گئے تھے روزے بخشوانے، نماز گلے پڑی (کہاوت کا پس منظر)

ایک کام سے عذر کیا دوسرا کام اور سپرد ہوگیا۔ اُلٹے لینے کے دینے پڑے۔
یہ کہاوت اُس وقت کہی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی مصیبت سے نجات حاصل کرنے کی تدبیر میں کسی دوسری مصیبت میں مبتلا ہوجائے۔
اس کہاوت کے متعلق سے مشہور ہے کہ ایک شخص کسی مولوی کا معتقد تھا اور اکثر ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ ایک روز مولوی صاحب نے اُس سے کہا تم روزے رکھا کرو۔ اسی میں تمہاری بھلائی اور بہتری ہے۔ اس نے مولوی صاحب کے حکم کی تعمیل میں روزے رکھنا شروع کردیے مگر جلد ہی وہ روزوں سے تنگ آگیا۔ وہ روزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: ’’میرے روزے معاف کردیجیے۔‘‘ مولوی صاحب نے جواب میں کہا، روزوں کے ساتھ ساتھ پابندی سے نمازیں بھی پڑھا کرو، تاکہ دوسرا فرض بھی ادا ہو۔ ناچار اس کو مولوی صاحب کے حکم کی تعمیل کرنا پڑی۔ اُسی وقت سے یہ مثل مشہور ہوگئی کہ ’’گئے تھے روزے بخشوانے، نماز گلے پڑگئی۔‘‘
(ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی تصنیف ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ مطبوعہ ’’دارلنور، لاہور‘‘ اشاعت 2012ء، صفحہ244 سے انتخاب)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے