’’مُٹ بھیڑ‘‘ یا ’’مُٹھ بھیڑ‘‘ (ہندی، اسمِ مونث) کا املا عام طور پر ’’مُڈ بھیڑ‘‘ یا ’’مُڈھ بھیڑ‘‘ لکھا جاتا ہے۔
فرہنگِ آصفیہ، نوراللغات اور علمی اُردو لغت (متوسط) کے مطابق دُرست املا ’’مُٹ بھیڑ‘‘ یا ’’مُٹھ بھیڑ‘‘ ہے جب کہ اس کے معنی ’’آمنا سامنا‘‘، ’’مقابلہ‘‘، ’’آپس میں گتھ جانا‘‘ اور ’’لڑنا‘‘ کے ہیں۔
نوراللغات میں ’’مُٹ بھیڑ‘‘ اور ’’مُٹھ بھیڑ‘‘ کے ساتھ اس مرکب اسم کا ایک اور املا ’’مُنڈ بھیڑ‘‘ بھی درج ملتا ہے۔ صاحبِ نور نے آگے کے صفحات میں ’’مُڈھ بھیڑ‘‘ کے ذیل میں باقاعدہ طور پر ان الفاظ میں صراحت کی ہے: ’’مُڈھ بھیڑ اصل میں مُنڈ بھیڑ ہے۔‘‘ اس طرح صاحبِ آصفیہ نے بھی ’’مُڈھ بھیڑ‘‘ کے ذیل میں صراحت کی ہے کہ’’دیکھو (مُٹ بھیڑ)‘‘
صاحبِ آصفیہ و نور دونوں نے ’’مُٹ بھیڑ‘‘ کے ذیل میں محاورہ ’’مُٹ بھیڑ ہونا‘‘ درج کرکے املا پر گویا مہرِ تصدیق ثبت کرلی۔
صاحبِ آصفیہ نے ’’مُٹ بھیڑ‘‘ کے حوالے کے طور پر حضرتِ مصحفیؔ کا ذیل میں دیا جانے والا شعر درج کیا ہے:
مُٹ بھیڑ ہو رستے میں مِری ننگ و عار سے
منھ پھیر دے اِدھر کو جو تاثیرِ دُعا کا
جب کہ ’’مُٹھ بھیڑ‘‘ کے حوالے کے طور پر میر تقی میرؔ کا یہ شعر درج کیا ہے کہ
کٹ کر گریں گے راہ میں مشتاق علف سے
مُٹھ بھیڑ اگر ہوگئی اُس تیغ بکف سے
صاحبِ نور نے حضرتِ داغؔ کے دو اشعار ’’مُٹ بھیڑ‘‘ کے حوالے سے درج کیے ہیں، ایک ذیل میں ملاحظہ ہو:
رستہ میں بھی تھمتا نہیں زاہد کا وظیفہ
مُٹ بھیڑ الٰہی کسی مے خوار سے ہوجائے
حاصل نشست: ’’مُٹ بھیڑ‘‘ یا ’’مٹھ بھیڑ‘‘ دُرست املا والے الفاظ تصور کیے جائیں گے نہ کہ ’’مُڈ بھیڑ‘‘ یا ’’مُڈھ بھیڑ۔‘‘
