ملائی مار چائے

Photos of Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

مجھے آج بھی یاد ہے جب ہم بچپن میں گوالیرئی (تحصیلِ مٹہ) اپنی خالہ کے گھر پر ہلہ بولتے، تو ہماری تواضع کڑک ’’ملائی مار چائے‘‘ اور اُبلے ہوئے دیسی انڈوں سے کی جاتی۔ انڈوں کے اوپر کالی مرچ حضرتِ فرازؔ کے مصرع
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
کے مصداق کام دیتی۔ ہم کمال مہارت سے آخری چُسکی تک بار بار ہلکی سی پھونک سے ملائی ہٹاتے جاتے، ساتھ کڑک چائے سے دماغ کی بتّی جلانے کی سعی بھی فرماتے جاتے۔ پھر ’’سگریٹ کے آخری کش‘‘ کی طرح آخری چسکی میں ملائی بھی حلق سے اُتار لیتے۔ اس عمل سے نہ صرف تا دیر دماغ کی بتی جلتی رہتی، بل کہ منھ میں ملائی کا سواد بھی باقی رہتا۔
واضح رہے کہ مَیں بالکل سگریٹ نوش نہیں، بل کہ یہ کہنا بہ جا ہوگا کہ کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کرتا، مگر تقریباً میرے سبھی سگریٹ نوش دوستوں کا ماننا ہے کہ آخری کش کا مزا بے بدل ہے۔
90ء کی دہائی یعنی ہمارے لڑکپن کے دور میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مینگورہ شہر میں جب کسی کے ہاں مہمان آتا، تو اُس کے اعزاز میں دیے جانے والے ظہرانے یا عشائیے کے وقت اگر دیسی ککڑ کی گردن پر چھری پھیر دی جاتی، اُسے گرم پانی میں رکھ دیا جاتا، پھر اُس کے سبھی پَر بڑے اہتمام سے ہٹائے جاتے اور ککڑ میاں ننگ دھڑنگ رہ جاتا، تو ہم جان جاتے کہ مہمان کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا نہیں، بل کہ موٹی اسامی ہے۔ اُس کے بعد کھال سمیت ککڑ میاں کے حصے بخرے کیے جاتے، پھر پکنے کے عمل سے گزرتا اور بالآخر لذتِ کام و دہن کا سامان بنتا۔
ٹھیک اسی طرح اگر مہمان صبح دس، گیارہ بجے یا سہ پہر 3 بجے کے آس پاس نازل ہوتا، تو چائے، انڈے، سواتے ککوڑے (علاقائی میٹھی روٹی)، امرسی، نمک پارہ، روپئی وال کیک (اس وقت مذکورہ کیک کی قیمت ایک روپیا تھی، جس کی وجہ سے اسے روپے وال کیک کہا جاتا)، پنجہ کیک (باقر خانی) یا پھر گھر ہی کی بنائی ہوئی ’’غونزاخی‘‘ (گھریلو خواتین کے ہاتھ کا بنا کیک) سے مہمان کی تواضع کی جاتی۔ چائے کی پیالی کی سطح پر ملائی کی تہہ جتنی دبیز ہوتی، اُس سے مہمان کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاتا۔
اب تو ڈاکٹر حضرات ملائی مار چائے کو مضرِ صحت گردانتے ہیں، مگر
چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ کافر لگی ہوئی
کے مصداق ہم بسا اوقات آدھا کپ چائے اور باقی ماندہ تہہ در تہہ ملائی سے بھر کرایک کے بعد ایک پُرشور چسکی لے کر گوالیرئی خالہ کی ’’ملائی مار چائے‘‘ کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ بہ قول چچا غالبؔ
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
تصویر میں نظر آنے والی ملائی مار چائے دراصل 2022ء کی بقر عید کے موقع پر قبلہ ڈاکٹر سلطان روم کے حجرے میں نوشِ جاں فرمائی۔ تصویر میں بیکری کے ساتھ گھر کی تیار کردہ ’’غونزاخی‘‘ بھی نمایاں ہیں۔

One Response

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے