محمود استاد صاحب کی یاد میں

Blogger Sajid Aman
 ریاست سوات علمی و تعلیمی لحاظ سے پورے صوبہ (شمال مغربی سرحدی صوبہ) (اب خیبر پختونخوا) اول نمبر پر رہا اور دوسرے نمبر اور اول نمبر کے درمیان فرق بہت بڑا اور ناقابلِ عبور رہا۔ اس کی وجہ باچا صاحب اور خاص طور پر والی صاحب کی سرپرستی اور دل چسپی کے ساتھ ان عظیم ہستیوں کی کاوشیں ہیں، جنھوں نے خود علم کے حصول کے لیے کاوشیں کیں اور پھر اسی عقیدت سے یہاں علم کی آب یاری کرتے رہے۔ 
محمود استاد صاحب، ریاستِ سوات کے اولین اساتذہ میں سے تھے، جن کی خدمات ریاستِ سوات کی تاریخ کے ساتھ منسلک ہیں۔ انھی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بعد میں ریاستِ سوات کی تعمیر و ترقی کے ساتھ پورے صوبے میں سوات کا روشن تعارف رہے۔ 
محمود استاد صاحب کے والد صاحب کا نام عبدالاکبر تھا، جو خود بھی عالم فاضل انسان تھے۔ اُنھوں نے اپنے بچوں کو تعلیم کے حصول پر مائل کیا۔ ایک صاحب زادے محمود استاد صاحب ودودیہ سکول اور شگئی سکول کے استاد تھے۔ دوسرے حضرت احمد ہیڈ ماسٹر صاحب تھے۔
1922ء سے پہلے سوات کی حدود میں کوئی سکول نہیں تھا۔ اس لیے ان دو برادران نے تھانہ ملاکنڈ جاکر تعلیم حاصل کی۔ اسی نسبت سے حضرت احمد ہیڈ ماسٹر صاحب کو احترام سے ’’تھانے دادا‘‘ کہا جاتا تھا۔ اُنھوں نے سوات کے لوگوں کو تعلیم کے نور سے منور کیا۔ اپنے بچوں کو بھی تعلیم دلوائی۔ 
محمود استاد صاحب شاہی خاندان کے استاد بھی رہے۔ اُن کے شاگردوں میں عدنان باچا، شہریا ر باچا اور ان کی بہنیں شہزادیاں قابلِ ذکر ہیں۔ یہ شاہی خاندان کا استاد صاحب پر اعتماد کا مظہر تھا۔ 
مغفور جان تحصیل دار، سید غنی سپرنٹنڈنٹ جہانزیب کالج محکمۂ تعلیم، سلطان غنی ڈی ایس پی، محمد نبی صاحب چائنہ کلے محکمۂ معدنیات، شبیر احمد عثمانی صاحب ایم اے، محمود استاد صاحب کی اولاد تھے۔ 
قارئین! میری خواہش ہے کہ ریاست کی تعمیر اور اعلا معاشرے کی تشکیل میں جن اساتذۂ کرام نے کردار ادا کیا، اُن کی زندگی آج کی نسل کے سامنے رکھی جائے۔ وہ تمام پوشیدہ معلومات اکھٹی کی جائیں، جن کی وجہ سے سوات کا نام ہے۔ پھر ہم بڑے فخر سے سوات کے درخشندہ ماضی کا حوالہ دے کر اپنا تعارف کرائیں گے۔ 
ان عظیم لوگوں کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے ملکر کاوشیں کیں کرکے دیکھایا اور ہم کو اپنے ماضی پر فخر کرنے کا موقع دیا۔
 ..........................................
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے