گلوبل نارتھ کا زوال، نئے دور کا آغاز؟

Blogger Ikram Ullah Arif, District Dir

نوٹ: لفظونہ ڈاٹ کام کے قارئین کی سہولت اور دل چسپی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تحاریر میں ایک نئے حصے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے زیرِ نظر تحریر میں استعمال شدہ پیچیدہ اصطلاحات کے مفاہیم کی وضاحت آخر میں درج کی جا رہی ہے۔ اگر قارئین مزید بہتری چاہتے ہیں، تو لفظونہ ٹیم کو اپنی آرا سے آگاہ کریں۔ (کامریڈ امجد علی سحابؔ، بانی مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
جنگ کسی بھی صورت مسئلے کا حل نہیں۔ مَیں کئی بار لفظونہ ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم پر عرض کر چکا ہوں کہ جدید تاریخ میں جنگیں نظریات کی ترویج یا حصولِ زمین کے لیے نہیں لڑی جاتیں، بل کہ ان کا سیدھا سادھا مقصد سرمایے کا حصول ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے مغربی دنیا میں ایک مضبوط ’’حربی صنعت‘‘ یا ’’وار اکانومی‘‘ (War Economy) موجود ہے۔ بس اس صنعت کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ناموں سے جنگوں کا آغاز کیا جاتا ہے۔
اس وجہ سے ہر فریق اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مختلف بیانیے تشکیل دیتا ہے۔ مثلاً: مذہب، علاقائیت، خودمختاری، سالمیت اور اس قسم کے دیگر تڑکے لگا کر مقامی لوگوں کو متحد کیا جاتا ہے اور مخالف کو ایک طرح سے پیغام دیا جاتا ہے۔
میرے ناقص علم اور رائے کے مطابق جدید جنگوں میں صرف دو فریق ہیں: ظالم اور مظلوم۔ کیوں کہ نام نہاد ’’سرد جنگ‘‘ کے بعد نظریاتی جنگوں کا باب تقریباً بند ہوچکا ہے۔ اب ٹیکنالوجی اور دنیا کے وسائل پر قبضے کی خواہش ہی اصل محرک ہے… جسے پورا کرنے کے لیے ’’وار اکانومی‘‘ مسلسل ترقی کر رہی ہے۔
حالیہ ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ میں بھی ایران مظلوم اور باقی دو ظالم ہی ہیں۔ یہ مَیں اس بنیاد پر نہیں کَہ رہا کہ ایران ایک مسلمان یا پڑوسی ملک ہے، بل کہ دنیا گواہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے مذاکرات کے دوران میں دو بار حملہ کرکے خود کو ظالم ثابت کیا ہے۔
اسی طرح امریکہ نے وینزویلا میں فوج کشی کرکے منتخب صدر کو اٹھاکر قیدی بنایا۔ واضح طور پر اس کیس میں بھی امریکہ ظالم اور وینزویلا مظلوم ہے۔
ہم اگر اپنی کم علمی کی بنیاد پر اور کچھ نہ دیکھ پائیں، کم از کم ظالم اور مظلوم کا فرق تو دیکھ ہی سکتے ہیں۔ یوں ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی طرف داری کرکے ’’فسطائیت‘‘ (Fascism) سے نفرت کا اظہار ضرور کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ’’گلوبل نارتھ‘‘ (Global North) کو ساتھ ملا کر دنیا کا بے تاج بادشاہ بن بیٹھا… اس نے اقوامِ متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم، عالمی عدالتِ انصاف اور دیگر اداروں کے قیام میں اہم کردار ادا کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اب عالمی نظام باقاعدہ اُصولوں، قواعد اور ضوابط کے تحت چلایا جائے گا… مگر افسوس، ایسا نہ ہوسکا، اور وقتاً فوقتاً کئی مسلمان ممالک پر حملہ کرکے امریکہ نے خود اپنے ہی بنائے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑائیں۔ حملے کا نشانہ بننے والے سبھی ممالک کو امریکہ نے اپنی وار اکانومی کی بڑھوتری کے لیے تاراج کیا۔ اب وہاں انسان، اپنے جیسے دوسرے انسان کے خون کا پیاسا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ ویت نام، کمبوڈیا، وینزویلا اور اب کیوبا کو دھمکیاں دے کر امریکہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔
لیکن ایران کے ساتھ حالیہ مناقشے کے بعد اب شاید امریکہ کے لیے پہلے جیسے مظالم ڈھانا اگر ناممکن نہیں، تو مشکل ضرور ہوجائے گا… کیوں کہ دنیا اب ’’یک قطبی‘‘ (Unipolar) نہیں رہی، بل کہ طاقت کے بڑے مراکز اب تین دیکھنے کو مل رہے ہیں… یعنی امریکہ، چین اور روس۔
درست ہے کہ چین کا طریقہ جنگی نہیں، بل کہ ’’سافٹ پاور‘‘ (Soft Power)، ٹیکنالوجی اور معیشت کے ذریعے غلبہ حاصل کرنا ہے، جب کہ روس گذشتہ کئی برسوں سے یوکرین جنگ میں اُلجھ کر عالمی امور سے کچھ فاصلے پر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم گذشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان محدود کشیدگی اور اب ایران اور اسرائیل-امریکہ کی جنگی صورتِ حال نے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر نئی طاقتوں کی جھلک دکھا دی ہے۔ اسی طرح روس نے ایران کے ساتھ مکمل اظہارِ یک جہتی کرکے امریکہ ’’لال جھنڈی‘‘ دکھا دی ہے۔
چین اور روس، جو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ (Global South) کے قائدین سمجھے جاتے ہیں، اسی گلوبل ساؤتھ میں ’’برکس ممالک‘‘ اور پاکستان سمیت دیگر ریاستیں بھی شامل ہیں۔ یوں مجموعی طور پر گلوبل ساؤتھ کی کل آبادی عالمی آبادی کا تقریباً 80 فی صد بنتی ہے۔
ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی یلغار نے خلیجی ممالک کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے کہ گلوبل نارتھ کا زمانہ اب ڈھل چکا ہے۔ اس لیے بعید نہیں کہ بعد از جنگ عالمی نظام میں تبدیلی کا عمل تیز تر ہو جائے۔ کیوں کہ امریکی قیادت میں گلوبل نارتھ کی بالادستی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
پہلا ستون، حربی طاقت… جس کی ساکھ کو ایرانی میزائلوں نے شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ جدید امریکی جاسوس نظام اور جیٹ طیاروں سے لے کر اسرائیلی جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹمز کو چیلنج کرنے والے ایرانی میزائلوں نے امریکی حربی بالادستی کو متزلزل کر دیا ہے۔
دوسرا ستون، ڈالر… عالمی تجارت کا ڈالرائزیشن کا عمل امریکہ کو غیر معمولی برتری فراہم کرتا ہے۔ اب ایران نے اعلان کیا ہے کہ ’’آبنائے ہرمز‘‘ (Strait of Hormuz) سے گزرنے والی تجارت کے لیے چینی کرنسی ’’یوان‘‘ (Yuan) کا استعمال لازم ہوگا۔ اگر یہ عملی شکل اختیار کرلیتا ہے, تو نہ صرف امریکی حربی طاقت بل کہ اس کی معاشی برتری بھی شدید دباو میں آسکتی ہے۔ یوں گلوبل نارتھ کے بہ جائے گلوبل ساؤتھ کے دور کا آغاز ممکن نظر آتا ہے۔ تاہم، جب بھی کوئی عالمی نظام تبدیل ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ افراتفری اور بے یقینی بھی جنم لیتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس ممکنہ تبدیلی کے نتیجے میں دنیا میں مزید کتنی بے چینی پھیلتی ہے… اور پاکستان جیسے معاشی طور پر کم زور ممالک اس کے اثرات سے کس حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں؟
ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کا نقصان یقیناً بہت ہوا، مگر اس میں ایک پہلو ایسا بھی دکھائی دیتا ہے کہ شاید گلوبل نارتھ کی یک طرفہ بالادستی کا دور اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ (ختم شد)
زیرِ نظر تحریر میں پیچیدہ اصطلاحات جو پہلے سے نمایاں کی گئی ہیں، ان کے مفاہیم کی وضاحت ذیل میں ملاحظہ ہو:
1) ’’حربی صنعت‘‘ یا ’’وار اکانومی‘‘ (War Economy):۔ وہ معاشی نظام جس میں قومی وسائل اور پیداوار جنگی مقاصد کے لیے وقف ہوجائیں۔
2) ’’سرد جنگ‘‘ (Cold War):۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سیاسی، عسکری اور نظریاتی کش مہ کش کا دور، جس میں بہ راہِ راست جنگ نہیں ہوئی، بل کہ بالواسطہ مقابلہ، اسلحے کی دوڑ، پروپیگنڈا اور اتحادی بلاکس کے ذریعے طاقت آزمائی کی گئی۔
3) ’’فسطائیت‘‘ (Fascism):۔ فسطائیت ایک ایسے سیاسی نظام کو کہتے ہیں، جس میں طاقت ایک فرد یا جماعت کے ہاتھ آجاتی ہے… اور عوامی آزادیوں پر سخت پابندیاں لگ جاتی ہیں۔
4) ’’گلوبل نارتھ‘‘ (Global North):۔ گلوبل نارتھ سے مراد دنیا کے وہ ممالک ہیں، جو معاشی طور پر ترقی یافتہ، صنعتی اور سیاسی طور پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جیسے امریکہ، یورپ، جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا۔
5) ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ (Global South):۔ گلوبل ساؤتھ سے مراد ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ممالک ہیں، جیسے افریقہ، لاطینی امریکہ، جنوبی ایشیا وغیرہ۔
6) ’’برکس‘‘ (BRICS):۔ برکس ایک پلیٹ فارم ہے، جہاں ابھرتی ہوئی معیشتیں اور ترقی پذیر ممالک مل کر عالمی سیاست و معیشت میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ نام ابتدائی پانچ رکن ممالک کے انگریزی ناموں (Brazil, Russia, India, China, South Africa) کے پہلے حروف سے بنایا گیا۔ اس کے موجودہ رکن ممالک برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایران، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور سعودی عرب ہیں۔
7) ’’یک قطبی دنیا‘‘ (Unipolar World):۔ یک قطبی دنیا سے مراد وہ عالمی نظام ہے، جس میں صرف ایک طاقت یا ریاست دنیا بھر کی سیاست، معیشت اور فوجی اثر و رسوخ پر غالب ہو۔ دراصل ’’سرد جنگ‘‘ کے خاتمے کے بعد 1990 کی دہائی میں امریکہ کو واحد سپر پاؤر سمجھا جاتا تھا، اور اسی دور کو اکثریک قطبی دنیا کہا جاتا ہے۔
8) ’’سافٹ پاؤر‘‘ (Soft Power):۔ سافٹ پاور وہ قوت ہے، جو دلوں اور ذہنوں کو جیت کر اثر انداز ہوتی ہے، نہ کہ بندوق یا دباو سے۔ یہ کسی ملک کی ثقافت، اقدار اور پالیسیوں کے ذریعے دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے کا فن ہے۔ کنفیوشس انسٹیٹیوٹ، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، چینی زبان و ثقافت کی ترویج وغیرہ چین کو سافٹ پاؤر
بناتے ہیں۔
9) ’’آبنائے ہرمز‘‘ (Strait of Hormuz):۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے جوڑتی ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کُل تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فی صد روزانہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
10) ’’یوان‘‘ (Yuan):۔ چینی کرنسی کا باضابطہ انگریزی نام "Chinese Yuan”، جب کہ ـ”Renminbi” سرکاری نام ہے۔
اصطلاحات کے مفاہیم میں ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ سے پھرپور طریقے سے مدد لی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے