صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع، خصوصاً سوات، دیر اور شانگلہ کے سیلاب متاثرہ علاقے اس وقت شدید آزمایش سے گزر رہے ہیں۔ متاثرین کی مشکلات اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اور مقامی حکومتیں اپنی ذمے داریوں کو پورا کر رہی ہیں یا یہ فریضہ اب صرف فلاحی تنظیموں اور عوامی جذبے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے؟
یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ کچھ سرکاری ادارے حرکت میں ضرور آئے، لیکن اُن کی کارکردگی مجموعی طور پر تسلی بخش نہیں کہی جاسکتی۔ مقامی منتخب نمایندے بھی منظرِ عام پر تو آئے، مگر بدقسمتی سے ان کی سرگرمیاں زیادہ تر فوٹو سیشن اور نمایشی بیلچوں تک محدود رہیں۔
سیلاب آئے کئی دن گزر چکے ہیں، مگر بعض علاقوں میں اب تک بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ سڑکیں کیچڑ سے اَٹی پڑی ہیں، گھروں اور دُکانوں کے سامنے پانی اور مٹی کے ڈھیر کھڑے ہیں۔ ایسے میں، جہاں حکومتی مشینری کم زور نظر آئی، وہیں تبلیغی حضرات اور مختلف فلاحی تنظیموں نے نہایت خاموشی، خلوص اور عملی جذبے سے خدمت انجام دی، جس پر وہ بہ جا طور پر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
اکیسویں صدی میں، جب دنیا مصنوعی ذہانت اور چاند پر بستیاں بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے، ہمارے عوام آج بھی بیلچے اور بالٹیاں لے کر اپنے علاقوں کی صفائی خود کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کے پاس اتنے بھی وسائل نہیں کہ وہ جدید چھوٹی مشینری یا ہنگامی حالات کے لیے ضروری آلات خرید یا تیار کرسکے؟
کیا کوئی پیشگی منصوبہ بندی موجود ہے، یا ہماری ترجیحات صرف سیاسی بیانات، الزامات اور ٹی وی تقاریر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں؟
عوام بے آواز نہیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے اور طرزِ حکم رانی کا مرکز صرف اقتدار کی سیاست رہا، تو وہ وقت دور نہیں، جب عوام کا اعتماد صرف حکومتوں سے نہیں، بل کہ خود ریاستی نظام سے اُٹھنے لگے گا۔
یہ وقت ہے کہ حکم ران ہوش کے ناخن لیں۔ خدمت صرف تصویروں سے نہیں، عملی اقدامات سے ہوتی ہے۔ اگر آج عوام کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا، تو کل یہ زخم سوال بن کر ہر دروازے پر دستک دیں گے اور شاید پھر کوئی جواب کافی نہ ہو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










