علم سے دانائی تک (باپ اور بیٹے کی گفت گو)

Blogger Khwaja Naveed

ایک سہ پہر، علم و فکر کی ایک خاموش محفل سجی…… کوئی تختہ سیاہ تھا، نہ کتابوں کا بوجھ۔ بس دو نسلیں تھیں، دو زاویے اور ایک گفت گو، جو دل سے نکلی تھی۔
بیٹا کہنے لگا: ’’مجھے اسکول سے اتنا نہیں سیکھنے کو ملتا، جتنا آن لائن اور یوٹیوب سے۔ وہاں دماغ کھلتا ہے، نئی باتیں سمجھ آتی ہیں۔‘‘
باپ نے مسکرا کر جواب دیا: ’’بیٹا! معلومات علم بن جاتی ہیں، اور علم جب تجربے سے گزرے، تو دانائی بنتی ہے۔ دانائی ہی کام یابی کی کنجی ہے۔‘‘
بیٹا تھوڑا ٹھٹکا، گویا سوچ میں پڑگیا۔ پھر بولا: ’’تجربہ تو گھر میں بھی ہوتا ہے، آن لائن بھی۔ اسکول میں تو لوگ سنجیدہ ہی نہیں۔‘‘
باپ نے نرمی سے جواباً کہا: ’’اسکول صرف کتابوں کا نام نہیں۔ وہاں مختلف ذہنوں سے ملنے، روئیوں کو پہچاننے اور لوگوں کو سمجھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ یہی تجربہ زندگی میں کام آتا ہے۔‘‘
بیٹے نے ایک ہلکی سی طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا: ’’اسی لیے مَیں اسکول میں بے وقوف بن کر رہتا ہوں۔ کوئی بات نہیں بتاتا، تاکہ کوئی میرے آئیڈیاز چُرا نہ لے، کوئی مجھ سے حسد نہ کرے اور مَیں لوگوں کی نگاہوں میں نہ آؤں۔‘‘
باپ نے سمجھ داری سے کہا: ’’یہ اچھی حکمتِ عملی ہے، مگر یاد رکھ اصل حکمت اُس وقت ظاہر ہوتی ہے، جب لوہا گرم ہو، جب بات کرنا ضروری ہو اور نہ کرنے سے نقصان ہوتا ہو۔ کیوں کہ جھوٹ کبھی نہیں بولنا اور سچ وہاں بولوں جہاں ضروری ہو۔‘‘
پھر بیٹے نے شکایت کی: ’’اُستاد سوال کا جواب دینے میں تامل اختیار کرتے ہیں اور ہمیں توجہ دینے کے بہ جائے گوگل دیکھتے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘‘
باپ نے خاموشی سے مسکرا کر کہا: ’’یہی زندگی کا سبق ہے۔ ہر سچ ہر کان کے لیے نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف وہی سنتے ہیں، جو اُن کے خیال کے مطابق ہو۔‘‘
یوں باتوں باتوں میں دن ڈھل گیا۔ گفت گو ختم ہوئی، مگر اس کے معنی نہیں۔ ایک نسل نے تجربے سے بات کی، دوسری نے تجسس سے۔ دونوں نے سمجھ لیا کہ علم کتابوں میں قید نہیں، بل کہ رویوں، سوالوں اور خاموشیوں میں بسا ہوتا ہے۔
اور کہیں دل کے کسی گوشے میں یہ احساس جاگا کہ علم راستہ ہے، دانائی منزل۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے