ایک رپورٹ کے مطابق محض سات برسوں میں ہمارے ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں 33 لاکھ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ یعنی ہر سال اوسطاً پانچ لاکھ افراد اس تکلیف دہ لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں منشیات کے استعمال میں کس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے شوق دوسروں کی نقل یا فیشن کے طور پر اپنائے جاتے ہیں لیکن بعد میں وہ ایسی عادت یا مجبوری بن جاتے ہیں جن کو کوشش کے باوجود چھوڑنا ممکن نہیں رہتا۔ منشیات ان میں ایک ہے جو نہ صرف انسان اور اس کی زندگی بلکہ گھر، معاشرے اور قوم کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔ اسی وجہ سے منشیات کو لعنت کہا جاتا ہے۔ منشیات کے استعمال کی پہلی سیڑھی سگریٹ نوشی ہے، جب کہ پہلے سے نشہ کے عادی افراد بھی منشیات فروشوں کے آلہ کار بن کر دوسروں کو مفت منشیات کی لت لگا کر بعد ازاں انہیں منشیات فروخت کرنے لگتے ہیں۔ منشیات کا استعمال اتنی بری عادت ہے کہ یہ انسان سے جائز و ناجائز ہر کام کروا لیتی ہے۔ چاہے وہ کسی بے گناہ انسان کا قتل ہی کیوں نہ ہو۔ جب کہ جرائم کے واقعات کو دیکھا جائے، تو آدھے سے زیادہ جرائم نشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بیشتر ٹریفک حادثات بھی عموماً اسی باعث رونما ہوتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 15 سے 64 سال عمر کے تقریباً 35 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں جب کہ پاکستان میں 76 لاکھ سے زائد افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 55اور دیگر صوبوں کے 45 فیصد افراد نشے کے عادی ہیں اور اس تعداد میں سالانہ 5 لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔
اَپر کلاس لوگ آئس کرسٹل، حشیش، ہیروئن کے ساتھ ساتھ مختلف ادویہ کا استعمال کرتے ہیں جب کہ مڈل کلاس کے لوگ فارما سیوٹیکل ڈرگز، شراب، چرس، پان، گٹکا، نسوار اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے سبب 70 ہزار سے زائد افراد نے اپنی جانیں قربان کیں لیکن ہر سال پاکستان میں اس سے تین گنا زیادہ ہلاکتیں منشیات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کے مستقبل کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جہاں منشیات سے 13 سے 25 سال کے نوجوان لڑکے لڑکیاں متاثر ہو رہے ہیں، وہاں بدقسمتی سے پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے مخصوص ہسپتالوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو موجود ہیں، وہاں سہولتیں ناکافی ہیں جب کہ غیر سرکاری طور پر یہ علاج بہت مہنگا، پیچیدہ اور طویل ہے۔
ہمارے معاشرے میں کم عمر افراد نشے کو بطورِ فیشن اپناتے ہیں جب کہ بالغ اور پختہ عمر کے لوگ ذہنی دباؤ اور دیگر امراض سے وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے اس لعنت کا سہارا لیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں پان، نسوار، گٹکا، چھالیا، سگریٹ جیسی نشہ آور اشیا کو نشہ تصور ہی نہیں کیا جاتا جب کہ درحقیقت انہی سے دیگر نشہ آور اشیا کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ منشیات میں سگریٹ، چھالیا، نسوار، پان، چرس اور شیشہ وغیرہ کی مقبولیت کے بعد اب آئس نامی مہنگے نشے کا بھی اضافہ ہوگیا ہے جو کہ نوجوان نسل کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ نوجوانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا آئس نشہ بہت ہی طاقت ور اور اثرپذیر ہے، جس کی ایک خوراک ہی انسان کو اس کا عادی بنا دیتی ہے۔ شفاف چینی کے دانوں کی شکل سے ملتے اس نشے کو گلاس یا کرسٹل کا نام بھی دیا جاتا ہے جو کہ ایکسپائر ہوجانے والی ادویہ پیرا سٹامول، پیناڈول، وکس اور نزلہ و زکام کی دیگر ادویہ سے ’’ایفیڈرین‘‘ اور ’’ڈیکسٹرو میتھارفن‘‘ نکال کر تیار ہوتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق آئس کے استعمال کے اثرات انتہائی تباہ کن ہیں، جس سے انسان کا حافظہ کمزور ہوجاتا ہے اور یہ اعصابی امراض کے ساتھ گردوں اورجگر کے لیے بھی انتہائی مہلک ہے۔ بدقسمتی سے اس نشے کا استعمال تعلیمی اداروں میں بھی فروغ پا رہا ہے، جہاں اسکول کالج اورجامعات کے لڑکے لڑکیاں اس کے استعمال کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ حلق کی خرابی، جگر کی خرابی، امراضِ قلب، قلتِ عمر، معدہ کے زخم، فاسد خون، تنفس کی خرابی، کھانسی، سردرد، بے خوابی، دیوانگی، ضعفِ اعصاب، فالج، ٹی بی، بواسیر، دائمی قبض اور گردوں کی خرابی جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں سیگریٹ کے علاوہ نشہ آور چیونگم کا استعمال کررہی ہیں۔ ’’فلیتو نام‘‘ چیونگم تھائی لینڈ اور یورپ سے منگوائی جاتی ہے۔ یہ 500 سے 1200 روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے مختلف نشہ آور اشیا کے استعمال پر قابو پایا جائے، تاکہ ملک سے منشیات کی لعنت کا خاتمہ ہواور قوم کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ معاشی اصلاح کا علم اٹھانے والی سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے منشیات سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی سمت میں کوئی ٹھوس اور مؤثر اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ پاکستان میں انسدادِ منشیات کے قوانین پر عمل درآمد کروانے کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، پولیس، ایف آئی اے، کسٹم، فرنٹیر کانسٹیبلری، ایئر پورٹ سیکورٹی فورس اور دیگر ادارے تو موجود ہیں، لیکن ان کے مابین رابطوں کے فقدان کی وجہ سے منشیات کی روک تھام میں اب تک واضح کامیابی نہیں مل پائی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشرے سے منشیات کی لعنت ختم کرنے کے لیے اینٹی نارکوٹکس کو مزید فعال بنائے اور اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرتِ بنائے۔
حکومت کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے مشاغل کیا ہیں؟ ملک کی سماجی و رفاہی تنظیموں، جماعتوں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، ڈاکٹر اور طبی امور سے وابستہ افراد کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لیے اپنی اپنی سطح پر اور اپنے دائرہ کار میں مکمل کوشش کریں۔ میڈیا کے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ ہماری نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ ان کو بنیادی سہولیات، کھیلوں کے میدان اور مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ اپنی صلاحتیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرسکیں۔ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کو کبھی مذاق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی ہی کی جائے۔
……………………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔