نسوار سے جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

چلیں، آج اس گھمبیر ماحول میں کچھ ہلکی پھلکی بات کی جائے۔
نسوار کی برکتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر وقت میں ناممکن ہے کہ اُن کا احاطہ ہوسکے۔ ہمارے سیدو شریف میں سیدو بابا مسجد کے پہلو میں ایک سپر سٹور تھا (شاید اب بھی ہو)، اُس کی ابتدا نسوار ہی سے ہوئی تھی۔ عبدالرحمان ماما ابتدا میں نسوار بیچا کرتے تھے اور جب اُنھوں نے یہاں پر رقم بچا کر کریانے کی دُکان کھولی، تب بھی وہ اُسی پرانی ہانڈی میں نسوار کی گولیاں فروخت کے لیے رکھتے تھے۔ سوراخ والے پیسوں کی ایک لڑی ہانڈی کی گردان میں ڈالی ہوتی اور وہ اس بات پر کبھی شرمندگی محسوس نہ کرتے کہ اُنھوں نے کاروبار کی ابتدا اسی ہانڈی سے کی تھی…… مگر ایسا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
وودیہ سکول میں میرے ایک کلاس فیلو تھے۔ اُن کے والد، جن کو ہم ’’نسواری ماما‘‘ کے نام سے جانتے تھے،کئی سالوں سے نسوار بیچتے چلے آ رہے تھے۔ دُکان اُن کی سیدو بازار میں ایک ایسے پل کے دھانے پر تھی، جس میں پیشاب کرنے کے لیے کئی سوراخ بنے ہوئے تھے۔ پیشاب نیچے سیدو بارانی نالے میں گر کر بہہ جایا کرتا تھا۔
یہ باتیں مجھے اس لیے یاد آرہی ہیں کہ ہمارے پورے علاقے کو ایک شخص ’’ری ٹیلرز‘‘ کو نسوار فراہم کرتا ہے۔ پہلے وہ ایک بوسیدہ سی سوزوکی میں آیا کرتا تھا۔ اب وہ 15 لاکھ کی ’’نان کسٹم پیڈ‘‘ (این سی پی) کار میں آتا ہے۔ شاید لنڈاکی تک اس کا "Beat” ہے۔ نقد پیسے وصول کرتا ہے۔اُدھار سودا بالکل نہیں دیتا۔
اُس کے برعکس ہمارے گاؤں کا شفیق نامی ایک شخص کئی سالوں سے نسوار بیچا کرتا تھا۔ کبھی کبھی کچھ گولیاں ایک شاپر میں ڈال کر اپنے ایک کزن کی دُکان پر لاتا، بڑی منتوں سے وہ دس بارہ گولیاں رکھ لیتا۔ وہ بے چارا ویسے کا ویسا رہ گیا۔ اس کے بیٹے بہت محنت کش ہیں اور خوب کماتے ہیں۔
نسوار کا لطف دوبالا کرنے کے لیے بعض منچلے الائچی، لونگ اور سونف وغیرہ خوش بو کے لیے اس میں ملاتے ہیں۔بعض مقامات پر ’’منتھال‘‘ کا تڑکا بھی لگاتے ہیں۔
نسوار کو پٹھانوں کے ساتھ نتھی کرنا صریحاً تاریخی بد دیانتی ہے۔ یوروپ اور انگلستان کے رؤسا 16ویں صدی سے نسوار کا استعمال کرتے تھے۔ اس کے لیے حیثیت کے مطابق سونے، چاندی اور پیتل کے ڈبے بنواتے تھے۔ ہیرے جواہرات حسبِ استطاعت جڑ دیتے تھے۔
ہندوستان میں انگریز کی آمد کے ساتھ یہ نشہ استعمال ہونے لگا۔ اس کا تمباکو سگریٹ والے تمباکو سے الگ ہوتا ہے۔ نسوار بناتے وقت اس میں راکھ لازمی جز کے طور پر ملاتے ہیں۔ ممکن ہو تو "Dodonaea” (غوڑاسکے) کی راکھ کو ترجیح دیتے ہیں۔
اب تو کمرشل بنیاد پر بجلی سے چلنے والی چکیاں دن میں ہزاروں گولیاں تیار کرتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے