خلیل الرحمان قمر مجموعی طور پر میرا پسندیدہ مصنف کبھی نہیں رہا۔
اس کی کئی وجوہات ہیں:
پہلی وجہ، اُن کی اُلجھی ہوئی شخصیت ہے۔
دوسری وجہ، اُن کا جنسی امتیاز پر مبنی احمقانہ بیانیہ ہے۔
تیسری وجہ، اُن کا مکمل کمرشل نظریہ ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل پر ’’مَیں منٹو نہیں ہوں‘‘ نامی ڈراما اِن دنوں چل رہا ہے۔ رات اس کی 27ویں قسط آن ائیر ہوئی۔ مَیں اسے بڑی باقاعدگی سے دیکھتا ہوں۔ وجہ ظاہر ہے ’’منٹو‘‘ کا نام تھا، جس نے متوجہ کیا، مگر افسوس وہاں منٹو سرے سے موجود ہی نہیں۔
منٹو تو دراصل ایک بغاوت کا نام ہے؛ سماجی توقعات، روایات اور اخلاقی حدود کے خلاف بغاوت کا۔ وہ کہتا ہے: ’’اگر آپ کو میرے لکھے ہوئے پر اعتراض ہے، تو دراصل آپ کو معاشرہ پسند نہیں، کیوں کہ میرے الفاظ معاشرے کا آئینہ ہیں۔‘‘
خلیل الرحمان قمر نے یہاں منٹو کو عاریتاً لیا ہے۔ یہ ایک 22 سالہ یونیورسٹی کی طالبہ ’’میمل‘‘، 34 یا 35 سالہ پروفیسر (جس کا نام اتفاق سے ’’منٹو سر‘‘ہے) اور خاتون پروفیسر ’’چوہان‘‘ کی محبت کے مثلث کا قصہ ہے۔ اس میں ایک کونے میں دو اور عاشق ’’میکائیل حضرت‘‘ اور ایک سرپھرا نوجوان بھی شامل ہیں۔
میمل کی پھوپھو بھی محبت کی شادی کرکے خاندانی جھگڑوں میں شوہر اور دو جوان بیٹوں کو قتل کروا چکی ہے اور اب بھائی کے گھر رہتی ہے۔ پرانے لاہور کی روایتی دشمنیوں اور نشست و برخاست سے متاثر یہ ڈراما ایک مکمل ڈرامائی تجربہ پیش کرتا ہے۔
خلیل الرحمان قمر کی جملہ نگاری سے انکار ممکن نہیں اور ڈرامے میں اداکاروں کے جملوں کی ادائی بھی کمال کی ہے۔ پروفیسر صاحب کو لوگ ’’منٹو‘‘ ہی سمجھتے ہیں اور پھر وہ منٹو کو پڑھ ڈالتے ہیں۔ منٹو کے پڑھنے سے اُن پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ایک بزدل، دُبکے ہوئے شخص سے وہ بہادر اور حوصلہ مند انسان میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اظہارِ عشق سے انکار کرتے کرتے وہ چنچل لڑکی کے خطرناک باپ کے گھر پہنچ جاتے ہیں اور اس کے سامنے اظہارِ عشق کرکے زوردار تھپڑ کھا کر آ جاتے ہیں۔ لڑکی کو چھیڑنے سے بچانے میں گولیاں بھی کھالیتے ہیں۔
بہت دفعہ لگتا ہے کہ کردار نہیں، خلیل الرحمان قمر خود بول رہا ہے۔بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ کردار مکالمے کی ادائی میں کہیں کھو جاتے ہیں اور خطیب خلیل الرحمان قمر خود بول اُٹھتے ہیں، جہاں تخلیقی اثر کم اور قمر صاحب کا ذاتی بیانیہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
یہ بات تو واضح ہے کہ خلیل الرحمان قمر، عورت ذات کو ایک ’’پراڈکٹ‘‘ سمجھتے ہیں اور یہاں بھی عورت کی فکری خودمختاری کو جذباتی استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کہیں کہیں جملے اتنے طویل ہو جاتے ہیں کہ کہانی سست پڑ جاتی ہے اور بوریت ہونے لگتی ہے۔
ایک ڈرامے کے اندر گلیمر، سسپنس، ایڈونچر، محبت، اخلاقیات، سماجیات اور روایات کو جمع کر کے ایک کمرشل پراڈکٹ تیار کی گئی ہے۔ منجھے ہوئے اداکاروں کی موجودگی اسے کام یاب بناتی ہے ۔ ایک کام یاب کمرشل لکھاری کے طور پر وہ کہانی کو یوں چلاتے ہیں، جیسے دریا میں کانٹا ڈالے شکاری کبھی دھاگا چھوڑتا ہے، کبھی کھینچ لیتا ہے۔
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
وہ ناظرین کو اسی بہانے اپنے ساتھ باندھے رکھتا ہے۔ ڈراما ابھی چل رہا ہے۔ سسپنس قائم ہے۔ کلائمکس کا اندازہ نہیں ہونے دیتا، مگر سچ یہ ہے کہ ڈراما واقعی دیکھنے کے لائق ہے۔ اس میں خلیل الرحمان قمر کے فقروں اور مکالموں سے محظوظ ہونے اور متاثر ہونے کا پورا سامان موجود ہے۔ ناقدین، قارئین، ناظرین، سامعین اور ماہرین سب اپنی رائے اس حوالے سے دے سکتے ہیں۔ مَیں تو بہ ذاتِ خود مسلسل یہ ڈراما دیکھ رہا ہوں اور انتظار رہتا ہے کہ ادب کے نقاد اور استاد اس ڈرامے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ مجھے خوشی ہوگی اگر میں اُن کی رائے بھی پڑھ یا سن سکوں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










