(لبِ لباب: علامہ اقبال کی جیوپولیٹیکل بصیرت اور مسلم دنیا کے مستقبل کے بارے میں حیرت انگیز پیش گوئیوں کا احاطہ کرتی مفصل تحریر)
20ویں صدی کے اوائل میں جب بیش تر ایشیائی ممالک سیاسی و معاشی عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھے۔ اُس وقت علامہ اقبال نے اپنی فکری گہرائی، سیاسی بصیرت اور غیر معمولی دور اندیشی کے ساتھ آنے والی صدی میں رونما ہونے والی بڑی عالمی تبدیلیوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔
مذکورہ پیش گوئیوں میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے کئی پوشیدہ پیغامات اور گہرے راز موجود تھے۔ دراصل علامہ اقبال کا مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں وجود میں آنے والے پاکستان کے مسلمان پہلے ہی سے جیوپولیٹکس کو سمجھیں اور آنے والے دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو پہلے ہی سے تیار کریں۔ کیوں کہ علامہ اقبال کو اس خطۂ پاک سرزمین سے غیر معمولی توقعات وابستہ تھیں… اور وہ آنے والے دور میں پاکستان کو امتِ مسلمہ کے لیے ایک امید کی کرن اور فکری و سیاسی راہ نمائی کا مرکز تصور کرتے تھے۔
مثال کے طور پر اُس وقت چین دنیا کے سامنے ایک مضبوط ریاست کی حیثیت سے وجود نہیں رکھتا تھا۔ چینی معاشرہ افیون اور نشے کی لعنت میں مبتلا تھا۔ اُس زمانے کی ’’مغربی تہذیب یافتہ قومیں‘‘ انھیں نشے کا عادی، کم زور اور کم عقل قوم سمجھتی تھیں… لیکن چینی قوم کے بارے میں علامہ اقبالؒ کی نگاہ محض حال تک محدود نہ تھی۔ وہ اپنی بصیرت سے مستقبل کے افق کو دیکھ رہے تھے۔ اسی بصیرت کا اظہار انھوں نے ان الفاظ میں کیا:
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
یعنی ایشیا کی سرزمین پر ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے اور ہمالیہ کے پہاڑ گویا ایک نئی طاقت اور نئی روح کے سرچشمے بن رہے ہیں اور وہ چینی قوم جو صدیوں سے غفلت اور نشے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی، اب بیدار ہو کر سنبھل رہی ہے… اور مستقبل میں ایک عظیم اور طاقت ور قوم کے طور پر دنیا کے افق پر ابھرنے والی ہے۔
اسی طرح پہلی جنگِ عظیم کے بعد دنیا کی جیوپولیٹکس میں ایک زبردست انقلاب برپا ہوا۔ روس میں بالشویک انقلاب کے نتیجے میں کمیونزم کا نظام قائم ہوکر اپنے نقطۂ عروج تک پہنچ گیا۔ اس انقلاب نے صرف روس ہی نہیں، بل کہ پوری دنیا کی سیاسی منظر نامے کو یک سر بدل کر رکھ دیا۔ دنیا کے کئی ممالک میں صدیوں پرانی بادشاہتیں ختم ہوگئیں اور دنیا ایک نئے نظریاتی اور اقتصادی دور میں داخل ہونے لگی۔
ایک طرف کمیونزم ایک مضبوط نظریاتی اور سیاسی نظام کے طور پر ابھر رہا تھا، جب کہ دوسری طرف مغرب میں سرمایہ دارانہ (کیپیٹلسٹ) نظام کی مقبولیت تھی اور کئی مغربی ممالک اسی نظام کی قیادت کر رہے تھے۔ یوں دنیا آہستہ آہستہ دو بڑے نظریاتی، اقتصادی اور سیاسی کیمپوں میں تقسیم ہونے لگی… جس نے عالمی سیاست کو ایک طویل اور شدید کش مہ کش یعنی سرد جنگ (Cold War) کی طرف دھکیل دیا۔
یہ محض دو عالمی طاقتوں کی رقابت نہیں تھی، بل کہ دو متضاد نظاموں، دو مختلف نظریات اور دو مختلف عالمی سیاسی تصورات کی کش مہ کش تھی، جس کے اثرات پوری دنیا خصوصاً ایشیا، افریقہ اور مسلم دنیا پر گہرائی سے اثر انداز ہو رہے تھے۔عین اُسی دور میں علامہ محمد اقبال برصغیر کے مسلمانوں کو ایک گہری فکری حقیقت کی طرف متوجہ کر رہے تھے۔ اپنی معروف نظم ’’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘‘ میں انھوں نے ایک خیالی منظر پیش کیا جس میں ابلیس اپنے چیلوں کو نصیحت کرتا ہے اور آنے والے خطرات اور چیلنجز کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ اس تمثیلی گفت گو میں ابلیس اپنے شاگردوں یعنی چیلوں کو یہ بتاتا ہے کہ مغربی تہذیب کے قائم کردہ دجالی اور مادی نظام کو حقیقی خطرہ کسی اور نظریے یا نظام سے نہیں، بل کہ اسلام سے ہے۔
حضرتِ اقبالؔ کے الفاظ میں ابلیس اپنے چیلوں سے کہتا ہے: ’’فتنہ پردۂ مزدکیت نہیں، اسلام ہے!‘‘ یعنی دنیا میں ابھرنے والے دیگر نظریات جیسے کمیونزم یا دیگر انقلابی تحریکیں اصل خطرہ نہیں۔ یہ محض وقتی اور ظاہری فتنوں کی مانند ہیں۔ حقیقی قوت اور اصل چیلنج اسلام ہے، کیوں کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بل کہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور زندہ تہذیبی نظام ہے، جو باطل اور استعماری نظاموں کو چیلنج کرنے کی پوری قوت اور صلاحیت رکھتا ہے۔
علامہ نے دراصل اس بات کی پیش گوئی کی کہ مستقبل میں جو عالمی جنگیں ہوں گی، وہ مغربی مادی استعماری نظام اور اسلام کے درمیان ہوں گی… لیکن بالآخر اصل تصادم اسلام اور اس کے مخالف نظاموں کے درمیان ہی ہوگا۔ اسی لیے اقبالؔ نے بہت پہلے مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ آنے والے زمانے میں مختلف نظریاتی اور تہذیبی نظام دراصل اسلام ہی کے مقابل کھڑے ہوں گے۔
اسی طرح علامہ نے افغانستان اور اس کی جیوپولیٹیکل حیثیت کو بھی غیر معمولی بصیرت کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ علامہ اقبال کے نزدیک پورے ایشیا کی جغرافیائی ساخت میں افغانستان کو ایک مرکزی اور کلیدی مقام حاصل ہے۔ اس حقیقت کو انھوں نے درجِ ذیل اشعار میں اجاگر کیا تھا۔ فرماتے ہیں:
آسیا یک پیکرِ آب و گِل است
ملتِ افغان در آن پیکرِ دل است
از فسادِ او فسادِ آسیا
در کشادِ او کشادِ آسیا
ان اشعار میں حضرتِ اقبالؔ نے تقریباً ایک صدی پہلے اس خطے کے بارے میں ایک پوشیدہ اور گہری حقیقت بیان کی۔ فرماتے ہیں کہ ایشیا کا یہ پورا مٹی کا جغرافیہ دراصل ایک جسم کی مانند ہے اور اس جسم میں افغانستان دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر دل صحت مند ہو، تو پورا جسم صحت مند رہتا ہے… لیکن اگر دل میں خرابی پیدا ہو جائے، تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں حضرتِ اقبالؔ کا خیال تھا کہ اگر افغانستان میں امن، استحکام اور اتحاد ہوگا، تو اس کے اثرات پورے ایشیا میں امن و استحکام کی صورت میں ظاہر ہوں گے… لیکن اگر افغانستان خانہ جنگی اور انتشار کا شکار ہوگا، تو اس کے اثرات صرف اسی تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ پورا ایشیا عدم استحکام سے متاثر ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں افغانستان کی اس جغرافیائی اہمیت اور اِفادیت کو بہ خوبی سمجھتی ہیں۔ اسی حقیقت کی عکاسی بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی Heart of Asia – Istanbul Process جیسی کانفرنسوں کے نام سے بھی ہوتی ہے، جن میں افغانستان کو "Heart of Asia” یعنی ایشیا کا دل قرار دیا جاتا ہے۔
علامہ کی یہی فکری بصیرت آج کی جغرافیائی سیاست میں بھی پوری طرح درست ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ایشیا کا امن افغانستان کے استحکام ہی سے جڑا ہوا ہے۔
اسی طرح علامہ نے ایک صدی پہلے برصغیر کے مسلمانوں کو ایران کے بارے میں ایک گہری فکری بات سمجھائے تھی کہ
طہران ہو اگر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
یعنی اگر مشرق کی قومیں اور ان کے حکم ران اپنے فیصلے یورپ کے شہروں، خصوصاً جنیوا، میں کرنے کے بہ جائے طہران (تہران) یعنی ایران میں بیٹھ کر کریں، تو عین ممکن ہے کہ مشرق کی اقوم کی تقدیر بدل جائے۔ جس طرح مغرب کے ممالک جنیوا میں بیٹھ کر آپس کے فیصلے کرتے ہیں اور اسے پورے دنیا میں نافذ کرتے ہیں، اُسی طرح علامہ مشرق کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ انھیں اپنی سیاسی و فکری خود مختاری حاصل کرنی چاہیے۔ انھیں اپنے مسائل کے حل کے لیے مغرب پر انحصار کرنے کے بہ جائے باہمی اتحاد اور اپنی اجتماعی قوت پر بھروسا کرنا چاہیے۔
علامہ کے نزدیک مشرق کے مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ مسلمان ایک ایسا فکری اور سیاسی مرکز قائم کریں، جہاں سے وہ اپنے اجتماعی فیصلے خود کرسکیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمان نہ صرف مغربی سیاسی و استعماری بالادستی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں گے، بل کہ دنیا میں عزت، وقار اور خود مختاری کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے اور دیگر قوموں پر بھی اپنے فیصلے مسلط کرسکیں گے۔
اگر دیکھا جائے، تو موجودہ وقت میں ایران مغربی استعماری طاقتوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور خود مختار موقف کے ساتھ آہنی چٹان بن کر کھڑا نظر آرہا ہے، جس سے علامہ اقبالؔ کے افکار کی معنویت مزید واضح ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں ایران کو ایک ایسی اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں کسی حد تک شرعی اصولوں اور خلافتِ اعلا یا ولایتِ فقیہ کی بنیاد پر نظام قائم ہے۔ اسی طرح ایران کئی مغربی طاقتوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور ثابت قدم ریاست کے طور پر بھی نمایاں نظر آتا ہے اور خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی اور تذویراتی تعلقات کو مستحکم بنانے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔
چوں کہ علامہ اقبالؔ کو ایرانی قوم سے خاص توقعات وابستہ تھیں اور ایرانیوں ہی سے مغربی استعماری قوتوں سے ٹکر لینے کی توقع رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے صرف اُردو نہیں، بل کہ فارسی زبان میں بھی بڑے گہرے انداز میں شاعری کی اور آنے والے چیلنجز اور جیو پالیٹکس کے حساب سے پالیسی بھی وضع کی۔
چوں کہ فارسی دراصل اس پورے خطے کی ایک مشترکہ علمی اور تہذیبی زبان تھی، اس لیے علامہ کی فارسی شاعری کا مخاطب صرف برصغیر کا مسلمان نہیں تھا، بل کہ تمام مشرقی اقوام تھیں۔ اس میں افغانستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ کیوں کہ علامہ چاہتے تھے کہ اُن کا فکری اور روحانی پیغام بہ راہِ راست پورے مشرق تک پہنچے اور وہاں کی اقوام میں فکری بیداری اور خودی کا شعور پیدا ہو، تاکہ آنے والے چیلنجز کے لیے خود کو بروقت تیار کرے۔
علامہ کی شاعری کے کئی بڑے مجموعے جیسے ’’اسرارِ خودی‘‘، ’’رموزِ بے خودی‘‘، ’’پیامِ مشرق‘‘ اور ’’جاوید نامہ‘‘ فارسی میں ہیں۔ اُن کی شاعری نے ان خطوں میں حقیقی فکری بیداری پیدا کی۔ ایران میں اسلامی انقلاب اور وسطی ایشیا، خصوصاً تاجکستان، میں فکری تحریکوں کے دوران میں بھی اقبال کے اشعار پڑھے اور سمجھے جاتے رہے۔
علامہ اقبالؔ کی فکر کا ایک بڑا مقصد بھی یہی تھا کہ کسی طرح اس پورے خطے کے مسلمانوں کو فکری اور تہذیبی طور پر بیدار کرکے انھیں ایک مضبوط وحدت کی شکل دی جائے۔
علامہ نئے دور کے جیو پالیٹکس کو کس دور میں پرکھ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مستقبل کی دنیا میں قومیں اور ریاستیں ’’بلاکس‘‘ کی صورت میں ابھریں گی… اور طاقت اُسی کے پاس ہوگی، جو اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے گا۔ اسی لیے اُنھوں نے مسلمانوں کو اتحاد اور وحدت کا پیغام دیا۔
علامہ کا خواب تھا کہ افریقہ سے لے کر وسطی ایشیا تک اور مشرقی ترکستان (سنکیانگ) تک مسلمان ایک فکری اور تہذیبی رشتے میں جڑ جائیں اور ان میں ایک مضبوط اتحاد قائم ہو۔ اس میں کاشغر اور خنجراب پاس تک اور قراقرم تک کا خطہ علامہ کے نزدیک جغرافیائی اور تہذیبی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ چناں چہ اُس وقت علامہ اقبال مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد کی بنیاد پر ایک مضبوط بلاک کے قیام کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ اسی تناظر میں انھوں نے برصغیر کے مسلمانوں، بالخصوص پاکستان کے قوم کو یہ پیغام دیا کہ آنے والے وقت میں وہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک خاص اور اہم ذمے داری ادا کریں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امتِ مسلمہ کی راہ نمائی اور اتحاد و اتفاق میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔
علامہ اقبالؔ نے قیامِ پاکستان کے لیے جد و جہد کرنے والے نوجوانوں کو نصیحت کی تھی کہ
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یعنی اگر پاکستان کے نوجوان اپنے اسلاف کے اوصاف اپنائیں، تو مذکورہ خاص اوصاف کی بہ دولت ہی پاکستان، امتِ مسلمہ کی قیادت کا اہل ہوسکتا ہے… اور اگر دیکھا جائے، تو موجودہ وقت میں یہی ذمے داری پاکستان کے کاندھوں پر آتی ہے۔ وہ اسی حقیقت کو سمجھتے تھے کہ جب پاکستانی قوم انھی روحانی عظمت اور اعلا اوصاف کو زندہ کرے گی، تو اسے اللہ کی طرف سے ایک نئی قوت اور خاص نصرت حاصل ہوگی۔
علامہ نے پاکستان اور امتِ مسلمہ کے مستقبل کے بارے میں اپنی محولہ بالا بصیرت کو ایک شعر میں یوں بیان کیا:
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نطقِ اعرابی
یعنی ترکوں کا جلال اور عزم، برصغیر کے مسلمانوں کا علم و حکمت اور فکری بصیرت اور عربوں کی فصاحت و بلاغت، اگر یہ تمام اوصاف ایک جگہ جمع ہو جائیں، تو امتِ مسلمہ دوبارہ ایک نئی اور عظیم قوت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ترکی، پاکستان اور عرب ممالک کے اتحاد کی خبریں آج کل زیرِ گردش ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پہلے ہی ہوچکے ہیں… اور ترکی نے بھی اس اتحاد میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ فی الحال یہ اقدام ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن مستقبل میں یہ ایک مضبوط اور مؤثر بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ چوں کہ موجودہ عالمی حالات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اگر باہمی تعاون اور اتحاد کے ساتھ ایک بلاک کی صورت میں کھڑے ہوگئے، تو یہ عالمِ اسلام کے لیے ایک اہم اور طاقت ور بلاک ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بات بھی پاکستان کے لیے خوش آیند ہے کہ آج کی جغرافیائی سیاست میں جو تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ان میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تقریبا تمام عرب ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدات کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کررہے ہیں۔ آہستہ آہستہ مسلمان ممالک آپس میں اتحاد کی طرف گام زن دکھائی دے رہے ہیں…. لیکن آخر میں یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ اس وقت امتِ مسلمہ کے پاس وقت بہت کم ہے اور خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔
اگر ہم آج بھی علامہ کے فکر و فلسفے کو اپنانے میں غفلت برتیں گے اور ہوش سے کام نہیں لیں گے، تو ذلت ہمارا مقدر بن جائے گی۔ عصرِ حاضر کے ہلاکو خان…نیتن یاہو جیسے سفاک کردار مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لیے بار بار مسلط ہوں گے… اور ایک دن ہم تاریخ کا ایک ایسا باب بن جائیں گے کہ لوگ صرف عبرت کے طور پر ہمیں یاد کریں گے اور آیندہ نسلیں ہمارے انجام سے سبق سیکھیں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










