لاوارث گندھارا

Blogger Rafi Ullah Swat

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)
تخت بھائی (مردان، خیبر پختونخوا) میں جولائی 2020ء میں دریافت ہونے والے بدھا کے مجسمے کو توڑنے کے بعد سوشل میڈیا پر مذمتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تھا۔ گندھارا کے اس نایاب ورثے کی بے رحم تباہی کا الزام اُن گروہوں کی فرقہ وارانہ تنگ نظری اور بت شکن رجحانات پر عائد کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کی اکثریتی سیاست کے پروردہ ہیں۔ چوں کہ یہ معاملہ تاریخ اور ورثے سے جڑا ہے، اس لیے ہمارے عمومی رویے، خاص طور پر تاریخ سے بے اعتنائی، پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس پورے پس منظر میں گندھارا کو کچھ فاضل لوگ "Disowned Child” یعنی ’’لاوارث بچہ‘‘ قرار دیتے ہیں…… لیکن یہ کہنا کچھسطحی سا نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ گندھارا ورثے کی ملکیت کے احساس اور اس کی حفاظت اور نگرانی کے سوال سے جڑا ہے۔
ہم اس ضمن میں کم از کم تین بڑے دعوے دار گروپوں کا تعین کرسکتے ہیں:
٭ پاکستان کی ریاست (فی الحال افغانستان کو نظرانداز کریں۔)
٭ مورخین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ۔
٭ مختلف مقامی نسلی گروہ، خصوصاً پختون جو کہ گندھارا کے تاریخی مسکن میں ابھی اکثریت میں ہیں۔

ظاہر ہے کہ ریاست اپنے قوانین اور اداروں کے ذریعے اس ورثے کی مالک اور نگران ہے۔ اسی طرح محققین، گندھارا کی تاریخ کی کھوج لگانے اور تحقیق میں مصروف ہیں، جب کہ نسلی گروہ اپنے آپ کو قدیم گندھاریوں کے نسلی وارث ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان گروہوں کے مفادات اور دل چسپیاں باہم متصادم ہیں۔ اور فطری طور پر ان کے لیے کوئی ایسا مشترکہ بنیاد موجود نہیں، جس پر باہمی تعاون یا بامعنی بات ہوسکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتی ادارے اور محققین دونوں ہی پبلک اور کمیونٹی آثارِ قدیمہ کے حوالے سے بے اعتنائی کا شکار رہے ہیں۔
پاکستان میں آثارِ قدیمہ سے وابستہ لوگ اپنے پیشے کے حوالے سے اخلاص اور صلاحیت دونوں کی کمی کے لیے مشہور ہیں۔ اس شعبے کو عالمی معیار تک پہنچانا تو درکنار، تحقیق اور تحفظ کے میدان میں بھی وہ کوئی قابلِ قدر کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ زوال کی اسی داستان میں داخلی گروہ بندی اور تنگ نظری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مزید بر آں ریاست کا نظریاتی رویہ اس المیے کی شدت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
ریاست کا قبل از اسلام دور کے ورثے کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ کوئی اچھی تاریخ نہیں رکھتا ۔ پاکستان کے نظریاتی اساس کی رو سے ماقبل اسلام تہذیبی ورثہ، تاریخی اور مذہبی نظر سے کچھ ایسا غیر بن جاتا ہے، جیسے اس کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔ اس فکر کو کسی حد تک ’’جیمز مِل‘‘ کی 19ویں صدی کی انڈیا کی تاریخی ادواربندی کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ مِل نے ہندوستانی تاریخ کو ’’ہندو‘‘، ’’مسلم‘‘ اور ’’برطانوی‘‘ ادوار میں بانٹا تھا۔ یہ سسٹم ہندو اور مسلمان کی دو متضاد شناختیں بنانے میں کارآمد ثابت ہوا اور اسی طرز پر قائم تھا اور کثیر شناختی معاشرے کا تصور آہستہ آہستہ درمیان سے نکل گیا۔ اس کے نتیجے میں ’’مذہب پر مبنی قوم پرستی‘‘ نے جنم لیا، جو کبھی بھارت میں بابری مسجد کی مسماری اور کبھی پاکستان اور افغانستان میں بدھ مت کے آثار کے انہدام کی صورت سامنے آئی۔
پاکستانی ریاست کی گندھارا سے دل چسپی اور ’’اِنگیج منٹ‘‘ کی تاریخ تضادات سے بھری پڑی ہے۔ آزادی کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک بدھ مت اور گندھارا کو اسلام کی برصغیر میں آمد اور پھیلاو کی مناسبت سے دیکھا گیا۔ کہا گیا کہ بدھ مت نے ویدی اور برہمنی جبر کے خلاف آواز اُٹھائی تھی، اور صدیوں بعد اسلام نے بھی ایسے ہی حالات میں کام یابی حاصل کی۔ یوں مزاحمت کو دونوں مذاہب کا مشترکہ وصف قرار دیا گیا۔ اس بیانیے کو جنوب مشرقی ایشیا کے بدھ ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
لیکن حالیہ برسوں میں گندھارا سے وابستگی ایک غیر سنجیدہ اور غیر واضح رویے کی آئینہ دار ہے۔ کبھی ذاتی شوق کے تحت، تو کبھی وقتی معاشی مفاد کی خاطر اس ورثے پر عجیب قسم کی توجہ دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومت اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے درمیان موثر روابط قائم ہی نہیں ہوسکے۔
ریاست اور محققین کی ناکامی کے باوجود ، ایک اُمید کی کرن مقامی برادریوں کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ باہر سے آنے والے ماہرین تو صرف کھدائی اور تحقیق کے محدود پروگرام لاتے ہیں اور ان کے نتائج ’مغربی جامعات تک ہی محدود‘ کی حد تک قابلِ قدر رہتے ہیں۔ اصل ذمے داری تو مقامی لوگوں پر عائد ہوتی ہے، جو اس زمین کے حقیقی وارث ہیں۔
تاہم اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ مقامی برادریاں بھی تضادات سے بھری پڑی ہیں۔ ان کے اندر مذہبی، نسلی اور سماجی تقسیم پائی جاتی ہے۔ کسی کے نزدیک گندھارا ایک ’’غیر مذہبی‘‘ اور ’’پرایا‘‘ آثار ہیں، تو کسی کے نزدیک یہ اُن کے آبا و اجداد کی کہانی ہے۔ پہلی فکر نے بامیان، شخوڑیٔ/ جہان آباد اور تخت بھائی میں بدھ مجسموں کی تباہی کو جنم دیا، جب کہ دوسری فکر نے ان کے تحفظ کے جذبات کو پروان چڑھایا۔
پشتون قوم پرست تاریخ نگاری 20ویں صدی کے وسط سے پہلے کے دور میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب پشتون اہلِ قلم نے علمی اور تحقیقی کام کیا ہے، مگر نوآبادیاتی تشریحات اور بعد کی قوم پرست تاویلات نے اسے اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ اگر قوم پرست تاریخ نگاری غیر محتاط ہو، تو یہ نہ صرف گم راہ کن، بل کہ تباہ کن بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
پشتون قوم پرست، مذہبی انتہاپسندوں کو نہ صرف انسانی، بل کہ ثقافتی قتلِ عام کے ذمے دار بھی سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک آثارِ قدیمہ کی مسماری دراصل خطے کی تاریخی شناخت کو مٹانے کی سازش ہے۔ پشتو شاعری میں بامیان، سوات اور اَب مردان میں بدھ مجسموں کی تباہی پر نوحے ملتے ہیں، جو اگر ایک طرف دُکھ کا اظہار ہے، تو دوسری طرف گندھارا سے وابستگی کی علامت بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخی شعور کو کسی حقیقی یا خیالی دشمن کے خلاف پروان نہ چڑھنے د یا جائے۔ جبر و استبداد کے نظام اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان کے خلاف مزاحمت کا طریقہ خود جبر نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ کو انتہا پسندی یا تردیدی نظریات کے تابع کرنا، دوسروں کے کردار کو مکمل طور پر رد کرنا، ایک طرح سے نئے المیے کو جنم دیتا ہے۔
پشتون تاریخی شعور کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر اس کے اندر موجود ’’آریائی نسل‘‘ یا ’’گندھارا کی خالص پشتونیت‘‘ جیسے نظریات تاریخی طور پر کم زور اور سیاست میں خطرناک ہیں۔
آخرِکار ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخ، ثقافت، سیاست اور علم کے باب میں از سرِ نو غور کیا جائے۔ ریاستی ثقافتی پالیسی، کثرتیت قبول کرنے والی، زندہ اور لچک دار ہونی چاہیے۔ مقامی اور غیر ملکی محققین کو بھی اپنی روایتی روش سے نکل کر سماج کے ساتھ بہ راہِ راست جڑنا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر، ایک ایسا تاریخی شعور بیدار کرنا ہوگا، جو اندھی عقیدت میں ڈوبے اور نہ نفرت کی زہر بھری تعبیر ہی میں رنگے۔ ورثے سے محبت اچھی بات ہے، مگر اس محبت کو دوسرے انسانوں کے استحصال کا موجب بالکل نہیں بننا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے