پاکستان کی معیشت اور سیاست کا باہمی تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گذشتہ 75 برسوں میں ہم نے بارہا ایسے ادوار دیکھے ہیں, جب قومی فیصلے داخلی ضرورتوں کے بہ جائے بیرونی دباو کے تحت کیے گئے۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ہماری سیاسی اشرافیہ واقعی عوامی مفاد کی نمایندہ ہے، یا وہ ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکی ہے، جو قرضوں کے سہارے چلتا ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچا مسلسل بیرونی قرضوں پر انحصار کرتا رہا ہے۔ ہر نئی حکومت، چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتی ہو، اقتدار سنبھالتے ہی معاشی بحران کا سامنا کرتی ہے اور اس کے حل کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹانا ناگزیر سمجھتی ہے۔ نتیجتاً، قرضوں کا حجم بڑھتا جاتا ہے اور اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوتا ہے، کبھی مہنگائی کی صورت میں، کبھی ٹیکسوں کے ذریعے اور کبھی بنیادی سہولیات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر ممالک اپنی داخلی یک جہتی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی نہ کسی بیرونی خطرے یا دشمن کا تصور قائم رکھتے ہیں۔ اس حکمت عملی کے ذریعے عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی بعض اوقات ایسا بیانیہ دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں حقیقی معاشی چیلنجز پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور قومی گفت گو کا رُخ کسی اور سَمت موڑ دیا جاتا ہے۔
معاشی خود مختاری کا فقدان سب سے زیادہ اُس وقت نمایاں ہوتا ہے، جب حکومتیں اپنی مرضی سے بنیادی اشیا، جیسے پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتیں مقرر کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ یہ فیصلے اکثر بین الاقوامی معاہدوں اور شرائط کے تحت کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد مالیاتی استحکام تو ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات عام آدمی کے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کی معاشی خود مختاری محدود ہوچکی ہے اور پالیسی سازی کا دائرہ تنگ ہوگیا ہے۔
یہ صورتِ حال محض کسی ایک حکومت یا جماعت کی ناکامی نہیں، بل کہ ایک طویل المدتی پالیسی اور ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔ ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا، برآمدات میں کمی، درآمدات پر انحصار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ایسے عوامل ہیں، جو ہمیں بار بار اسی دائرے میں لے آتے ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، قرض لینا ایک عارضی حل کے طور پر جاری رہے گا۔
عوامی سطح پر مایوسی کا بڑھنا بھی ایک فطری ردِعمل ہے۔ لوگ ایک ایسے راہ نما کی تلاش میں ہیں، جو جرات مندانہ فیصلے کرے، قومی مفاد کو ترجیح دے اور ملک کو خود کفالت کی راہ پر ڈالے۔ تاہم، خاندانی سیاست اور محدود سیاسی متبادل نے اس امید کو کم زور کیا ہے۔ سیاسی نظام میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کی کمی نے عوام اور قیادت کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس کے باوجود، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بہتری کی کوئی گنجایش نہیں۔ دنیا میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں، جہاں ممالک نے سخت معاشی فیصلوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بہ حالی کے ذریعے خود کو بحران سے نکالا۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ موجود ہے، بہ شرط یہ کہ ہم وقتی سیاسی فائدے سے بالاتر ہو کر طویل المدتی قومی حکمت عملی اپنائیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرض کو واحد حل سمجھنے کے بہ جائے اپنی معیشت کی بنیاد مضبوط کریں۔ برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، تعلیم اور ہنر کی بہتری، اور ٹیکس نظام کی اصلاح ایسے اقدامات ہیں، جو ہمیں حقیقی خود مختاری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، سیاسی قیادت کو بھی یہ ادراک ہونا چاہیے کہ عوام اب محض نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے؛ انھیں عملی نتائج درکار ہیں۔
پاکستان کا مستقبل صرف کسی ایک ’’مسیحا‘‘ کے آنے سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔ اصل تبدیلی ایک اجتماعی شعور، مضبوط اداروں اور ذمے دار قیادت کے امتزاج سے آئے گی۔ اگر ہم نے اس سَمت میں پیش رفت نہ کی، تو قرضوں کا یہ چکر جاری رہے گا اور عوام پر اس کا بوجھ بڑھتا رہے گا… لیکن اگر ہم نے بروقت اور درست فیصلے کیے، تو یہی بحران ایک موقع میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










