یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی ملٹری، ٹیکنالوجی اور معاشی سپر پاؤر چین ہمارے دروازے پر موجود ہے، مگر ہم اس قربت سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے جس کی توقع کی جاتی تھی۔ پاک-چین دوستی کو اکثر ’’ہر موسم کی دوستی‘‘ قرار دیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دوستی صرف سفارتی بیانات اور دفاعی تعاون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے… یا ہم نے واقعی اس تعلق کو اپنی تعلیمی، صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے استعمال بھی کیا ہے؟
چین نے گذشتہ چار دہائیوں میں جس برق رفتاری سے ترقی کی، وہ جدید تاریخ کا ایک حیران کن باب ہے۔ اُس نے نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کیا، بل کہ تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی عالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھائی۔ آج چینی جامعات عالمی درجہ بندی میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور وہاں ہونے والی تحقیق دنیا بھر میں اثر انداز ہو رہی ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان کی جامعات تاحال عالمی معیار سے کافی دور ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمارے پاس ایک ایسا دوست موجود ہے، جس نے جدید تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کیا، تو ہم نے اس سے کیا سیکھا؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جدید تعلیمی تعاون کو سنجیدگی سے فروغ نہیں دیا۔ اگرچہ کچھ طلبہ کو وظائف ملتے ہیں اور چند تعلیمی معاہدے بھی موجود ہیں، مگر یہ اقدامات محدود اور غیر مؤثر ہیں۔ ہمیں چاہیے تھا کہ ہم مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کرتے، اساتذہ کے تبادلے کو فروغ دیتے، مگر ہم اس سَمت میں خاطر خواہ پیش رفت نہ کرسکے۔
اسی طرح صنعتی شعبے میں بھی ہماری کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ چین ’’دنیا کی فیکٹری‘‘ کہلاتا ہے، اور اس کی صنعتی مہارت بے مثال ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرتا۔ ’’سی پیک‘‘ جیسے بڑے منصوبے بھی اسی امید کے ساتھ شروع کیے گئے تھے کہ یہ ملک میں صنعتی انقلاب لائیں گے… مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان مواقع کو مکمل طور پر استعمال نہیں کیا۔ بیوروکریسی کی سست روی، پالیسیوں کا عدم تسلسل اور بدعنوانی جیسے عوامل نے اس عمل کو متاثر کیا۔
معاشی میدان میں بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں۔ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود ہم اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرپائے۔ ہماری مصنوعات عالمی معیار اور مسابقت کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں، جس کی وجہ سے ہم چینی منڈی سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکے۔ دوسری جانب ہم نے درآمدات میں اضافہ کرکے اپنے تجارتی خسارے کو مزید بڑھا لیا۔ یہ ایک غیر متوازن تعلق کی نشان دہی کرتا ہے، جس میں فائدہ زیادہ تر ایک طرف جا رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات درست نہیں کیں۔ ہم نے قلیل مدتی فوائد کو ترجیح دی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو نظر انداز کیا۔ چین کے ساتھ تعلقات کو صرف انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود رکھنا ایک بڑی غلطی تھی۔ ہمیں چاہیے تھا کہ ہم انسانی وسائل کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی خود کفالت پر توجہ دیتے۔
مزید برآں، ہماری حکومتی مشینری میں وہ صلاحیت اور وژن کی کمی بھی واضح ہے، جو ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ پالیسی سازی میں تسلسل کا فقدان اور سیاسی عدم استحکام بھی اس ناکامی کی بڑی وجوہات ہیں۔ جب تک ہم اپنے اندرونی مسائل کو حل نہیں کریں گے، بیرونی مواقع ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتے۔
اب بھی وقت ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی جہت دیں۔ ہمیں صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ مشترکہ منصوبوں کو شفاف اور مؤثر بنانا ہوگا اور اپنی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنا ہوگا۔
چین کی قربت محض قریبی تعلقات کافی نہیں ہوتے، اصل کام یابی اس میں ہے کہ ہم ان تعلقات کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔
………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










