یہ صرف ایک کیس کا فیصلہ نہیں… یہ ایک سوال ہے، ایک چیخ ہے، ایک ایسا نوحہ ہے، جو چھے سال سے عدالتوں کے دروازوں پر سر ٹکراتا رہا… اور آج بھی جواب کا منتظر ہے۔
ام رباب کے والد، دادا اور چچا کے قتل کا مقدمہ… اور ملزمان بری۔ چھے سال تک امید کا دامن تھامے، ہر پیشی پر ایک ہی جملہ سننے کو ملا: ’’انصاف ملے گا!‘‘ مگر آخر میں جو ملا، وہ خاموشی تھی… خالی ہاتھ، ٹوٹے دل اور بے بسی کی ایک لمبی داستان۔
یہ محض ایک خاندان کی ہار نہیں، یہ پورے نظامِ انصاف کی ہار اور اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان (؟) ہے۔ آخر یہ کیسا نظام ہے، جہاں لاشیں گرتی ہیں، گھر اجڑتے ہیں، مگر عدالت میں جاکر سب کچھ ’’جرم ثابت نہیں ہوسکا…!‘‘ کے ایک جملے کی نذر ہوجاتا ہے۔
کیا انصاف واقعی اتنا کم زور ہوچکا ہے… یا اسے کم زور کر دیا گیا ہے؟ حقیقت تلخ ہے، مگر واضح بھی… ہمارا انصاف کا نظام اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔ پولیس کی تفتیش بک جاتی ہے، فائلیں بدل دی جاتی ہیں اور شواہد ایسے غائب ہوجاتے ہیں، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اداروں میں کرپشن اس حد تک سرایت کرچکی ہے کہ سچ اور حق بھی پیسے اور اثر رسوخ کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
اور پھر اس کہانی کا سب سے طاقت ور کردار… مقامی جاگیردار اور وڈیرے…! وہ طاقت جو قانون کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے، گواہوں کو خاموش کر دیتی ہے اور سچ کو دفن کر دیتی ہے۔ یہی وہ دیوار ہے، جو انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ سوال وہی پرانا ہے، مگر اب پہلے سے زیادہ بھاری ہے کہ کب تک غریب کا خون سستا رہے گا؟
کب تک طاقت ور کا جرم معاف ہوتا رہے گا؟
کب تک مائیں اپنے بیٹوں کے لیے انصاف مانگتی رہیں گی… اور بدلے میں صرف فیصلے (’’جرم ثابت نہیں ہوسکا‘‘) سننے کو ملیں گے؟
اگر ریاست واقعی زندہ ہے، تو اسے صرف فیصلے سنانے نہیں، نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ بہ صورتِ دیگر یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ یہاں جرم نہیں، بل کہ کم زور لوگ ہی ہارتے ہیں… اور طاقت ور ہمیشہ جیت جاتے ہیں۔
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’ام رباب چانڈیو‘‘ (Umm-e-Rabab Chandio):۔ ام رباب چانڈیو سندھ کی ایک نوجوان وکیل اور سماجی کارکن ہیں، جن کے والد، دادا اور چچا کو 2018 عیسوی میں ضلع دادو کے شہر ’’مہر‘‘ میں قتل کیا گیا تھا۔ اس ظلم کے خلاف وہ چھے سال تک عدالتوں میں انصاف مانگتی رہیں، مگر مارچ 2026 عیسوی میں عدالت نے تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔
تحریر میں شامل نمایاں مشکل اصطلاح کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










