وہ جو کہتے ہیں کہ کوئی سفر لا حاصل نہیں ہوتا ہے۔ منزل ملے یا نہ ملے، منزل کی طرف جانے والے راستے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔
ہمارا اس سال (2025ء) کا سفر جانبِ سکردو تھا۔ سکردو خوابوں کی سرزمین ہے ۔ پریوں کا مسکن ہے۔ نیک سیرت، سادہ، بھلے مانس اور فرشتہ صفت لوگوں کی سر زمین ہے۔ سکردو کتنا خوب صورت ہے؟ کوئی میرے دل سے پوچھے۔ کیوں کہ میں اس سے پہلے بھی تین بار جا چکا ہوں۔
سکردو کا سفر اُس وقت مزید خوب صورت ہو جاتا ہے، جب آپ کے ساتھ سفر کرنے والے، آپ کے ہم سفر خوب صورت ہوں۔ جو قدم قدم پر آپ کا خیال رکھتے ہوں، جنھیں عمر کے لحاظ سے آپ کی صحت اور تن درستی کا آپ سے زیادہ خیال ہو۔ ویسے بھی میرے ہم سفر دوستوں میں ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب ہوتے ہیں…… جو ایک کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ایک بہترین سرجن بھی ہیں۔ کہیں صحت کا کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ کھڑا ہوجائے، تو وہ اُسی وقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اسے بڑھنے سے پہلے ہی بریک لگا دیتے ہیں کہ
’’بس بئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاب……!‘‘
ڈاکٹر شاہد صاحب پہاڑوں کے اُتنے ہی پرانے عاشق ہیں جتنے کہ پہاڑ خود ہیں۔ وہ خود بیمار ہوں یا نہ ہوں…… پہاڑ اُن کی جدائی میں ضرور بیمار پڑ جاتے ہیں…… اور وہ ہر سال اُن کی خبر گیری اور علاج معالجہ کے لیے بہ ذات خود چلے جاتے ہیں۔
دوسرا مَیں خود بھی ایک چھوٹا موٹا ڈاکٹر رہا ہوں…… مگر آپ یہ بات مانیں گے نہیں۔ کیوں کہ میں خود بھی چھوٹا تو ہرگز نہیں ہوں۔ میرا قد سات فٹ ہے اور جسامت بھی الا ماشاء اللہ چاروں طرف سے تین چار فٹ کو گھیرے ہوئی ہے۔ 115 کلوگرام وزن ہے۔ ویسے میں نے میڈیسن کے شعبے میں بہت سا وقت گزارا ہے۔ میرا ذاتی بزنس میڈیسن کی خرید و فروخت ہی تھا۔ میں کئی ایسے ایم بی بی ایس ڈاکٹر حضرات کے اَن پڑھ قسم انداز سے لکھے نسخے پڑھ لیتا تھا۔ کبھی کبھار تو ڈاکٹر کی طرف سے لکھی دوائی کو اس دوائی کے فقط پہلے سپیلنگ اور لکھنے والے ڈاکٹر کی روزمرہ روٹین کو سمجھتے ہوئے گیس کر کے سمجھ جاتا تھا۔
ویسے بھی کچھ ڈاکٹر حضرات کے لکھے نسخے کسی پٹواری کی لکھی گرداوری کی طرح صرف اس سے متعلقہ لوگ ہی سمجھ پاتے ہیں۔ ہمارے کچھ ڈاکٹر حضرات تو صرف دوائی کے کوڈ ورڈ ہی لکھتے ہیں، جو صرف اور صرف اس کے کلینک کے اندر، اس کے کلینک کے نزدیک ترین فارمیسی میں بیٹھا شخص یا پھر فرشتے پڑھ سکتے ہیں۔
ہمارے علاقے میں ایک ایسا ڈاکٹر بھی تھا، جس کے متعلق مشہور تھا کہ جب کوئی میڈیکل ریپ اس کے پاس اپنی دوائیوں کی پرموشن کے لیے جاتا، تو وہ اس سے بس جمع ٹرک کے حساب سے دوائیوں کا پیکیج طلب کرتا…… اور پھر وہ دوائیاں ایسی منتخب کرتا، جن کے نام کبھی ہمارے فرشتوں کو بھی معلوم نہ ہوتے…… اور پھر لکھتے وقت منحنی سی لکیروں پر مشتمل جو وہ نسخہ اخذ فرماتا، اُس کے متعلق آپ بس یہی کَہ سکتے ہیں کہ ’’لکھے موسیٰ پڑھے خدا۔‘‘ اس ضرب المثل سے ہرگز مراد خدا تعالیٰ اور اس کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام نہیں، بل کہ موسی اور خدا سے مراد سوئی کے نکے کی طرح سے باریک ترین لکھنا جسے وہ خود آپ ہی سمجھ سکے۔ بس یہی حال اُس ڈاکٹر صاحب کا تھا۔ جو اور جس طریقے سے وہ اپنے پیڈ پر نقش و نگار بناتا تھا، اُنھیں وہ خود ہی سمجھ سکتا تھا۔ یا پھر اُس کے ہسپتال میں بنی فارمیسی والا۔ کبھی کبھار کوئی پرچی سلپ ہو کر اُس کے ہسپتال سے باہر نکل آتی، تو سارے شہر کے فارمیسی والوں کو وختا پڑ جاتا کہ اس پرچی پر کیا لکھا گیا ہے؟ نتیجتاً ہر میڈیکل سٹور والا اپنی سمجھ اور تجربے کے مطابق اس نسخے سے نتائج اخذ کر کے دوائیاں نکال نکال کر دیتا تھا۔ اور پھر اُسے اپنے لکھے گئے نسخے کی لچھے دار لکھائی پر اتنا مان تھا کہ نسخہ لکھتے وقت وہ اپنے مریض کو پکا کرتا کہ یہ دوائیاں لے کے مجھے چیک بھی کروانی ہیں۔ ورنہ تم ٹھیک نہیں ہوگے۔ جیسے اُس نے اُن دوائیوں پر کوئی دم پھوکا کرنا ہو۔
بات نکلی اور دور تلک جا نکلی…… خیر میرا اگلا ہم سفر بھی اک ’’مِنی پیک‘‘ میں دست یاب ڈاکٹر ہی ہوتا ہے، بل کہ وہ ایک آل راؤنڈر ڈاکٹر ہے ۔ جو انسانی ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ڈنگر ڈاکٹر بھی ہے۔ اس لیے اگر کبھی کسی مریض کے اندر کوئی غیر انسانی قسم کی مرض گھس جائے، تو وہ اس کا بھی علاج کر لیتا ہے۔ اُس نے ویٹرنری کورس بھی کر رکھا ہے۔ وہ چھوٹا موٹا آپریشن بھی خود ہی کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے ختنے کرنے کا ماہر بھی ہے۔ تھوڑا بہت ہومیو پیتھک کو بھی منھ مار لیتا ہے۔ موٹر سائیکل کو پنکچر بھی خود ہی لگا لیتا ہے۔ نکے نکے دیسی نسخے بھی رگڑتا رہتا ہے۔ خاص طور پر اُس کا مردانہ کم زوری والا نسخہ تو بہت دور مار قسم کا ہے، جو دور دور تک چلتا جاتا اور بکتا ہے۔ اپنے کلینک کی ایک نکر میں اس نے گوکا دودھ دینے والی خالص نسل کی دیسی گائے بھی باندھ رکھی ہوتی ہے ۔ کہتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے نسخے میں ڈالنے کے لیے مجھے خالص گوکا دودھ ڈھونڈنے کے لیے ترلے نہیں مارنے پڑتے۔ اُس کا فرمانا ہے کہ جب نسخہ خالص اور اصلی جڑی بوٹیوں پر مبنی ہوگا، تو اس کا اثر بھی اتنا ہی جادوئی ہو گا۔ اسی لیے جب وہ ہمارے ساتھ پہاڑی علاقوں میں جاتا ہے، تو اِدھر اُدھر گھوم پھر کے خالص، اصلی اور نسلی قسم کی جڑی بوٹیاں بھی سمیٹ لاتا ہے۔ کہتا ہے کہ اَٹ سٹ، پکھڑا اور کوار گندل تو یہاں پر بھی عام مل جاتا ہے۔ جند بدستر، گل بنفشہ، گل آہو، گل ہنجراد، گل ملبٹونگ…… پتا نہیں کنے کنے اوکھے نام لیتا ہے کہ ککھ ہمارے پلے نہیں پڑتا، اسے کہیں نہیں ملتے ہیں۔ ایک اضافی خوبی اُس کی یہ ہے کہ وہ جگاڑ سپیشلسٹ بھی ہے۔ کہیں گاڑی خراب ہوجائے، تو وہ جگاڑ شگاڑ لگا کے چالو کرلیتا ہے۔ بڑا کثیرالجہت اور کبیرالجہد بندہ ہے۔ ہر وگڑے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیتا ہے۔ اس کا نام نامی جناب حضرت مولانا محمد ارشاد انجم مدظلہ علیہ ہے…… مگر وہ اپنا نام صرف محمد ارشاد لکھنے پر اکتفا کرتا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ لمبا نام انسان میں غرور پیدا کر دیتا ہے۔ سب کا یک ساں خیال رکھتا ہے، خاص طور پر میرا اپنے بڑے بزرگوں یا پیروں کی طرح خیال رکھتا ہے۔ حالاں کہ ہم سفروں کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ
سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں
نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے
مگر وہ ہم سب کا ایک ایسا رانجھا ہے، جو سب کا سانجھا تو ہے ہی، ساتھ میں سب کو جی جان سے بھی پیارا ہے۔
اس دفعہ بھی گاڑی میں میرا چوتھا ساتھی میاں ارشد تھا۔ میاں ارشد بھی میرا پرانا ہم سفر ہے۔ وہ اُتنا ہی پرانا ہے، جتنا کہ تقریباً ملک پاکستان۔ ہاں! مگر ایک ریٹائرڈ اور سینئر اُستاد ہونے کی وجہ سے تھوڑے رعایتی نمبروں کا حق دار بھی ٹھہرتا ہے۔ یوں ساریاں رعایتاں شعایتاں پاکے، کل ملا کے وہ پھر بھی 65،70 کے نیڑے نیڑے لگ ہی جاتا ہے۔
میاں ارشد ایک وقت میں معلم، ایک دربار کا متولی اور ایک حکیم بھی ہے۔ گرچہ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر حکمت کی ڈگری کوالیفائی نہ کرسکا…… مگر اپنی دل چسپی، عمر کے تجربے اور حکمت کے بہت سے رازوں سے آشنا ہونے کی بنا پر وہ ایک پکا ٹھکا، کاٹ دار اور لوہا توڑ حکیم ہے۔ اسے ڈگری والا دو آنے کا کاغذ مار گیا۔ ڈگری ہوتی، تو وہ لوہا پاڑ حکیم بھی بن سکتا تھا۔ حکمت سے متعلق اعلا سے اعلا ترین نسخے اس کی فنگر ٹپس پر ہیں۔ ہر سال سفر سے واپسی پر وہ خالص دیسی شہد، اخروٹ، بادام، کشمش، زرقِ شیریں سمیت مختلف قسم کے ڈرائی فروٹس کی بوری بھر کے لاتا ہے۔ اُس کا فرمانا ہے کہ اُس کے زیادہ تر دیسی نسخے مختلف ڈرائی فروٹس اور خالص ترین عرقیات سے لب ریز ہوتے ہیں…… اور وہ بنے بنائے اور بازاری نسخے ہرگز استعمال نہیں کرتا۔ تبھی تو ارد گرد والے سارے گاؤں کے لوگ اور ساری مہیلائیں اُسی کے پاس دوائی دارو لینے آتی ہیں۔
میاں ارشد ساتھ میں دم درود کا ماہر بھی ہے ۔ آدھے سر کا درد یعنی دردِ شقیقہ، بچوں کا سوکڑا پن اور خاص طور پر جن بچوں کا سر تیزی سے بڑھتا ہو، اُن کے لیے تو اُس کے پاس توپے توڑ نسخہ ہے۔ بس سائل اپنے ساتھ ایک شیشی میں خالص سرسوں کا تیل آدھ پاؤ، نیم کے درخت کی دو ٹہنیاں، تین پتے بوہڑ کے درخت کے اور ایک کالا دیسی ککڑ ساتھ لیتا آئے۔
میان ارشد کوئی فیس نہیں لیتا۔ ہاں کوئی دربار پر رکھے گلہے میں پنچ سو، ہزار یا پھر پانچ ہزار والا رتا نوٹ ڈال دے، تو اُسے ترنت اِفاقہ ہوجاتا ہے۔ ورنہ پھر اُسے ہر ماہ کی نا چندی جمعرات کو آ کر سات دم کروانے پڑتے ہیں۔
سفرِ سکردو میں میرے اگلے ہم سفر جناب محمد حنیف زاہد صاحب تھے۔ جو اپنی کرامات کی وجہ سے مرشد کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں۔ مرشد بھی وہ کہ پوری دنیا میں جس کا کوئی ثانی نہیں۔ کبھی کسی نے نہ ایسا مرشد دیکھا، نہ سنا ہو گا۔ جو 120 منزل، 3 سرساہی اور 2 چھٹانکوی قسم کا یونیک مرشد ہو۔ مرشد اَن گنت خوبیوں کا مالک ہے۔ کسی کی بھینس وقت پر دودھ نہ دیتی ہو، تو اُس کا مرشد کے پاس شرطیہ علاج ہے…… بس ایک پیڑا ان چھنا گندمی آٹے کا لے کر درِ اقدس پر حاضر ہو جائے۔ مرشد اُس پر دم فرما دیں گے۔ زورِ دم درود سے اُس کی بھینس اسی وقت چیخنا چلانا اور اڑنگنا شروع کر دے گی کہ ’’چھیتی آ کے مینوں چو لو!‘‘
کسی کی شادی نہ ہوتی ہو، نرینہ اولاد کا مسئلہ ہو یا پھر کسی کی بکری دن پورے ہونے سے پہلے تروو جاتی ہو، تو اس کا علاج بھی اُن کے کھبے ہتھ کی مار ہے۔ اُنھیں اپنے کام پر مان ہے۔ ایک شف، سو سکھ۔ لائف ٹائم گارنٹی سوائے اُن کے کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ تقریباً سارا شہر اُن کا مرید ہے۔ جنھیں پتا ہے کہ مرشد کیسے راضی ہوتا ہے…… اور کیسے مرشد سے کام نکلوانا ہے! مرشد عام طور پر اپنے سارے ورد، درود اور دم پھوکے کے زود اثر ہونے کا فارمولا کسی کو نہیں بتاتے۔ ہم چوں کہ اُن کے ہم سفر ہیں۔ سارا سارا دن بھی یہاں پر بورے والا شہر (پنجاب) میں تقریباً ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ لہٰذا آپ کی بہتری کے لیے وہ تیر بہ ہدف نسخہ آپ کو بتا دیتا ہوں۔ اس شرط پر کہ آپ آگے کسی اور کو نہیں بتائیں گے۔
آپ جب بھی اُن کے دیارِ پُر انوار پر حاضری کے لیے جائیں، سارا رستہ خاموش رہیں۔ کسی سے کوئی بات تک نہ کریں، چاہے وہ کتنی ہی ضروری بات کیوں نہ ہو۔ اس دوران میں آپ صرف اشاروں سے کام لیں۔ ساتھ میں ایک اٹوٹ کالا بکرا بھی ساتھ لے کر جائیں…… جس کے جسم پر تھوڑا سا کسی اور رنگ کا شائبہ نہ ہو۔ بس اس کالے بکرے کی اچھی اور صاف ستھری فوٹو بنا کے جانے سے پہلے اُنھیں سینڈ کر دیں۔ تا کہ مرشد آپ کے پہنچنے سے پہلے اس کالے بکرے کی فوٹو پر چلہ کاٹ کر آپ کے دکھ درد کا مداوا کرنے کا کوئی پکا سمبندھ کرسکیں۔ ویسے تو پہلے پہل مرشد کالا کٹا بھی قبول فرما لیتے تھے، مگر اب اُن کا کہنا ہے کہ کالے کٹے کھا کھا کر میرے موکلوں کا ’’یورک ایسڈ‘‘ بڑھ گیا ہے۔ لہٰذا اب وہ صرف کالا بکرا ڈیمانڈ کرتے ہیں اور کالے بکرے سے کم کسی پر ہرگز راضی نہیں ہوتے۔
سارا شہر مرشد پر فریفتہ ہے، مگر خود مرشد پہاڑوں کا پکا سچا عاشق ہے۔ چاہے اِدھر کی دنیا اُدھر ہوجائے، وہ ہر سال پہاڑوں کی یاترا کو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ کسی سے نہیں ڈرتے سوائے ایک شخص کے ……او کون ہو سکدا اے ؟ اگوں تسی آپ سیانے او……!
فرماتے ہیں کہ
فکرِ منزل ہے، نہ ہوشِ جادۂ منزل مجھے
جا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھے
مرشد، حاضرِ ڈیوٹی معلم بھی ہیں۔ بورے والا کے ایم سی ہائی سکول میں بچوں کو دنیا و مافیہا کا درس دیتے ہیں…… اور اُنھیں اچھے سے اچھا انسان بنانے کی جستجو میں سرگردان رہتے ہیں۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










