اقبال ہوٹل، بحرین بازار

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab
 ہم جب بھی ہائیکنگ یا ٹریکنگ کی غرض سے کالام کا رُخ کرتے، تو ہمارا ناشتا بہ ہر صورت اقبال ہوٹل میں ہوا کرتا۔ وہاں کی کڑک چائے، حلوا پوڑی، پراٹھا اور نان کی بات ہی کچھ اور تھی۔ دوستوں کے جس طرح جثے الگ تھے، اُسی طرح پسند و ناپسند بھی الگ اور ہر ایک ’’حصہ بہ قدرِ جثہ‘‘ کے برخلاف ناشتے سے انصاف کرنے میں انصاف کے تمام معروف و غیر معروف علم برداروں کو پیچھے چھوڑنے میں ماہر...... !کوئی نان چھولا آرڈر فرماتا، تو کوئی چھولا پراٹھا یا پھر صرف چائے پراٹھا۔ تلی ہوئی چیزیں ہمیں راس نہیں آتیں، اس لیے ہم بالائی اور سادہ نان تناول فرمانے پر اکتفا کرتے، جب کہ تگڑی چائے اس پر مستزاد۔ 
اگست 2022ء کو سیلاب آیا، تو کئی جگہیں زیرِ آب آگئیں، جن میں ایک بحرین کا پیارا بازار بھی شامل ہے۔ سیلاب کی کوریج کے لیے گئے ، تو سفید چارباغی ٹوپی پہنے (شاید اقبال ہوٹل کا مالک) ملا۔ ہم نے دکھ کا اظہار کرنا چاہا، تو لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے فرمانے لگے کہ جس کا دیا تھا، لے لیا....... اُس کی مرضی ہوئی، تو دوبارہ دے دے گا۔ ہمیں رہ رہ کے بشیر فاروقی کا یہ شعر یاد آنے لگا کہ 
آگہی، کرب، وفا، صبر، تمنّا، احساس
میرے ہی سینے میں اُترے ہیں یہ خنجر سارے
بحرین بازار کی رونقیں دوبارہ بہ حال ہوچکی ہیں، لیکن اقبال ہوٹل دریائے کنارے سے بازار کی دوسری طرف شفٹ ہوچکا ہے۔
یہ تصویر اگست 2022ء یعنی سیلاب سے پہلے لی گئی ہے۔
(اگر یہ تصویر اچھے ریزولوشن میں درکار ہو، تو ہمارے ایڈیٹر سے ان کے ای میل پتے amjadalisahaab@gmail.com پر رابطہ فرمائیں، شکریہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے