ پڑا، مگر اس موقع پر مقامی علمائے کرام اور سیاسی قیادت نے نہایت بردباری اور سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے مشتعل نوجوانوں کو سمجھایا کہ جذبات پر قابو رکھیں اور پُر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ اگر آج ہم نے اس مندر کو گرا دیا تو ممکن ہے، ہندوستان میں اس کے بدلے میں 100 مساجد کو شہید کر دیا جائے۔ گو نوجوان بہت پُرجوش تھے، مگر بات ان کی سمجھ میں آگئی۔
اس دور میں گورنمنٹ ہائی سکول منڈی ہیرا سنگھ میں صرف چار کلاس روم تھے۔ سکول کی جنوبی دیوار کے ساتھ ایک قطار میں بنے ہوئے ان چار کلاس روموں کے آخر میں مشرقی جانب ہیڈ ماسٹر صاحب کا دفتر تھا اور دفتر کے بالکل ساتھ ہی سکول کا مین گیٹ تھا، یعنی شروع کے دور میں سکول کا مین گیٹ شمالی جانب تھا۔ آج کل مین گیٹ عمارت کی مشرقی جانب ہے۔ دفتر کے بالکل سامنے آم کا ایک درخت تھا، جس پر گھنٹی لٹکی رہتی تھی۔ اُس دور میں سکول کے نائب قاصد برکت علی قریشی (مرحوم) گھنٹی بجایا کرتے تھے۔ وہ گھنٹی بجانے کے ’’سپیشلسٹ‘‘ تھے۔ ان کی گھنٹی کی آواز نہ صرف آدھے شہر میں، بل کہ قریبی گاؤں بونگہ صاحبہ، کاہن سنگھ والا (موجودہ گوہر آباد) اور موضع کمیریاں میں بھی سنائی دیتی تھی۔ سکول لگنے سے پندرہ منٹ پہلے ’’وارننگ بیل‘‘ ہوتی تھی اور یہ گویا طلبہ کے لیے اعلان تھا کہ فوراً سکول کی جانب چل پڑیں۔
سکول میں چوں کہ کلاس روموں کی تعداد کم تھی۔ اس لیے مندر والی بلڈنگ کے سامنے صحن میں جنوبی دیوار کے ساتھ دو عدد برآمدے اپنی مدد آپ کے تحت بنوا دیے گئے تھے۔ بعد میں جب کلاسز کے سیکشنز بننے لگے تو پھر دو کلاسز مندر والی بلڈنگ میں بھی بیٹھنے لگیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔
