رشوت…… نوٹوں میں لپٹی بددعا

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

رشوت محض لین دین کا عمل نہیں، بل کہ ایک ایسا زہر ہے، جو نظام کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ رشوت محض پیسوں کی ادائی ہے، لیکن درحقیقت، رشوت کبھی اکیلی نہیں آتی۔ اس کے ساتھ آتی ہیں دینے والے کی بددعا، مجبوریاں، دکھ، تکلیف، غصہ، دباو اور فکر…… سب کچھ نوٹوں لپٹا ہوا۔
یہی رشوت جب دی جاتی ہے، تو ایک مجبور، پسے ہوئے انسان کی آخری اُمید مرجاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انصاف نہیں ملے گا، جب تک وہ ’’قیمت‘‘ نہ دے۔ کبھی وہ اپنی بیٹی کی شادی کے کاغذوں کے لیے، کبھی بیٹے کے شناختی کارڈ کے لیے اور کبھی اپنے والد کی زمین کے انتقال کے لیے کسی دفتر میں جاتا ہے…… لیکن وہاں پہنچ کر اسے پتا چلتا ہے کہ حق لینے کے لیے بھی نذرانہ دینا پڑتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب رشوت لینے والا صرف پیسے نہیں لیتا، وہ ساتھ میں ایک دکھی انسان کی آہ بھی لیتا ہے۔ وہ نوٹوں میں چھپی ہوئی بددعائیں، کرب، بے بسی اور ایک لاچار دل کی ٹوٹتی ہوئی امید کو بھی اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔
رشوت صرف ایک مجرمانہ فعل نہیں، بل کہ ایک سماجی گناہ بھی ہے۔ یہ نہ صرف اداروں کی ساکھ کو تباہ کرتی ہے، بل کہ معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کم زور کر دیتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ قابلیت، میرٹ، انصاف اور حق کو دفن کر دیتی ہے۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ رشوت خور کے گھر میں جو لقمہ جاتا ہے، وہ کسی مظلوم کی فریاد سے تر ہوتا ہے؟ وہ عالی شان گاڑیاں، مہنگے کپڑے، قیمتی موبائل، سب کچھ دراصل ایک مظلوم کی گردن سے اترے ہوئے کفن کا ٹکڑا ہیں۔
ہم نے معاشرے کو اُس نہج پر پہنچا دیا ہے، جہاں دیانت داری ایک بے وقوفی بن گئی ہے اور رشوت ایک چالاکی۔
لیکن یاد رکھیں! ہر بار جب کوئی کسی کی مجبوری کو کیش کرواتا ہے، تو وہ صرف رشوت نہیں لیتا، وہ ایک ماں کی آہ، ایک باپ کی بے بسی، اور ایک جوان کی اُمید کا جنازہ بھی اُٹھاتا ہے۔
جب تک ہم بہ طور معاشرہ رشوت کو صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں، بل کہ انسانیت کی توہین نہیں سمجھیں گے، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں نوٹوں میں لپٹی بددعاؤں سے بھرا معاشرہ چاہیے…… یا حق، انصاف اور عزت نفس پر کھڑا ایک روشن مستقبل۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے