کبھی خواب نہ دیکھنا (چوتھی قسط)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے)
میرے والد نے اپنے بیٹے کو دوبارہ دیکھنے کی اُمید کبھی نہیں چھوڑی۔ جب ہم سردیوں کی لمبی راتوں میں آگ کے گرد بیٹھتے، تو وہ اکثر اُن کے بارے میں بات کرتے۔ جب مَیں چوتھی جماعت میں تھا، تو والد صاحب کو، اُن کی فرمایش بل کہ حکم پر، پشتو میں ترجمہ شدہ کتاب ’’انوارِ سہیلی‘‘ پڑھ کر سناتا۔ جب مَیں کوئی شرارت کرنے کی کوشش کرتا، تو میرے والد اکثر مجھے ’’دمنہ‘‘ چالاک گیدڑ کَہ کر پکارتے تھے، جو اس حکمت سے بھری کتاب کا ایک کردار تھا۔ وہ اچانک موضوع بدلتا اور کہتا: ’’دیکھو بیٹا! ہم دونوں ایک دن شیر کو بتائے بغیر ممبئی جائیں گے۔ ہم ایک ہوٹل میں ٹھہریں گے اور روزانہ سرہی کراس جائیں گے، اسے دور سے دیکھیں گے اور پھر اپنے ہوٹل میں واپس آئیں گے۔ اور ایک دن ہم اسے ’شیر خانہ!‘ کہیں گے۔ یہ اس کے لیے بہت بڑا سرپرائز ہوگا۔‘‘
ہم سب اُن کے درد کو سمجھتے تھے، جو اُن کے خوب صورت چہرے کی ہر سطر پر لکھا تھا…… لیکن ہم سوائے چپکے رونے کے، اُن کی مدد نہیں کرسکتے تھے۔ میرے والد اللہ کی رضا کے سامنے مکمل سر تسلیم خم کرنے کی علامت تھے۔ مَیں نے بڑے بڑے علما اور پرہیزگاروں کو، اُنھیں آتے دیکھ کر، تعظیماً اُن کے لیے کھڑے ہوتے دیکھا ہے۔ اُنھوں نے والی کے رویے کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا، بل کہ ہمیں بتایا کہ اُنھوں نے ہماری تعلیم اور ہمیں حلال روٹی کھلانے کی وجہ سے اُن کی (تحصیل داری کی) پیش کش کو ٹھکرایا تھا۔
شگئی کا سکول افسر آباد میں ہمارے گھر سے کوئی دو میل دور تھا۔ کوئی بھی موسم ہو، میرے لیے اتنا دور جانا مشکل تھا۔ سردیوں میں ہمیں دوپہر کے کھانے اور نماز کے لیے ایک گھنٹے کا وقفہ ملتا تھا۔ افسروں کے بچوں کے لیے دوپہر کا کھانا اُن کے نوکر لاتے تھے، لیکن ہم رات کو پکی ہوئی ’’جوار‘‘ کی روٹی کپڑے سے بنی ہوئی تھیلیوں میں لاتے اور ’’خوڑ‘‘ کے کنارے بیٹھ کر پانی کے ساتھ نگل جاتے۔ اُن دنوں خونہ چم سے آگے گلی گرام تک گھر نہیں تھے۔ ’’خوڑ‘‘ کا پانی بالکل صاف ہوتا تھا۔
ریسیس کے وقت بچے اپنے جیب خرچ سے سکول کے قریب بخت ولی نامی دکان دار سے سویٹس خریدتے، جن کے پاس خریدنے کو کچھ بھی نہ ہوتا۔ وہ بھوکی آنکھوں کے ساتھ اُنھیں دیکھتے ۔ ہم دونوں بھائی اسی کیٹگری سے تعلق رکھتے تھے۔ ہمارے گھر کے برآمدے میں کوئی چھے فٹ اونچی مٹی کی دو الماریاں تھیں۔ اُس میں فرش سے تھوڑا اوپر ایک سوراخ تھا، جو مٹی کے ڈھکن سے ڈھکا ہوا تھا۔ ایک صبح، مَیں نے ڈھکن کو ہٹایا اور کچھ مقدار میں ’’جوار‘‘ نکالے۔ سوراخ کو ڈھکن سے ڈھک دیا اور اپنے اسکول کا بستہ لے کر بازار کی طرف بھاگا۔ اُسے ایک پنساری کو بیچا اور اُس دن بہت زیادہ میٹھا کھایا۔
اَب مَیں امیر لڑکوں سے مقابلہ کرسکتا تھا۔ ایک صبح، جب مَیں چوری شدہ مکئی کو کسی حاملہ لڑکی کی طرح گود میں چھپائے ڈیوڑھی سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ میرے بڑے بھائی مجھ سے ٹکرا گئے۔ اُنھیں پتا چل گیا تھا کہ مَیں کیا چھپائے لے کر جا رہا ہوں۔ اُنھوں نے مجھے چوری کرنے پر ڈانٹ پلائی۔ مَیں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگا، مکئی بیچی اور اسکول جانے کے بہ جائے اپنے گاؤں ابوہا کی طرف جانے والی سڑک پکڑی۔ مَیں چار گھنٹے میں گاؤں پہنچ گیا اور سیدھا اپنے چچا کے گھر چلا گیا۔ میرے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے اور مجھے بخار بھی چڑھ گیا تھا۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میرے چچا دیکھنے باہر گئے کہ کون دستک دے رہا تھا؟ وہ جلدی سے واپس آئے اور مجھے فوراً سیدو واپس جانے کو کہا۔ کوٹہ کے قلعے کا ایک ’’قلعہ وال‘‘ یا سپاہی مجھے واپس بھیجنے کا حکم لے کر باہر کھڑا تھا۔ میری چچی نے میرے چچا سے مجھے تھوڑا آرام کرنے کی مہلت مانگی، لیکن اُنھوں نے انکار کر دیا اور مجھے سپاہی کے حوالے کر دیا۔ وہ مجھے گاؤں سے باہر لے آیا اور سیدو واپس جانے کا حکم دیا۔
مختصر یہ کہ مَیں رات دیر گئے گھر پہنچا۔ میرے پاؤں بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور دُکھ رہے تھے۔ میری ماں نے نمک اور گرم پانی ملا کر روتے ہوئے میرے پاؤں دھوئے۔ میرے والد میرے لیے افسردہ تھے، لیکن میری چوری کی ناپسندیدگی کی علامت کے طور اُنھوں نے ہم دردی کا اظہار نہیں کیا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے