قطرے سے گہر ہونے تک

Blogger Fazal Maula Zahid

جولائی 2012 عیسوی میں اٹھارویں ترمیم کا ’’بھونچال‘‘ آیا، تو وفاق کی کئی نامی گرامی وزارتیں اور ادارے بہ یک جنبشِ قلم تحلیل ہوگئے۔ انھی دنوں ہم وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ پشاور میں تعینات تھے۔ اس محکمے کا کام صوبوں کے سپرد ہوا اور ہم جیسے سیکڑوں ملازمین تتربتر ہو کر دیگر محکموں میں ایڈجسٹ ہوگئے۔ میری پوسٹنگ نیشنل سیونگ آرگنائزیشن کے ریجنل آفس پشاور میں ہوئی، جو فنانس ڈویژن کا ماتحت ادارہ تھا۔ دفتر ملا، میز اور کرسی بھی عنایت ہوئی… اور خوشی کی بات یہ کہ ذمے داری کوئی نہیں ملی۔ ہمیں اس شعبے کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں تھی اور نہ اس بے سروپا مصروفیت میں الجھنے کا کوئی شوق ہی تھا۔
دن گزرتے گئے۔ ہم مفت کی تنخواہ پر مکھیاں مارتے، دوستوں اور بہی خواہوں کے ساتھ گپیں ہانکتے اور موبائل فون پر شغل میلے کی کیفیت بپا کرتے رہتے۔ ایک دن ہم حسبِ معمول موئینگ چیئر پر براجمان، ’’رخِ زیبا‘‘ شرقاً غرباً گھماتے ہوئے اور پاؤں آفس کی میز پر رکھ کر سرکار کی بے حرمتی اور اپنی بے توقیری کا سماں باندھے ہوئے تھے کہ اچانک دفتر کا دروازہ کھلا۔ ایک ہنستا مسکراتا، لمبا تڑنگا نوجوان آہستگی سے کھانستا ہوا اندر داخل ہوا۔ یہ علی حیدر بابا خیل تھے، ہمارے وزارتِ خوراک و زراعت کے دنوں کے ساتھی۔ عرصے بعد انھیں سامنے دیکھ کر دل واقعی باغ باغ ہوگیا۔ گلے ملے، قہقہے لگے، پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے مزید ’’سرکار کا آلہ کار‘‘ بننے کے بہ جائے خود اپنی مرضی کا مالک بننے کو ترجیح دی ہے۔ کوئی گھنٹا ڈیڑھ بعد وہ رخصت ہوگئے، مگر مَیں دیر تک ماضیِ قریب کی راہ داریوں میں ’’بندیوان‘‘ ہو کر یادداشت کے تہہ خانوں میں بھٹکتا رہا۔
کہنے کو تو علی حیدر ہمارے حیات آباد ریجنل آفس میں جونیئر کلرک تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اعتماد اور حسنِ کارکردگی کی بنیاد پر پورے دفتر کے گویا نگران بن بیٹھے۔ کبھی کمپیوٹر پر رپورٹس بنانے میں مشغول، کبھی اکاؤنٹس کے معاملات میں مصروف، کبھی سرکار کے مہمانوں کی آؤ بھگت میں منہمک۔ دفتر کی عمارت کے ایک حصے میں چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس بھی تھا، جہاں وقت بے وقت مہمانوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔
جوانی میں ایسی سنجیدگی اور ذمے داری کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ ایمان دار تھے، محنتی تھے اور خوش باش بھی۔ فائلوں کے ساتھ ساتھ ملازمین کے مسائل بھی سنتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے۔ ہر افسر کے معتمد، ہر ساتھی کے دوست… خندہ پیشانی اور ہم دردی تو جیسے اُن کی فطرت میں گوندھی ہوئی تھی۔
علی حیدر کا تعلق پشاور کے تاریخی گاؤں ’’سپینہ وڑئی‘‘ سے تھا، مگر سوچ اور وژن کسی بڑے شہر کے آدمی جیسے تھے۔ دفتری اوقات ختم ہوتے ہی اُن کی ایک اور دنیا آباد ہو جاتی۔ چھوٹے پیمانے پر پراپرٹی کے کاروبار میں دوستوں کے ساتھ شراکت، کبھی کسی منصوبے کی بات، کبھی کسی نئی جگہ کا معائنہ… تھکاوٹ جیسے الفاظ اُن کی لغت میں تھے ہی نہیں۔
وقت نے جیسے ہی اٹھارویں ترمیم کی کروٹ لی، ویسے ہی ہماری راہیں بھی جدا ہوگئیں۔ ہم برائے نام سرکاری نظام کی جڑوں میں پیرا سائیٹ بن کر چپک گئے، مگر علی حیدر نے سرکار کی موئینگ چئیر سے نجات حاصل کی اور کشتیاں جلا کر پوری توجہ پراپرٹی کے کاروبار پر مرکوز کر دی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ہم میں سے اکثر لوگ سرکاری ملازمت کو زندگی کی آخری منزل سمجھ لیتے ہیں۔ ہر ماہ کی مقررہ تنخواہ ہمیں ایک محفوظ دائرے میں قید کر دیتی ہے… مگر علی حیدر باباخیل نے اس جمود سے بغاوت کی اور اپنی راہ خود بنانے کا فیصلہ کیا۔
آغاز چھوٹے چھوٹے کاموں سے لیا۔ شہر میں چند عمارتیں کرائے پر لے کر اسٹوڈنٹس ہاسٹل قائم کیے۔ خود اُن کی مینجمنٹ سنبھالی اور طلبہ کو مناسب کرائے پر بہتر رہایش کے ساتھ ساتھ دیگر آسانیاں فراہم کیں۔ پراپرٹی کے کاروبار کو بھی وسعت دیتے گئے۔ اُن دنوں مَیں یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں ایک دوست کے ساتھ مقیم تھا۔ علی حیدر بھی کبھی کبھار شام کو آجاتے۔ ہم گھومتے پھرتے گفت گو کرتے، گل چھرے اڑاتے اور اُن کے عجیب و غریب منصوبوں کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرتے۔ کبھی مجھے پلاٹس دکھاتے، کبھی نقشے نکال کر سمجھاتے کہ وہ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے تھے۔ اُن کا خواب ایک جدید رہایشی کمپلیکس بنانے کا تھا۔ ایسا منصوبہ جو لوگوں کو جدید، محفوظ اور آرام دہ رہایش دے اور سرمایہ کاروں کو معقول منافع۔ ہم سنتے، مسکراتے اور دل ہی دل میں سوچتے کہ خواب دیکھنا آسان ہے، پورا کرنا مشکل۔
مگر کچھ عرصے بعد یونیورسٹی روڈ پر اُن سے اچانک مٹ بھیڑ ہوئی، تو معلوم ہوا کہ رہائیی کمپلیکس کے ساتھ ایک میڈیکل کمپلیکس کی بنیاد بھی رکھی جاچکی ہے۔ جب کھلے میدان میں سریا اور کنکریٹ کا ڈھانچا آسمان کی طرف اٹھتے دیکھا، تو ہمیں یقین ہوا کہ خواب حقیقت میں بھی ڈھل سکتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ کس طرح نے زمین خریدی، کیسے سرمایہ جمع ہوا، دوستوں کو شریک کیا۔ راستے میں بڑی رکاوٹیں آئیں، نقصانات بھی برداشت کیے، مگر نے ہمت نہیں ہاری۔ اُنھوں نے پھر مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا، بل کہ وہ مٹی کو ہاتھ لگاتے، تو وہ سونا بن جاتی۔
پچھلے کئی برسوں سے علی حیدر سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، مگر سوشل میڈیا پر اُن کی سرگرمیاں دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار اُن کے نئے تعمیراتی منصوبوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آتی ہیں، تو بے اختیار وہ دن یاد آ جاتے ہیں، جب ہم ایک ہی دفتر کے ساتھی تھے۔
آج علی حیدر باباخیل تعمیرات کے شعبے میں ایک جانی پہچانی شخصیت بن چکے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب وہ سرکاری دفتر میں جونیئر کلرک کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔ آج وہ ایک ایسے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جہاں سیکڑوں لوگ اس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، نوجوانوں کی تربیت اور کھیلوں کے شعبے میں بھی مقدور بھر کردار ادا کر رہے ہیں۔ اُن کی یہ کام یابی دیکھ کر دل میں یقین اور بھی پختہ ہو جاتا ہے کہ اگر انسان کے اندر عزمِ مُصمم، مثُبت سوچ اور نیک نیتی ہو، تو نیلی چھتری والا راستے خود نکال دیتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، وہ کسی نہ کسی دروازے کو ضرور کھول دیتا ہے۔
علی حیدر بابا خیل کی یہ کہانی دراصل صرف ایک فرد کی کام یابی کی داستان نہیں، بل کہ ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے۔ سرکار کی چاکری سے کہیں بہتر ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرے، اپنے ہاتھوں سے اپنا راستہ بنائے اور معاشرے پر بوجھ بننے کے بہ جائے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔
یوں یہ صرف ایک جونیئر کلرک کے چیف ایگزیکٹو بننے کی کہانی نہیں، بل کہ عزم، خود اعتمادی اور خودداری کی داستان ہے۔
وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
جو یقین کی راہ پر چل پڑے
انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنھیں وسوسوں نے ڈرا دیا
وہ قدم قدم پر بہک گئے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے