گوہر اقبال خان رماخیل نے بڑی جرات مندی کے ساتھ قلم اٹھایا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اظہارِ رائے پر کبھی حکومت پابندیاں عائد کرتی ہے اور کبھی معاشرتی رویے اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ حالاں کہ ہر موضوع پر ہر طرح کی رائے دینے کی اجازت ہونی چاہیے اور اسے خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔
اگرچہ میں نفسِ مضمون سے مکمل طور پر اختلاف کرتا ہوں، لیکن میری اپنی رائے میں باچا خان ایک خدائی خدمت گار، اصلاح پسند، روایت شکن، میانہ رو، غیر متعصب اور صلح جو شخصیت تھے۔ ان کی جد و جہد کو مَیں کسی طور سیاست دان کے خانے میں فٹ نہیں کر پاتا۔
جہاں تک باچا خان کی کانگریس سے وابستگی کا تعلق ہے، تو وقت نے ثابت کیا کہ جو کچھ کانگریس ہندوستانی قوم پرستی کے نام پر کَہ رہی تھی اور کر رہی تھی، وہ سب کچھ بالآخر درست ثابت ہوا۔ یاد رہے کہ کانگریس انگریزوں ہی نے قائم کی تھی، تاکہ ہندوستان کی ’’ایلیٹ کلاس‘‘ کے ساتھ قریبی تعلق قائم رہے۔
کانگریس کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے، تو اس کے تین بڑے ادوار نظر آتے ہیں:
٭ پہلے دور میں محض ایلیٹ کلاس شامل تھی۔
٭ دوسرے دور میں مختلف الخیال لوگ شریک ہوئے، مگر جو آزادی یا انگریزوں کے خاتمے کی بات کرتا، اُسے انتہا پسند قرار دے کر پارٹی سے نکال دیا جاتا۔
٭ تیسرا دور 1905ء کے بعد شروع ہوتا ہے، جب ’’آزادی پسند‘‘ کانگریس پر غالب آگئے اور انگریزی استعمار کے خلاف اشتراکی نظریات بھی سر اٹھانے لگے۔
یہ وہ وقت تھا جب سوویت انقلاب ابھی برپا نہیں ہوا تھا، مگر برصغیر پہلے ہی برطانوی راج کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا چکا تھا۔
اسی دوران میں 1906ء میں ’’مسلم ایلیٹ‘‘ کو اکٹھا کرکے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ ایلیٹ طبقہ ایک ہی وقت میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کا حصہ تھا۔ مسلم لیگ نے یہ نعرہ لگایا کہ جس ہندوستان پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی اور جہاں ہندو کبھی حکم ران نہیں رہے، وہاں اب مسلمانوں کو خطرہ ہے، اس لیے جداگانہ انتخابات کروائے جائیں۔ یہ دراصل برصغیر میں انگریزوں کی پہلی مذہبی سیاست تھی، جس کے ذریعے اُنھوں نے کانگریس کو کم زور کیا اور اسلام کے نام پر مسلم لیگ، جب کہ ہندو کے نام پر ہندو مہا سبھا اور بعد ازاں آر ایس ایس اور شیو سینا جیسی جماعتیں بنوائیں۔
دراصل انگریزوں کا قبضہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ وہ تقسیم در تقسیم کی پالیسی پر عمل کرتے رہے۔ اکالی دل، عیسائیوں کی آل انڈیا نیشنل کانفرنس، دلتوں کی الگ جماعت، انگلو انڈین کی الگ آواز، سب اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔
اس کے برعکس کانگریس برصغیر کو متحد رکھنا چاہتی تھی۔ وہ آزادی اور جاگیرداری نظام کے خاتمے کے ساتھ یہ پروگرام دے چکی تھی کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا اور مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہوگا۔ ظاہر ہے یہ بات انگریزوں کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔
باچا خان اپنی اصلاحی، معاشرتی اور علمی خدمات کے باعث غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے تھے اور اُنھیں متنازع بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم نے استعماریت کی کمر توڑی، ساتھ ہی سوویت انقلاب سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کر رہا تھا۔
1940ء میں منٹو پارک کے جلسے میں جو قرارداد منظور ہوئی، اُسے بعد کے برسوں میں قراردادِ پاکستان کہا گیا۔ حالاں کہ اس متن میں پاکستان کا لفظ موجود نہ تھا۔ سات برس بعد 1947ء میں تقسیم عمل میں آئی۔ محمد علی جناح نے تقسیم سے ذرا پہلے مسلم لیگ کے جلسوں میں متنازع تقریریں کیں اور کہا کہ ’’ہجرت نہ کرو، پاکستان نہ جاؤ، ہندوستان ہی تمھارا ملک ہے۔‘‘ اس وجہ سے اُن پر سخت تنقید ہوئی۔ جب وہ خود کراچی گئے، تو مسلم لیگ کے حلقوں میں ناپسندیدگی کا سامنا کیا۔ اس کے جواب میں بہ طور گورنر جنرل اُنھوں نے مشہور تقریر کی، جس میں کہا کہ ’’تم آزاد ہو، مذہبی اور سیاسی آزادی تمھیں حاصل ہے۔‘‘ یہ ایک سیاسی تقریر تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ انھی کے دور میں اسمبلیاں توڑنے کی روایت بھی رکھی گئی۔
تقسیمِ ہند کے وقت انگریزوں نے صرف دو آپشن دیے۔ تین جون 1947ء کا اعلانِ آزادی 15 اگست کو مکمل ہوا…… لیکن وہ علاقے اور قومیتیں جو ہندوستان میں رہنا چاہتی تھیں اور نہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتی تھیں، اُن کی آواز نہیں سنی گئی۔ ناگا لینڈ، آسام، منی پور، حیدرآباد، کشمیر، سرحد (اب خیبر پختونخوا)، بنگال اور پنجاب کے علاوہ درجنوں ریاستوں کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھا گیا۔
تقسیم کے بعد کانگریس نے اسے قبول کیا اور اس کے اتحادی بھی ساتھ کھڑے ہوئے، مگر اُن پر کبھی اعتبار نہیں کیا گیا اور اُنھیں ہمیشہ دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا۔ مسلم لیگ کی ایلیٹ ’’جاگیرداروں‘‘ اور ’’سرمایہ داروں‘‘ میں بٹ گئی۔ یہ تقسیم اس قدر خطرناک تھی کہ ایک گروہ دوسرے کے قتل تک پر اُتر آیا۔
اس کے بعد 1947ء سے 1956ء تک ملک بغیر آئین کے یا ہندوستانی آئین پر چلتا رہا اور آخرِکار ایوب خان کے ’’مارشل لا‘‘ نے جمہوریت کے خواب کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
ان تمام حالات میں باچا خان کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ برٹش انڈیا نے بلوچستان اور سرحد (اب خیبر پختونخوا) کو ’’بفر زون‘‘ بنایا، تاکہ سوویت اثرات دور رکھے جائیں۔ باچا خان نے اس کی مخالفت کی، آواز بلند کی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ وفاداری کے تسلیم کیے جانے کی بات کرتے رہے۔ اُنھوں نے نام کی تبدیلی، شناخت اور صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کیا، مگر اُنھیں غدار کہا گیا۔
یہاں تک کہ محمد علی جناح کی تقریریں ضبط کی گئیں۔ اُن کے خیالات پر قدغن لگی۔ اُن پر تحقیق جرم قرار پایا اور اُن پر پی ایچ ڈی تک ممنوع ٹھہری۔
ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم قتل ہوئے۔ قراردادِ مقاصد پیش کرنے والے سر ظفر اللہ خان، جو اقلیتوں کو یقین دلا رہے تھے کہ اسلام اُن کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، خود ’’غیر مسلم‘‘ قرار پائے۔ مسلم لیگ کے پہلے صدر آغا خان کے عقیدے کو مشکوک کہا گیا۔ حتیٰ کہ 1948ء میں فاطمہ جناح نے عدالت میں گواہی دی کہ محمد علی جناح کے مذہبی عقائد عام مسلمانوں سے مختلف تھے۔ اُن کے وکیل نے عدالت میں یہ ثابت کیا کہ اُن کا عقیدہ جدا ہے اور اس لیے وراثت کے قوانین اُن پر لاگو نہیں ہوتے۔ عدالت نے یہ دلیل تسلیم کی اور اُن کی جائیداد اسلامی وراثتی قوانین کی بہ جائے وصیت کے مطابق تقسیم کی گئی۔ سو میرے فاضل دوست، ملک گوہر علی خان رما خیل صاحب، یہ ہے سکے کا دوسرا رُخ یا وہ باتیں، جنھیں بولنے یا رقم کرنے سے پہلے دو بار سوچنا پڑتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










