امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی، تو وہ پورے ایران کو تباہ کرکے اسے دوبارہ پتھر کے دور میں دھکیل دے گا۔
ٹرمپ کے بہ قول، ایک ہی رات میں پوری تہذیب مٹ سکتی ہے… پھر پل باقی رہیں گے، نہ بجلی گھر، نہ انفراسٹرکچر اور نہ کوئی ذی روح ہی باقی رہے گا۔
اس سے قبل بھی امریکی صدر کا دعوا تھا کہ امریکہ ایران کی روایتی فوجی قوت کو تباہ کرچکا ہے، جس میں میزائل، لانچرز، ڈرونز، اسلحہ ساز فیکٹریاں اور بحریہ شامل ہیں… مگر طرفہ تماشا یہ کہ اس کے باوجود بھی ایران، امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے تنِ تنہا ڈٹا رہا۔ کیوں کہ جنگ کے دوران میں کم زوری دکھانا سب سے بڑی شکست کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ نے ایران میں وینزویلا جیسا طرزِ عمل دہرانے کی کوشش کی، لیکن اس بار اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک جانب امریکہ، ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے پاکستان کے ذریعے منت سماجت کرتا رہا، تو دوسری طرف امریکی وزیرِ دفاع ’’ہیگسیتھ‘‘ (Pete Hegseth) کا یہ بیان سامنے آیا کہ خدا ایران کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت کرتا ہے۔ کیوں کہ خدا خیر کا داعی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ خلقِ خدا کا خیال رکھا جائے۔ گویا شاعر کے اس مصرعے کی عملی تفسیر سامنے آتی ہے:
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ہزاروں انسانوں کے قتل اور جنگی برتری کی امید ماند پڑنے کے بعد، امریکی وزیرِ دفاع کو خدا، جنگ بندی سمیت یاد آیا۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب، 3 بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ (Truth Social) پر دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔ تاہم، تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اسرائیل کس حد تک اس جنگ بندی پر عمل کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، شہباز شریف کے پیش کردہ 10 نِکاتی ایجنڈے (Shehbaz Sharif’s Ten‑Point Peace Framework) پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہوچکے ہیں، جس کے خط و خال کچھ یوں ہیں:
عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ؛ ایران کے خلاف جنگ کا مستقل اور غیر معینہ مدت تک خاتمہ؛ پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام؛ آبنائے ہُرمز کا دوبارہ کھولنا؛ اس آبی گزرگاہ میں محفوظ اور آزادانہ بحری نقل و حمل کے لیے قواعد و ضوابط کا قیام؛ ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائی؛ ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ؛ یورینیم افزودگی کا اختتام؛ امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں کی فوری رہائی؛ اور ان تمام شرائط کی منظوری کے ساتھ فوری جنگ بندی۔
جنگ بندی پر آمادگی کے بعد، پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جمعہ 10 اپریل 2026ء کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا۔ پاکستانی دعوت کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر (جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کی نمایندگی کریں گے) شرکت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔ یہ سطور چھپنے تک صورتِ حال کافی حد تک واضح بھی ہوچکی ہوگی۔
باخبر ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پاکستانی قیادت دونوں وفود سے علاحدہ علاحدہ ملاقاتیں کرے گی، جس کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات کا امکان ہے۔ امریکہ کے اہم نِکات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا اختتام، ’’بیلسٹک میزائل پروگرام‘‘ (Ballistic missile program) پر پابندی، سمندری راستوں کی سلامتی، خصوصاً آبنائے ہُرمز، اور وسیع تر علاقائی استحکام شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران کے مطالبات میں مستقبل میں فوجی کارروائیوں کے خلاف مضبوط ضمانتیں، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی، آبنائے ہُرمز کے نئے انتظامات، علاقائی کشیدگی میں کمی کا جامع طریقۂ کار، امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور تیل کی آزادانہ ترسیل شامل ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ مذاکرات کسی نتیجہ خیز کروٹ لے سکیں گے یا نہیں؟ کیوں کہ دونوں فریق اپنی بنیادی شرائط سے دست بردار ہونے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے۔ ایران بغیر ضمانت کے جنگ بندی، آبنائے ہُرمز کی غیر مشروط بہ حالی، یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) کی مکمل بندش اور میزائل پروگرام کی محدودیت پر رضامند نہیں، جب کہ امریکہ بھی ایران کی ان شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہُرمز میں بحری آمد و رفت دو ہفتوں تک آزادانہ جاری رہے گی، یا یہ نقل و حرکت ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور مخصوص تکنیکی حدود کے تحت ہوگی، جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے؟
تیسرا سوال اسرائیل کے کردار سے متعلق ہے، جو بار ہا لبنان میں حملے کرکے شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان پر حملوں کا خاتمہ بھی جنگ بندی کی شرائط میں شامل ہونا چاہیے، جب کہ امریکہ اسے ان شرائط کا حصہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔
ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے حوالے سے پُرامید دکھائی دیتے ہیں، تو دوسری طرف ایران کو مسلسل دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، جو کسی طور دانش مندی کے زمرے میں نہیں آتا۔ اسلام آباد میں دونوں وفود ہفتے کے روز ابتدائی مذاکرات میں مصروف تھے۔ زیرِ نظر تحریر کے شائع ہونے تک صورتِ حال کافی حد تک واضح ہوچکی ہوگی۔
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ٹروتھ سوشل (Truth Social):۔ یہ ایک امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2021 میں قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد ’’آزاد اظہار‘‘ کو فروغ دینا اور اُن صارفین کو متبادل فراہم کرنا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اُن کی رائے کو محدود کرتی ہیں۔
2) شہباز شریف کا دس نِکاتی ایجنڈا (Shehbaz Sharif’s Ten‑Point Peace Framework):۔ یہ ایک امن فریم ورک تھا جس نے ایران–امریکہ جنگ کو وقتی طور پر روکنے اور مذاکرات کی راہ ہم وار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ دراصل پاکستانی سفارت کاری کی ایک بڑی کام یابی سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ مذکورہ ایجنڈے کی تفصیلات مختلف ذرائع میں قدرے مختلف بیان کی گئی ہیں، لیکن بنیادی نِکات تھے: ’’مستقل امن معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے فریم ورک‘‘، ’’فوری جنگ بندی (Ceasefire)… تاکہ مزید جانی نقصان نہ ہو‘‘، ’’آبنائے ہُرمز کی عارضی بہ حالی، تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو‘‘، ’’قیدیوں اور لاپتا افراد کی رہائی پر بات چیت‘‘، ’’انسانی امداد کی فراہمی ایران اور متاثرہ علاقوں میں‘‘، ’’سفارتی مذاکرات کا آغاز بہ راہِ راست امریکہ اور ایران کے درمیان‘‘، ’’علاقائی ممالک کو شامل کرنا، تاکہ مستقل امن قائم ہو‘‘، ’’غلط اطلاعات اور پروپیگنڈا روکنے کے لیے میڈیا ضابطہ‘‘، ’’ایٹمی تنصیبات پر اعتماد سازی کے اقدامات‘‘ اور ’’معاشی پابندیوں میں نرمی پر غور۔‘‘
3) بیلسٹک میزائل پروگرام (Ballistic missile program):۔ اس پروگرام کا مطلب ’’زمین سے لانچ ہونے والے، خلا سے گزر کر ہدف پر گرنے والے میزائلوں کی تیاری اور استعمال‘‘ ہے۔ یہ پروگرام کسی ملک کی دفاعی حکمتِ عملی، طاقت کے اظہار اور دشمن کو روکنے کے لیے بنایا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ بین الاقوامی خدشات اور تنازعات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
4) یورینیم کی افزودگی (Uranium Enrichment):۔ اس کا سادہ الفاظ میں مطلب ہے کہ قدرتی یورینیم میں موجود کم مقدار والے ایٹمی مادّے (U‑235) کو مشینوں کے ذریعے الگ کرکے اس کی شرح بڑھانا، تاکہ اسے توانائی یا ہتھ یاروں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










