’’انتخابِ مخزن‘‘ از ڈاکٹر انور سدید (ناشر: ڈاکٹر تحسین فاروقی، طبعِ اول: مارچ 2016ء) کے صفحہ 365 پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا مضمون ’’مشفق خواجہ کے چند خطوط‘‘ پڑھتے ہوئے ایک مرکب ’’خط کتابت‘‘ پر نظر پڑی، تو حیرت ہوئی، کیوں کہ ہم ہمیشہ اپنی تحریروں میں اسے مرکبِ عطفی یعنی ’’خط و کتابت‘‘ کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔
درست ترکیب کی تلاش میں جب آن لائن ذرائع سے رجوع کیا، تو سب سے پہلے ’’ریختہ ڈاٹ او آر جی‘‘ پر خواجہ حسن نظامی کی ایک کتاب ملی، جو 1951ء میں دہلی سے شائع ہوئی تھی۔ اس کے ٹائٹل پیج پر ’’خط و کتابت‘‘ جلی حروف میں درج ہے۔
آن لائن’’ریختہ ڈکشنری‘‘ میں بھی ترکیب ’’خط و کتابت‘‘ ہی درج ہے۔ اس کے علاوہ ’’فیروز اللغات (جدید)‘‘، ’’جامع اُردو لغت‘‘، ’’جدید اُردو لغت‘‘ اور ’’حسن اللغات (جامع)‘‘ میں بھی ’’خط و کتابت‘‘ ہی درج ہے۔
مگر فارسی الفاظ کی بہتر تفہیم کے لیے مشہور لغت ’’فرہنگِ عامرہ‘‘ کے مطابق درست اِملا ’’خطِ کتابت‘‘ اور معنی ’’مراسلت‘‘ اور ’’باہم خط لکھنا‘‘ کے ہیں۔
’’علمی اُردو لغت (جامع)‘‘ میں بھی ترکیب ’’خطِ کتابت‘‘ درج ہے۔
دوسری طرف، اُردو کے مستند لغات مثلاً: ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ اور ’’نور اللغات‘‘ دونوں میں یہ ترکیب بغیر اضافت یعنی ’’خط کتابت‘‘ درج ہے۔ صاحبِ ’’نور‘‘ نے حضرتِ سحرؔ کا ایک شعر بھی بہ طورِ حوالہ نقل کرکے واضح کیا ہے کہ اُردو میں ’’خط کتابت‘‘ بغیر اضافت مستعمل ہے۔ بیخودؔ کا ایک شعر بھی اس مفہوم کی تائید کرتا ہے، ملاحظہ ہو:
خط کتابت ہوئی موقوف کہ اب خط آیا
فی الحقیقت وہ لکھیں گے کسی صورت نامہ
اس طرح سنہ 2000ء کو شائع ہونے والے اپنی نوعیت کے منفرد اور ضخیم لغت ’’آئینۂ اُردو لغت‘‘ میں بھی مذکورہ ترکیب بغیر اضافت کے یعنی ’’خط کتابت‘‘ درج ہے۔ نیز بیخودؔ کا یہ خوب صورت شعر بھی درج ملتا ہے کہ
خط کتابت نہ ہو غیروں سے یہ ممکن ہی نہیں
اُڑتے پھرتے ہیں ترے کوچے میں اکثر کاغذ
ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے ’’جنگ ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے‘‘ کے لیے 06فروری 2019ء کو ’’صحتِ زباں: الفاظ اور محاورات کا درست استعمال‘‘ کے زیرِ عنوان ترکیب ’’خط و کتابت‘‘ کو مکمل طور پر غلط اور بے معنی درج کیا ہے۔ ان کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:
’’خط کتابت ‘‘کو’’ خط و کتابت ‘‘ لکھنا اس لیے غلط ہے کہ یہ دراصل ’’ کتابتِ خط‘‘ کی مقلوب صورت ہے۔ کتابت کے معنی ہیں لکھنا اور کتابتِ خط کا مطلب ہوا خط لکھنا۔ جب یہ ترکیب مقلوب صورت میں یعنی اضافت کے بغیر اور پلٹی ہوئی حالت میں آئی، تو ’’خط کتابت ‘‘ کی ترکیب بنی، یعنی خط لکھنا۔ اب بتایئے کہ ’’خط و کتابت ‘‘کیسے درست ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ ’’و ‘‘ تو ’’اور‘‘ کے معنی میں ہے اورخط و کتابت کا مفہوم ہو گا ’’ خط اور لکھنا ‘‘، جو بے معنی بات ہے۔گویاخط کتابت درست ہے ، خط و کتابت غلط ہے۔‘‘
حاصلِ نشست یہ ہے کہ ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نور اللغات‘‘ اور ’’آئینۂ اردو لغت‘‘ جیسے مستند ماخذات، سحرؔ اور بیخودؔ جیسے معتبر شعرا، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ جیسے اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ درست ترکیب ’’خط کتابت‘‘ ہے، نہ کہ ’’خط و کتابت‘‘ یا ’’خطِ کتابت‘‘۔ لہٰذا مَیں سمجھتا ہوں کہ تحریروں میں ’’خط کتابت‘‘ کو اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے۔










