حاشیے پر پڑے ایک طالب علم کا سفر

Blogger Zubair Torwali

یہ ایک سچّی کہانی ہے۔ پڑھنے سے آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ کس طرح مختلف عوامل مل کر ہمارے نوجوانوں کو ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ کی طرف لے جاتے ہیں۔ کہانی میں ہم مذکورہ کردار کے اصل نام کی بہ جائے اُس کے بچپن کا قلمی نام ”پہاڑی بچہ“ استعمال کرتے ہیں۔
وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ نانی نے اُسے نماز پڑھنا سکھایا۔ نماز پڑھنا سیکھ کر پہاڑی بچہ نماز پڑھنے میں ایسے جُت گیا کہ صبح کی نماز کے لیے رات دو بجے ہی مسجد پہنچ جاتا۔ جنوری کی سردی میں جب مسجد کے غسل خانوں میں پانی جما ہوا ہوتا تھا، پہاڑی بچہ اسے توڑ کر صبح غسل کرکے نماز پڑھتا۔ صرف یہ ہی نہیں، بل کہ جنگل میں بھی برف سے وضو کرکے اور اذان دے کر نماز پڑھتا۔
وقت کے ساتھ پہاڑی بچہ اتنا ”متّقی“ بن گیا کہ کم سنی ہی میں محلّے والے اسے ”پیر صیب“ کَہ کر بلاتے۔ یہاں تک تو بات بالکل ٹھیک تھی، مگر جب اُس کے اندر ”تقدّس“ کو محلّے میں موجود تبلیغی جماعت کے مبلغین نے تاڑ لیا، تو اُنھوں نے اُسے ترغیب دی کہ وہ بھی اُن کے ساتھ روازانہ ”عصر کی گشت“ میں شریک ہو اور گاؤں میں نماز نہ پڑھنے والوں کو مسجد آنے کی تلقین کرے۔
اُن تبلیغیوں کے زیرِ اثر پہاڑی بچہ مسجد میں عصر اور عشا کی نمازوں کے بعد ”فضائلِ اعمال“ نامی کتاب، جسے کسی زمانے میں تبلیغی نصاب سے بھی جانا جاتا تھا، میں سے ”دعوتِ تبلیغ“ سے متعلق احادیث لوگوں کو سناتا۔ یہ کتاب پشتو زبان میں ترجمہ تھی اور پہاڑی بچے کا پشتو کی اور کسی بھی غیر نصابی کتاب سے یہ پہلا واسطہ تھا۔
پہاڑی کو یہ کتاب قرآن شریف کے بعد سب سے بڑی اور مقدّس کتاب لگی۔  محلّے کے اُن سادہ لوح تبلیغی حضرات کے زیرِ اثر اپنا پہاڑی بچہ دعوتِ تبلیغ میں ”سہ روزوں‘‘ اور ’’عشروں“ میں جاتا رہا اور ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے سالانہ اور علاقائی اجتماعات میں شرکت بھی کرتا رہا۔
علاقے کے مرکزی گاؤں میں تین بڑی مسجدیں تھیں، جن میں دو تبلیغی جماعت کے مطابق ”بدعتی“ لوگوں کی تھیں۔ تیسری مسجد سے ہی تبلیغی جماعت سے منسلک افراد کی ہفتہ وار تشکیل برائے سہ روزہ و عشرہ ہوا کرتی تھی۔ یہی مسجد بڑے زور و شور سے علاقے میں ”اصل دین“ کا پرچار کیا کرتی تھی اور اس کے لیے صوبے کے دوسرے علاقوں جیسے صوابی کے پنچ پیر کے علما کو بھی اکثر اوقات دعوت دیتی تھی۔
اپنے گاؤں میں ”جمعے کی نماز کے غیر شرعی“ ہونے کے فتوے کی وجہ سے پہاڑی بچہ اس دیو بندی مسجد میں ہر جمعے کو حاضر ہوتا اور وہاں نماز کے بعد گھنٹوں ”تعلیم“  سنتا۔ تبلیغی حضرات نماز کے بعد فضائلِ اعمال سے احادیث سنانے کو ’’تعلیم‘‘ کہتے ہیں۔ پہاڑی بچے کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اس جامع مسجد میں ”تعلیم“ دینے (یعنی فضائلِ اعمال پڑھانے) کے قابل ہوجائے۔ بالآخر وقت آیا اور وہ ”اصلی تے وڈے مسلمانوں“ کی مسجد میں لوگوں کو فضائلِ اعمال سے احادیث سنانے لگا۔
ابھی آٹھویں کلاس ہی میں تھا کہ پہاڑی نے دُنیا کو ”غلط عقائد“ سے پاک کرنا اپنا فرض گردانا۔ چوں کہ تینوں مسجد والوں میں بڑے بڑے اختلافی مسئلوں مثلاً؛ کیا سنّت نماز کے بعد دُعا کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ پانئچے ٹخنوں سے اوپر رکھنا لازم عمل ہے؟ میت پر قرآن شریف کا دورہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ان جیسے بہت سے ”سنگین مسائل‘‘ پر انتہائی تلخ اور اکثر پُرتشدّد اختلافات رہتے تھے۔ لہٰذا دیکھتے دیکھتے پہاڑی بچہ بھی ”پُرانے مسلک“ سے وابسطہ لوگوں کو مشرک سمجھنے لگا۔ اُس کے گاؤں میں جنتے بزرگ تھے، پہاڑی اُن سے الجھتا رہتا اور کہتا کہ وہ ”جاہل‘‘، ’’بدعتی‘‘ اور ’’مشرک“ ہیں۔
پہاڑی بچہ جب نویں جماعت تک پہنچا، تو اسے علامہ اقبال کی ”انقلابی اسلامی“ شاعری سے عشق ہوگیا۔ علامہ کی وہ خیالی تصویر جس میں موصوف مونچھوں کو تاؤ دیے فلمی ہیرو لگتے ہیں اور ایک کندھے پر باز بٹھایا ہوا تیار کی گئی ہے، پہاڑی کی ہر کتاب پر چسپاں ہوتی۔ اُس نے علامہ کی مشہور نظمیں ”شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ“ ازبر کیں اور اقبال کی لے اور وزن میں ُتک بندی بھی شروع کردی۔ شاہین سے ایسا عشق ہوا کہ معصوم پہاڑی خود کو بھی ”اقبال کا شاہین“ سمجھنے لگا۔
انٹرمیڈیٹ کیا، تو وہ اقبال اکیڈمی لاہور کا ممبر بن چکا تھا، جو اُسے اقبالؔ اور دوسرے اکابرین کے حوالے سے کتابیں بھیجتی رہتی۔ بسا اوقات مولانا مودودی کی تفہیم القرآن اور مفتی شفیع عثمانی کی معارف القرآن کو بھی پہاڑی پڑھتا رہتا۔ جماعتِ اسلامی کے بعض سینئر ساتھیوں سے رسالہ”ترجمان القرآن“ بھی لیتا اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا، تاہم اس رسالے کی دقیق اُردو سے پہاڑی بڑا نالاں تھا۔
پہاڑی، کالج میں جمعیت طلباء اسلام اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ وابستہ رہا، مگر یہ رشتہ موصوف کی الگ لسانی شناخت اور پشتو کے بولنے میں مشکل کی وجہ سے کبھی پختہ نہ رہا۔ ان دو وجوہات کی وجہ سے پہاڑی بچہ کالج میں میل جول سے کتراتا تھا اور الگ تھلگ رہنا پسند کرتا تھا۔
اب پہاڑی بچہ اپنے محلّے کی مسجد میں نماز پڑھوانے کے قابل ہوچکا تھا، مگر جب کوئی اسے ”ملان “، اس کی مادری زبان کا لفظ جو ’’مولوی‘‘ کے مترادف ہے،  کَہ کر پکارتا، تو اُسے اچھا نہ لگتا، لیکن مولوی کے ذمے کے سارے کام یہ پہاڑی بچہ کرتا رہتا۔
میٹرک کے امتحان میں اپنے سکول اور پورے علاقے میں اّول آیا، تو اُس کی شہرت جمیعت طلباء اسلام اور اسلامی جمیعت طلبہ تک پہنچ گئی اور وہ موصوف کی ”اورینٹیشن“ یا ذہن سازی کے لیے اُس کے اور دیگر ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے۔ کچھ وقت پہاڑی بچہ دونوں تنظیموں کا رکن بھی رہا۔ جو شے اُس وقت اُسے تڑپاتی تھی، وہ علاقے اور گاؤں میں اس کے والد کی غربت اور اس کی وجہ سے بے توقیری تھی۔
پہاڑی کی آرزو تھی کہ اُس کے والد کو بھی لوگ پہچانیں اور بازار میں اُن کی زیادہ ”عزّت“ ہو۔ اس کے لیے پہاڑی بچہ سکول پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں سخت محنت بھی کرتا رہتا اور اُن سارے معاشی جھمیلوں سے آگاہ رہتا، جو اُس کے والد کے گرد رہتیں۔ والد صاحب ایک دہقان تھے، جن کے پاس اپنی زمین کم تھی۔ وہ دوسروں کے کھیتوں کو ”اجارے‘‘ یا ’’قلنگ“ پر لیتے۔ دہقان ہونے کا یہ دھبا بھی پہاڑی بچہ کو اپنے دامن پر برا لگتا تھا۔
اس صورتِ حال میں آگے کی تعلیم ممکن نہیں تھی، لیکن والد محترم نے ہار نہ مانی اور اُسے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لینے کی اجازت اور درکار رقم دے دی۔ اُس نے 70 کلومیٹر دور واحد کالج میں داخلہ لیا۔ پہاڑی ابھی سالِ اوّل سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ محلّے کے ایک بدمعاش اور اُس کے رشتے داروں نے پہاڑی پر تشدد کیا۔ جھگڑوں کا یہ سلسلہ ایک مہینے تک جاری رہا۔ اس طرح پہاڑی بچے میں سماجی کم تری اور ظلم کا احساس اور گہرا ہوتا گیا۔ انٹر کرنے کے فوری بعد پہاڑی نے علاقے میں واحد پرائیویٹ اسکول میں 9 سوروپے ماہانہ تن خواہ کے عوض پڑھانا شروع کیا۔
اس دوران میں پہاڑی کی ”دوستی“ جماعت اسلامی کے ایک مقامی امیر رکن سے ہوئی، جو کافی پڑھے لکھے ہیں۔ وہ اپنی مخصوص نسیم حجازی والی ’’ٹون‘‘ اور سقّہ زبان میں مختلف ایشوز پر تقریریں کرتے اور اکثر جماعت اسلامی کی شان دار کاردگی اور تاریخ پر روشنی ڈالتے رہتے۔ علاقے میں پہلا کمپیوٹر اسی رکن کے پاس تھا اور اس کے ذریعے وہ  بسا اوقات پہاڑی بچے اور اُس کے ساتھیوں کو مشرقی تیمور اور فلسطین میں مسلمانوں پر مبینہ ظلم کے ویڈیوز بھی دکھاتے رہتے۔
مذکورہ امیر اکثر وہ وڈیو بھی دکھاتے، جس میں جماعت کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا تھا، جب اُنھوں نے سابق ہندوستانی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد پر احتجاج کیا تھا۔ اُس ویڈیو میں غالباً مشرقی تیمور سے بھی کچھ کلپس کو شامل کیا گیا تھا۔
جب پہاڑی نے پرایئویٹ سکول میں پڑھانا شروع کیا، تو اُس وقت مولانا صوفی محمد کی تحریک نفاذِ شریعتِ محمدی زوروں پر تھی۔ اُس سے متاثر ہو کر پہاڑی اور اُس کے ساتھیوں ، جو کہ سبھی نسیم حجازی کے ناولوں کے شیدائی تھے، نے چند دوسرے نوجوانوں کو ساتھ ملا کر ایک تنظیم ”انجمنِ جاں نثارانِ اسلام“ کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کا بڑا ہدف ”معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ“ تھا۔
اُن دنوں پہاڑی بچے کے علاقے کے مرکزی گاؤں میں ٹی وی کے سیٹلائیٹ ڈش انٹینا کا رواج عام ہوا۔ اس ”برائی“  کا قلع قمع کرنا انجمن نے اپنے ذمے لیا، لیکن کام یاب نہ ہوسکی۔ ایک نشست میں پہاڑی بچے نے بتایا کہ کس طرح اُنھوں نے جماعت اسلامی والوں سے مناظرہ کیا تھا، جب جماعت کے ایک انتخابی امیدوار نے اپنی کتاب میں مبینہ طور پر مسواک پر ٹوتھ پیسٹ کو ترجیح دی تھی۔ پہاڑی بچے نے یہ کتاب نہیں پڑھی تھی، بل کہ اُسے جمعیت علماء اسلام کے حامیوں نے ایسا بتایا تھا۔
اُس زمانے میں بھی پہاڑی بچہ تبلیغی جماعت اور اس دیوبندی مسجد سے وابستہ رہا جو کہ علاقے میں تبلیغی جماعت کا مرکز تھی۔ وہ اپنے ایمان کو کب آخری درجے پر گوارا کرتا، دراصل وہ کسی موقع کی تلاش میں تھا کہ کس طرح ”برائی“ کو "”بہ زورِ بازو“ روکے اور نتیجتاً ایمان کے اعلا ترین درجے پر فائز ہو۔
اس کے لیے صوفی محمد کی تحریک سے بہتر موقع اور کیا ہوسکتا تھا۔ پہاڑی بچہ ”تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی“ کا سرگرم کارکن بن گیا۔  اس کے جلسوں میں شریک ہوتا رہا اور جب تحریک نے ملاکنڈ ڈیویژن میں شریعت کے نفاذ کے لیے ہتھ یار اٹھایا، تو موصوف نے بھی اس میں اپنے ساتھی سمیت حصّہ لیا، مگر جلد ہی اس مسّلح تحریک کو اس وقت کی حکومت نے کچل دیا اور موصوف بھی کئی لوگوں کی طرح حکومت کو کوستے اور فتوے لگاتے رہ گئے۔
زندگی یوں ہی چلتی جا رہی تھی۔ پرائیویٹ سکولوں میں استاد ہونے کا پہاڑی بچے کو بڑا فائدہ ہوا۔ مالی فائدہ توخیر نہیں تھا، لیکن اس جاب نے پہاڑی بچے کے اندر علم حاصل کرنے، خصوصاً انگریزی زبان سیکھنے اور لکھنے کی خواہش کو زندہ رکھا۔ وہ ان اسکولوں میں انگریزی کا استاد ہوا کرتا تھا۔ بچّوں کو انگریزی قواعد پڑھانے کے لیے پہاڑی بچے کو مختلف کتابیں پڑھنی ہوتی تھیں۔ آہستہ آہستہ پہاڑی اپنے شاگردوں کے لیے انگریزی ادب کے بڑے بڑے ناول اور کہانیوں کے آسان (Abridged Version) آکسفرڈ یوینورسٹی پریس سے منگوانے اور اپنے شاگردوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کتابوں میں شیکسپئیر کی کہانیاں بھی شامل تھیں، جنھیں چارلس لیمب نے قدرے آسان انگریزی میں ترتیب دیا ہے۔ اسی طرح چارلس ڈکنز کے مشہور ناولوں "Great Expectations” اور "David Copperfield” کے آسان ورژنز بھی شامل تھے۔
ان سکولوں میں انگریزی پڑھانے سے سٹودنٹس کو اگر نہیں، تو استاد کو فائدہ ضرور ہوا اور وہ اس قابل ہوا کہ اپنی تعلیم کو آگے جاری رکھ سکا۔
اس کے بعد پہاڑی بچے نے ایک بار پھر تعلیم کی طرف رجوع کیا اور بی اے اور ایم اے پرایئویٹ امیدوار کے طور پر کرتا رہا۔ بی اے کے بعد پہاڑی بچے نے ماسٹرز انگریزی ادب میں کرنے کا فیصلہ کیا۔نجی طور پر  ایم اے  کرنے کی وجہ سے پہاڑی بچے کا واسطہ اُن کتابوں سے پڑا، جن کو عموماً یونیورسٹیوں کی باقاعدہ کلاسوں میں نہیں پڑھایا جاتا۔ کیوں کہ مطمحِ نظر صرف امتحان ہوتا ہے اور پرچے کے پانچ سوالات دیگر آسان نصابی کتب اور معاون شرحوں کی مدد سے بہ آسانی حل ہوسکتے ہیں۔
ایم اے میں پہاڑی بچے کا واسطہ برٹرنڈ رسل کی کتابوں سے ہوا۔ کیوں کہ موصوف کی مضامین پر شامل ایک کتاب یونیورسٹی کے نصاب میں شامل تھی۔ اس کتاب کو اکثر کالجوں اور یونیورسٹی کے انگریزی ادب و زبان کے شعبوں میں نہیں پڑھایا جاتا، کیوں کہ امتحانی پرچے میں چوائس کے ہونے کی وجہ سے اس کتاب اور کئی دیگر کتابوں کو پڑھے بغیر بھی امتحان پاس کیا جاسکتا ہے۔ رسل کی یہ کتاب پہاڑی بچے کے لیے کارگر ثابت ہوئی اور اس نے موصوف کے ذہن کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔
اسی دوران میں پہاڑی بچہ ان پرائیویٹ سکولوں سے الگ ہوا اور اپنے علاقے سے دور کسی سکول میں استاد بننے کی کوشش کرتا رہا۔ ایک ایسی ہی تلاش میں جب وہ انٹرویو کے لیے گیا، تو وہاں پرنسپل کے آفس میں اُس کی نظر علی عباس جلالپوری کی معروف کتب ”عام فکری مغالطے“ اور ”اقبال اور علم کلام“ پر پڑی۔ اس بڑے پرایئویٹ سکول میں جاب تو نہ مل سکی، لیکن پہاڑی بچہ مذکورہ پرنسپل سے ان دو کتابوں کو قرض لینے میں کام یاب ہوکر ہی رہا۔ ان کتابوں سے موصوف کا تعارف مغربی فلسفے سے ہوا اور اس نے برٹرنڈ رسل کی آپ بیتی، ہسٹری آف ویسٹرن فلاسفی؛ ول ڈیورانٹ کی کتاب ”نشاطِ فلسفہ” (Pleasure of Philosophy) اور ’’فلسفے کی کہانی‘‘ (Story of Philosophy) پڑھنا شروع کی اور یہیں سے ”تبدیلی“ کا سفر شروع ہوا۔
رفتہ رفتہ اس سفر میں پہاڑی بچے کے ساتھی اور شاگرد بھی شامل ہونا شروع ہوئے اور بہ تدریج ان کی الماریاں ایسی کتابوں سے بھرنے لگیں۔ وہ ان کتابوں کو زیادہ تر ردی سے لیتے اور جمع کرتے رہتے۔
کافی عرصے بعد پچھلے دنوں ایک نجی محفل میں ملاقات ہوئی، تو ایک پُر اعتماد اور روشن خیال پہاڑی بچے سے مل کر نہایت خوش گوار حیرت اور مسرّت ہوئی۔ اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی نظریاتی کش مہ کش سے اور انسان دوستی کی طرف نکلنے میں اُن کتابوں کے مطالعے کو سنگِ میل سمجھتا ہے اور اس لحاظ سے سمجھتا ہے کہ ہمارے ملک میں کسی استاد اور درس گاہ کی بہ جائے آزاد مطالعہ زیادہ مفید رہتا ہے۔ کیوں کہ ایسی کتابیں سوال کرنا سکھاتی ہیں اور آزاد مطالعے میں سوالات پوچھنے پر اُستاد کی ڈانٹ نہیں پڑتی۔ پڑھنے والا خود سے سوالات پوچھتا ہے اور خود ہی ان کے جوابات کی تلاش کرتا ہے۔
رخصت ہوتے وقت مَیں نے پہاڑی بچے سے پوچھا کہ اُس کے خیال میں پاکستان کی نئی نسل کو فکری انتشار سے نکالنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز کیا ہے؟ جواب ملا، کوئی فارمولا نہیں… لیکن سب سے زیادہ ضروری اور ارجنٹ چیز ”آزاد مطالعہ“ ہے۔
اس سفر میں اس کے بعد کیا ہوا وہ ایک طرف جاذبِ نظر ہے، تو دوسری جانب انتہا درجے کا دردناک بھی۔ وہ فکری کشاکش میں ہنوز مبتلا ہے۔ اس کا مطالعے کا شوق نہیں اترا، تاہم فکرِ معاش نے اس سے وہ کام بھی کروائے، جو اس کے طبع کے مطابق نہیں تھے۔ وہ اب بھی ”آزاد مطالعہ“ ہی کرتا ہے اور ہر شعبے کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ کسی ایک شعبے میں کبھی ماہر نہیں ہوا۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتا ہے، پر تشنگی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ (ختم شد!)
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’فضائلِ اعمال‘‘:۔ ایک مشہور دینی کتاب ہے جو مسلمانوں کو نیک اعمال کی ترغیب دیتی ہے۔ اسے مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے تحریر کیا، اور یہ تبلیغی جماعت کے نصاب کا بنیادی حصہ سمجھی جاتی ہے۔
2) ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘:۔ یہ علامہ اقبالؔ کی دو مشہور نظمیں ہیں۔ ’’شکوہ‘‘ میں مسلمان، خدا سے اپنی زوال کی شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے دین کے لیے قربانیاں دیں، پھر بھی پستی میں ہیں۔ اس طرح ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں خدا کی طرف سے جواب آتا ہے کہ مسلمانوں نے ایمان، اتحاد اور عمل چھوڑ دیا، اس لیے عزت بھی چھن گئی۔
3) ’’اقبال کا شاہین‘‘:۔ یہ دراصل علامہ اقبال کا ایک علامتی کردار ہے۔ یہ علامہ کے بہ قول، نوجوان مسلمان کی مثالی تصویر ہے، جو بلند پرواز، خودی، غیرت اور آزادی کی علامت ہے۔ شاہین، زمین پر قید نہیں رہتا، بل کہ آسمان کی بلندیوں میں اُڑتا ہے۔ اسی طرح علامہ چاہتے ہیں کہ مسلمان دنیاوی لذتوں میں نہ الجھیں، بل کہ اعلا مقاصد کے لیے جئیں۔ یہ کردار خودداری، جرات اور عملِ مسلسل کا پیغام دیتا ہے۔
4) ’’نسیم حجازی‘‘:۔ نسیم حجازی اُردو کے مشہور تاریخی ناول نگار تھے، جنھوں نے مسلمانوں کے عروج و زوال کو کہانیوں کی صورت میں پیش کیا۔ اصل نام شریف حسین تھا۔ 1914ء میں ضلع گورداسپور (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے اور 1996ء میں لاہور میں انتقال کرگئے۔
5) ’’مولانا صوفی محمد‘‘:۔ پاکستان کے ایک متنازع مذہبی راہ نما تھے، جنھوں نے 1992ء میں تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی (TNSM) قائم کی اور ملاکنڈ، دیر اور سوات میں شریعت کے نفاذ کی تحریک چلائی۔ 1933ء میں دیر میں پیدا ہوئے اور 2019ء میں انتقال کرگئے۔ (مولانا صوفی محمد اور ان کی تحریک کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر سلطانِ روم کی تحریر ’’تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی اور جمہوریت‘‘ https://lafzuna.com/blog/s-32341/ پڑھنا لازمی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
6) ’’ولیم شیکسپئیر‘‘ (William Shakespeare):۔ انگلینڈ کے عظیم شاعر، ڈراما نگار اور اداکار تھے، جنھیں "Bard of Avon” کہا جاتا ہے۔ 1564ء میں اسٹرٹفرڈ اپون ایون میں پیدا ہوئے اور 1616ء میں انتقال کرگئے۔ اُن کے ڈرامے اور شاعری آج بھی دنیا بھر میں پڑھی اور اسٹیج پر پیش کی جاتی ہیں۔
7) ’’چارلس لیمب‘‘ (Charles Lamb):۔ ایک انگریزی مضمون نگار، شاعر اور نقاد تھے، جو اپنے "Essays of Elia” اور بچوں کے لیے لکھی گئی کتاب "Tales from Shakespeare” (اپنی بہن میری لیمب کے ساتھ) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ 1775ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور 1834ء میں انتقال کرگئے۔
8) ’’چارلس ڈکنز‘‘ (Charles Dickens):۔ انگریزی ادب کے سب سے بڑے ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے وکٹورین دور کے سماجی مسائل کو کہانیوں کے ذریعے اُجاگر کیا۔ وہ 1812ء میں پورٹسماؤتھ، انگلینڈ میں پیدا ہوئے اور 1870ء میں وفات پائی۔ اُن کے ناول آج بھی دنیا بھر میں پڑھے اور اسٹیج یا فلموں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
9) ’’علی عباس جلالپوری‘‘:۔ پاکستان کے ممتاز فلسفی، مفکر اور مصنف تھے، جنھیں ’’پاکستان کا ول ڈیورانٹ‘‘ کہا جاتا ہے… فلسفہ، تاریخ اور مذہب پر اُردو میں گہری اور عام فہم تحریریں لکھتے تھے۔ تحریکِ خرد افروزی (Enlightenment) کے بانی بھی سمجھے جاتے ہیں۔
10) ’’ول ڈیورانٹ‘‘ (Will Durant):۔ ایک امریکی مورخ اور فلسفی، جو اپنی مشہور کتابی سلسلے "The Story of Civilization” کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی بیوی ’’ایریل ڈیورانٹ‘‘ کے ساتھ مل کر 1935ء سے 1975ء تک گیارہ جلدوں پر مشتمل یہ عظیم کام مکمل کیا، جس میں مشرقی اور مغربی تہذیبوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔
درجِ بالا اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے