انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں، قبائل اور خاندان ہمیشہ سے انسانی معاشرے کا حصہ رہے ہیں۔ اسلام نے ان فطری تقسیمات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا مقصد صرف باہمی تعارف قرار دیا ہے، نہ کہ فضیلت، برتری یا تفاخر۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
’’اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات، 49:13)
موجودہ دور میں مختلف قبائل اپنی تاریخ، نسب اور شناخت کو محفوظ کرنے کے لیے تنظیمیں قائم کر رہے ہیں اور اپنی روایات کو قلم بند کر رہے ہیں۔ اگر یہ کام تحقیق، تاریخی شعور اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے کیا جائے، تو یہ ایک مُثبت علمی کوشش ہے، لیکن اگر اسے نسلی برتری، قبائلی تعصب یا تفریق کا ذریعہ بنایا جائے، تو یہ اسلامی تعلیمات اور معاشرتی ہم آہنگی کے منافی ہوگا۔
اسی نقطۂ نظر کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے راقم نے اپنے قبیلہ ’’پاپین خیل‘‘ کا یہ مختصر تاریخی تعارف اور سوانحی خاکہ مرتب کیا ہے۔ اس کا مقصد کسی قبیلے کی برتری ثابت کرنا یا دوسروں پر فضیلت جتانا نہیں، بل کہ اپنے آبا و اجداد کی تاریخ، نسب، خدمات اور روایات کو محفوظ کرنا ہے، تاکہ آیندہ نسلیں اپنے ماضی سے آگاہ رہیں اور اس تاریخی ورثے کو ایک علمی و تحقیقی امانت کے طور پر محفوظ رکھ سکیں۔
ہمارا تعلق ’’پاپین خیل میاں گان‘‘ سے ہے۔ پاپین خیل کی ایک طویل اور قدیم تاریخ ہے، لیکن اس پر تحقیقی کام نہایت کم ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس کے پاس جتنی علمی استعداد اور وسائل ہیں، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اُس تاریخی سرمایے کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ زیرِ نظر مضمون صرف ایک خودنوشت اور تعارفی نشست ہے، مکمل تاریخ نہیں۔
پروفیسر محمد اختر نے اپنی کتاب ’’تاجک سواتی اور مملکتِ گبر: تاریخ کے آئینے میں‘‘ میں تقریباً 1190ء سے 1520ء تک سوات کی تاریخ پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں بعض تاریخی اغلاط موجود ہوسکتی ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے پہلے کسی نے اس موضوع پر اتنی وسیع تحقیق اور تاریخی مواد یک جا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اسی طرح مولانا سمیع اللہ نے ’’تحقیق الافغان‘‘ کے نام سے ایک اہم کتاب تصنیف کی۔ اس کے علاوہ بھی متعدد سواتی اہلِ علم نے اس موضوع پر کتابیں اور مقالات تحریر کیے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر نے اخوند درویزہؒ کی کتاب ’’تذکرۃ الابرار والاشرار‘‘ کے حوالہ جات نقل کیے ہیں۔ ہمارے پاپین خیل کے مؤرخین بھی اخوند درویزہؒ کے اقوال کو بنیادی اور معتبر ماخذ تصور کرتے ہیں۔
سلطان بہرام شاہ پاپینی اور سلطان پکھل سگے بھائی تھے۔ روایات کے مطابق ان کا تعلق سلاطینِ بلخ کے خاندان سے تھا۔ دونوں بھائی بلخ سے ہجرت کرکے افغانستان کے صوبہ کنڑ کے علاقے درۂ پیچ میں آباد ہوئے۔ روایات کے مطابق انھوں نے 1190ء میں مملکتِ گبر کی بنیاد رکھی۔
یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سلطان بہرام شاہ نے افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی ’’ھسکہ مینہ/ دھبالا اولسوالی‘‘ کے پاپین نامی گاؤں کو اپنا دارالحکومت بنایا، جس کی نسبت سے وہ پاپینی کہلائے۔
دونوں بھائیوں نے لغمان، ننگرہار، کنڑ، باجوڑ، سوات، بونیر اور کشمیر کے بارہمولہ (یا بارہ مولہ) تک اپنے اقتدار کو وسعت دی اور دو ریاستیں قائم کیں:
’’ریاستِ گبر‘‘ اور ’’ریاستِ پکھلی۔‘‘
ریاستِ گبر کا دارالحکومت پاپین تھا، جب کہ اس میں لغمان، ننگرہار، کنڑ اور باجوڑ شامل تھے۔ دوسری جانب سوات، بونیر سے لے کر کشمیر کے بارہمولہ تک کا علاقہ ریاستِ پکھلی میں شامل تھا، جس کی حکم رانی سلطان پکھل کے سپرد تھی۔ ریاستِ پکھلی کا دارالحکومت منگلور، سوات تھا۔ یاد رہے کہ اُس زمانے میں سوات کی حدود ہشت نگر تک پھیلی ہوئی تھیں۔
روایات کے مطابق سلطان بہرام شاہ پاپینی کسی مہم سے واپس آ رہے تھے کہ کوٹ اولسوالی کے مقام پر ان کا انتقال ہوگیا، اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سلطان تومنا مسندِ حکومت پر فائز ہوئے۔ بعد ازاں ریاستِ گبر کی حکم رانی سلطان تومنا کی اولاد اور نواسوں میں منتقل ہوتی رہی۔
سلطان پکھل کی وفات کے بعد ان کے نواسوں کے درمیان ریاستی امور پر اختلافات پیدا ہوگئے، جو بعد میں بغاوت کی صورت اختیار کرگئے۔ متعدد مؤرخین اس واقعے کا زمانہ تقریباً 1365ء بیان کرتے ہیں۔ اس بغاوت کو ختم کرنے کے لیے پاپین سے سلطان تومنا کے نواسے سوات آئے، تاکہ ریاست میں امن و استحکام بہ حال کیا جاسکے۔
اسی بغاوت کے دوران میں شام خان اور ان کے بھائی، المعروف چینو بابا، کو کانجو (سوات) میں ایک خیمے کے اندر زہر دیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں بھائی شہید ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد سلطنت کی باگ ڈور سلطان جہانگیر کے سپرد کر دی گئی۔
یہ ایک طویل تاریخی عہد ہے، جس میں سلاطینِ گبر یا سلاطینِ پاپین کی متعدد نسلیں حکم ران رہیں۔
اخوند درویزہؒ پشتو تاریخ، تصوف اور دینی علوم میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ اپنی کتاب ’’تذکرۃ الابرار والاشرار‘‘ میں اپنی والدہ کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں: ’’عفیفہ قرارئی بی بی بنت نازو خان بن ملک داور پائے بن ملک بابو بن سلطان قران بن سلطان خواجہ بن سلطان تومنا بن سلطان بہرام شاہ بن سلطان کجامن بن سلطان ہند بیگ بن سلطان جرس بن سلطان جمار بن سلطان شموس۔‘‘
اخوند درویزہؒ مزید لکھتے ہیں کہ سلطان شموس، سکندرِ ذوالقرنین کی اولاد میں سے تھے۔
اسی طرح سلطان تومنا کے دورِ حکومت میں بخارا سے سید محمود ولی بخاری تبلیغِ دین کی غرض سے پاپین تشریف لائے۔ سلطان تومنا ان کے حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوک سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی صاحب زادی کا نکاح ان سے کر دیا۔
اخوند درویزہؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بعد میں دونوں خاندانوں کے درمیان باہمی رشتہ داریاں بھی قائم رہیں۔ اسی تناظر میں اخوند درویزہؒ کا خاندان اخوند خیل ہمارے پاپینوں کے بھانجے ہیں، جب کہ سید محمود ولی بخاری کا خاندان، جو پاپینی بخاری سادات کے نام سے مشہور ہے، ہمارا ننھیال بھی ہے اور ہمارے بھانجے بھی ہیں، جو حالیہ جنیٹک ریسرچ سے بھی ثابت شدہ ہے۔
1398ء میں جب تیمور لنگ نے ریاستِ گبر پر حملہ کیا، تو ریاستِ گبر ٹوٹ گئی اور پاپینی چھوٹی چھوٹی مَلَکیوں تک محدود ہوگئے۔ اسی طرح تیمور لنگ نے سوات، بونیر اور کشمیر سے تعرض نہیں کیا، البتہ دریائے اباسین کے مغربی کنارے کے علاقے، جن میں موجودہ مانسہرہ وغیرہ بھی شامل تھے، ترکوں کے تسلط میں چلے گئے۔
مرزا الغ بیگ کے دور میں جب یوسف زئیوں کا قتلِ عام کیا گیا اور ان ملک بدر کر دیا گیا، تو یوسف زئی قبیلہ پاپین، ننگرہار پہنچا۔ وہاں پاپینیوں نے انھیں پناہ دی۔ اخوند درویزہؒ کے دادا اور پاپینی قبیلے کے مشران نے انھیں باجوڑ اور ہشت نگر دوآبہ میں آباد کیا۔
اُس وقت باجوڑ، گبری مَلَکان کے زیرِ تسلط تھا، جب کہ ہشت نگر، سواتی سلاطینِ پکھل کی اولاد کے زیرِ اقتدار تھا۔
1519ء کے اوائل میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے باجوڑ پر حملہ کیا، لیکن کام یاب نہ ہوسکے۔ بعد ازاں ظہیر الدین بابر نے ملک حیدر علی گبری کو زیر کرنے کے لیے باجوڑ کے مَلَک خواجہ کلاں اور مَلَک شاہ منصور یوسف زئی سے اتحاد کرلیا۔
یاد رہے کہ مغلوں اور یوسف زئیوں کے درمیان صلح نامہ بھی اسی نشست میں طے پایا… اور اسی موقع پر ظہیر الدین بابر اور مَلَک شاہ منصور یوسف زئی کے درمیان رشتے داری بھی قائم ہوئی۔ اس اتحاد کے نتیجے میں ملک حیدر علی گبری کو شکست ہوئی۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










