نوے کی دہائی، مینگورہ کے ڈب اور غوطے

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

جب مینگورہ شہر کے خوڑ (جڑواں ندیاں) صاف تھے اور اہلِ مینگورہ اس کا پانی کپڑے دھونے اور وضو کے لیے استعمال میں لاتے تھے، اُس دور میں ہم ان خوڑوں میں بنے "ڈبوں” (ڈب، پشتو میں اُس جگہ کو کہتے ہیں، جہاں پانی نسبتا گہرا ہوتا ہے) میں نہایا کرتے تھے۔
نوے کی دہائی میں مینگورہ شہر میں مشہور ڈب، چینہ مارکیٹ والے پل کے نیچے تھا۔ پل سے نیچے گہرے پانی میں غوطہ لگانے کے لیے چیتے کا سا جگر چاہیے ہوتا تھا۔ مَیں مذکورہ ڈب میں نہانے کی کبھی ہمت نہ کرسکا۔ اس لیے کہ پُل سے غوطہ لگاتے ہوئے میرے اُس وقت کے ہم جماعت سکندر اور دلاور مذکورہ ڈب میں ڈوب کر جاں بہ حق ہوئے تھے۔ غالباً اُس وقت ہم تیسری یا چوتھی جماعت میں تھے۔
دوسرا مشہور ڈب، میونسپل کمیٹی مینگورہ کے عین سامنے تھا۔ وہاں خوڑ کا پاٹ نسبتاً چوڑا ہوتا تھا۔ اس لیے ڈب گہرا بھی ہوتا، تو ہم جیسے کم ہمت بھی غوطہ لگانے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔
تیسرا بڑا ڈب، جو مجھے یاد ہے، لنڈیکس پل (کانٹینینٹل ہوٹل) کے قریب تھا۔ ہوٹل قائم ہوا، تو ڈب صفحۂ ہستی سے مٹ گیا۔
چوتھا بڑا ڈب، گراسی گراؤنڈ (جو اَب تارکِ انصاف حکومت کی خصوصی مہربانی سے تارکولی گراؤنڈ بن چکا ہے) کے عقب میں قصاب خانے کو امانکوٹ کے علاقے سے ملانے والے پل کے قریب تھا۔
مشہور غوطے (Dives):
اُس دور میں ہم لڑکے بالے غوطہ زن ہوتے وقت دو تین مختلف قسم کے غوطے لگاتے تھے۔  
سب سے مقبول غوطہ "د مھی ٹوپ” تھا۔ یہ پشتو اصطلاح دراصل انگریزی کی “Fish Dive” کی متبادل ہے۔ اُس دور میں میرے ہم عمر دوستوں میں میرے علاوہ بہ مشکل دو یا تین دوست ہی ’’فِش ڈائیو‘‘ میں مہارت رکھتے تھے۔
دوسرے نمبر پر مقبول غوطہ ’’پیشی کونڈئی‘‘ تھا، جس کے لیے انگریزی اصطلاح “Front Flip”  استعمال کی جاتی ہے۔
لنگ (Swimwear):۔ ’’لنگ‘‘ کے بغیر یہ تحریر ادھوری ہی ہوگی۔ میری عمر کے لوگ یا مجھ سے بڑے بہ خوبی جانتے ہیں کہ گھر سے مئی تا اگست دوپہر کو نکلنے اور مغرب تک خوڑ میں نہانے کے عمل کو وقت کا ضیاع سمجھا جاتا تھا۔ اکثر ایسے بچوں کو ’’لوفر‘‘ یا ’’ٹپوری‘‘ جیسے القاب سے نوازا جاتا۔ ہم اگر دوپہر کو ماں کی آنکھ لگتے ہی گھر سے فرار ہونے میں کام یاب ہوجاتے، تو ساتھ ’’لنگ‘‘ (وہ ایکسٹرا شلوار جسے پہن کر نہایا جاتا) لے جاتے۔ پھر شام کو واپس آتے ہی ہماری وہ کلاس لی جاتی کہ الامان و الحفیظ! مگر ہم بھی تو نچلا بیٹھنے والوں میں سے نہ تھے، اگلے روز حسب معمول ماں کے آنکھ لگتے ہی یہ جا وہ جا۔
شناز:۔ مَیں نہیں مانتا کہ ایک بندہ ہماری طرح خوڑ میں نہایا ہو اور وہ ’’شناز‘‘ کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ ہماری عمر میں جو لڑکے مشاق تیراک نہیں تھے، وہ خوڑ میں اتھلے پانی میں تھوڑی دیر بیٹھ کر شلوار مکمل طور پر بھگو دیتے۔ پھر ناڑا کس کر باندھ لیتے اور پائنچے گھٹنوں سے اوپر رانوں تک اٹھا لیتے۔ آخر میں کھڑے کھڑے پیٹ کو سکیڑ کر نافہ بار بار اٹھا کر گیلے شلوار کے اندر پھونک مارتے۔ یہاں تک کہ شلوار غبارے کی طرح پھول جاتی۔ اُس کے بعد آرام سے پھولی شلوار کی مدد سے دونوں ہاتھوں کو چپو بنا کر پانی کی سطح پر بطخ کی طرح تیرنے کا مزا بس مذکورہ تجربے سے گزرنے والے ہی کو پتا ہے۔
لامبو/ لامبہ (Swimming):۔ تیرنا جسے انگریزی میں سویمنگ کہتے ہیں، ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ مشق کرنا پڑتی ہے۔ سویمنگ کتنا ضروری عمل ہے، اس حوالے سے لڑکپن میں شاید ’’ریڈرز ڈائجسٹ‘‘ میں ایک بوڑھے انگریز لکھاری، جو کہ والد بھی تھا، کی تحریر نظروں سے گزری تھی۔ تحریر کی تو ہر سطر کمال کی تھی، مگر ایک پیراگراف میرے ذہن پر اَن مٹ نقش چھوڑ گیا۔ مذکورہ پیرا کا مفہوم آسان الفاظ میں کچھ یوں بنتا ہے:’’اگر آپ کا بچہ سویمنگ، ڈرائیونگ اور فائرنگ کرنا نہیں جانتا، تو اُس کی شخصیت نامکمل ہے!‘‘
نوے کی دہائی میں میری عمر کے لڑکوں میں سویمنگ دو قسم کی مشہور تھی:
پہلی قسم ’’د خوڑ لامبو/ لامبہ‘‘ (ندی والی سویمنگ) کہلاتی۔
دوسری ’’د سیند لامبو/ لامبہ‘‘ (دریا والی سویمنگ) کہلاتی۔
ہم چوں کہ تیراکی میں مشاق نہیں تھے، اس لیے جیسے تیسے خوڑ والی سویمنگ سیکھ لی۔ اس کا طریقہ بڑا دل چسپ ہوا کرتا تھا۔ پانی میں غوطہ لگاتے ہی دونوں ہاتھ سینے کے لیول پر لے جاکر پانی کو نیچے کی طرف دھکیلنا ہوتا اور دونوں پاوؤں کو یکے بعد دیگرے زور زور سے پانی کی سطح پر مارا جاتا۔ یوں تیراک پانی کی سطح پر تیرتا جاتا اور ڈوبنے سے بچا رہتا۔
دریا کی سویمنگ یک سر مختلف تھی۔ اس میں خود سر لہروں کو ہاتھوں کی مدد سے چھیرنا پڑتا۔ دایاں ہاتھ حرکت میں ہوتا، تو منھ بائیں جانب ہوتا۔ اس طرح بایاں ہاتھ حرکت میں ہوتا، تو منھ دائیں طرف ہوتا۔
سویمنگ کا ایک تیسرا طریقہ بھی تھا، جو نسبتاً زیادہ مہارت کا متقاضی تھا۔ ہم اکثر گہرے پانی میں ’’فِش ڈائیو‘‘ لگاتے، تو پانی کے اندر ہی اندر دونوں ہاتھ چپوؤں کی طرح دایاں، دائیں طرف اور بایاں، بائیں طرف پانی کو پیچھے دھکیلنے کی غرض سے حرکت میں لاتے۔ اس طرح جس مقام سے غوطہ لگایا گیا ہوتا، پانی کے اندر ہی اندر دور تک سانس روکے فاصلہ طے کرتے اور جہاں سانس بہ حال کرنا مقصود ہوتا، پانی کی سطح پر آکر نمودار ہوجاتے۔

  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے