صوبہ خیبرپختونخوا کی سرزمین ہمیشہ ایسے رجالِ کار کی امین رہی ہے، جنھوں نے علم و عمل کے ذریعے نہ صرف اپنے گرد و پیش کو بدلا، بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری و عملی راہ نمائی کا سامان بھی مہیا کیا۔ انھی نابغۂ روزگار شخصیات میں شیخ الحدیث حضرت مولانا صاحب زادہ جہانزیب فاروقی سرہندیؒ کا نام ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے، جن کی زندگی علم، تقوا، استقامت اور اصلاحِ امت کا حسین امتزاج تھی۔
مولانا صاحب 1925ء میں سوات کے علاقے دکوڑک میں ایک معزز علمی و روحانی خانوادے ’’سرہندی خیل‘‘ میں پیدا ہوئے۔ شجرۂ نسب برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی سے جا ملتا ہے، جس کی نسبت سے ’’سرہندی‘‘ اور ’’فاروقی‘‘ کہلائے۔ والدِ گرامی میاں حضرت جی سرہندی اپنے وقت کے صاحبِ علم و فضل بزرگ تھے، جنھوں نے ابتدائی عمر ہی میں مولانا جہانزیب فروقی سرہندی کے اندر دینی ذوق اور علمی شغف پیدا کر دیا۔
مولانا نے ابتدائی تعلیم سوات کے جید علما سے حاصل کی۔ نحو و صرف کی کتب ’’شرح جامی‘‘ تک کی تعلیم ڈیلی (کبل) کے قاضی صاحب سے حاصل کی، جب کہ درشخیلہ کے معروف نحوی عالم ’’پشاور بابا‘‘ سے مزید تکمیل کی۔ علم الصرف کی تحصیل چارباغ کے معروف عالم مولانا فقیر محمد المعروف بازار مولی صاحب سے کی، جب کہ فقہ اور دیگر دینی علوم اپنے والدِ بزرگوار سے پڑھے۔ اس کے ساتھ ساتھ فارسی ادب میں بھی خاص مہارت حاصل کی اور گلستان، بوستان، سکندر نامہ جیسی کلاسیکی کتب کا گہرا مطالعہ کیا۔
مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے آپ ضلع مردان تشریف لے گئے، جہاں قاضی آباد، ساولڈھیر اور گدر کے علمی مراکز میں قیام کیا، جہاں مولانا محمد اسعد، مولانا شیر دل اور دیگر اہلِ علم سے منطق، فلسفہ اور دیگر فنون میں مہارت حاصل کی۔ اُس دور کی تنگ دستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طلبہ کو اکثر اوقات ساگ پکا کر، مکئی بھون کر یا پھر جنگلی پھلوں کھا کر گزارہ کرنا پڑتا تھا، مگر یہ مشکلات مولانا کے عزم کے سامنے ہیچ ثابت ہوئیں۔
اعلا تعلیم کے لیے مولانا نے ہندوستان کا سفر اختیار کیا اور 1352ھ (1933 عیسوی) میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں داخلہ لیا، جہاں مسلسل 8 سال تک علومِ دینیہ کی تحصیل میں خود کو وقف رکھا۔ حدیث، تفسیر، اصولِ فقہ، معانی، بیان، منطق، فلسفہ، عقائد اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ اس دوران میں برصغیر کے نام ور اساتذہ سے فیض پایا، جن میں بالخصوص مولانا محمد زکریا کاندھلوی، مولانا اسعد اللہ رام پوری، مولانا عبدالشکور، مولانا منظور احمد اور دیگر اکابرین شامل تھے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد جب مولانا اپنے علاقے واپس تشریف لائے، تو معاشرہ مختلف غیر شرعی رسومات اور بدعات کی لپیٹ میں تھا۔ نام نہاد پیروں اور جاہلانہ روایات نے دین کی اصل روح کو دھندلا دیا تھا۔ ایسے حالات میں ایک مجددانہ کردار ادا کرتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ کی تحریک شروع کی۔ خطابت، تدریس اور ذاتی کردار کے ذریعے لوگوں کو سنت کی طرف راغب کیا اور بدعات کے خلاف بھرپور جد و جہد کی۔ یوں مولانا صاحب کی مذکورہ کاوشیں آہستہ آہستہ رنگ لائیں اور معاشرے میں ایک مثبت دینی شعور بیدار ہوا۔
مولانا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اپنے آبائی گاؤں دکوڑک میں امامت، خطابت اور تدریس میں گزارا۔ شدید علالت کے باوجود کبھی دینی خدمات سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ اُن کے درس سے بے شمار طلبہ نے استفادہ کیا، جن میں کئی نام ور علما اور دینی راہ نما شامل ہیں، جیسے مولانا گل داد خان، مولانا عبداللہ چارباغی، مولانا کفایت اللہ، مولانا فضل الرحمان المعروف میاں صاحب، اور دیگر اہلِ علم۔
مولانا کی اولاد میں 7 بیٹے شامل ہیں، جب کہ شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے، جو مختلف علاقوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہی مولانا کی علمی وراثت کا سب سے روشن پہلو ہے۔
8 فروری 1998ء کو اتوار کے روز طویل علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ نمازِ جنازہ معروف عالمِ دین مولانا فقیر محمد نے پڑھائی۔ مولانا کی وفات نہ صرف سوات، بل کہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا علمی و روحانی نقصان تھی۔
قارئین! حضرت مولانا جہانزیب سرہندیؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک فرد اخلاص، علم اور استقامت کے ذریعے معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ مولانا مرحوم واقعی اُس چراغ کی مانند تھے، جس نے خود جل کر دوسروں کو روشنی دی۔ آج بھی مولانا کی علمی و روحانی روشنی اہلِ علم کے دلوں میں زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور اُن کے فیوض و برکات کو تاقیامت جاری رکھے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










