خدمت اور سیاست کا تصادم

Blogger Sami Khan Torwali

خدمتِ خلق انسانیت کا سب سے اعلا وصف ہے۔ قدرتی آفات اور حادثات کے مواقع پر جب انسان سب کچھ کھو بیٹھتا ہے، تو اُمید کی ایک کرن صرف دوسروں کی مدد، ایثار اور تعاون میں باقی رہ جاتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قوموں کی اصل روح سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں بھی ہر آفت کے موقع پر یہ بات بارہا ثابت ہوچکی ہے کہ عوام نے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ 2010ء کا سیلاب ہو، یا 2022ء کی بارشیں اور طوفان…… یا اب بونیر کے حالیہ تباہ کن حالات، ہر بار عام لوگ، نوجوان اور سماجی تنظیمیں میدان میں اُتریں اور بغیر کسی لالچ کے اپنی خدمات پیش کیں…… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خدمت بھی اکثر سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ وہ خدمت جس کا مقصد انسانی جانوں کو بچانا اور بھوکے پیٹوں کو کھانا دینا ہے…… اُسے بھی ’’سیاسی پوائنٹ اسکورنگ‘‘ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہی المیہ بونیر میں بھی دیکھنے کو ملا، جہاں ضلعی انتظامیہ نے خدمت کے جذبے کو روکنے کے بہ جائے، اسے ایک مخصوص سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔
بونیر حالیہ دنوں میں شدید تباہی اور آزمایش سے دوچار رہا ہے۔ بارشوں، سیلاب اور پہاڑی ریلوں نے نہ صرف گھروں کو بہا دیا، بل کہ معصوم زندگیاں بھی نگل لیں۔ درجنوں دیہات متاثر ہوئے، سیکڑوں لوگ بے گھر ہوگئے، فصلیں برباد اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ ایسے حالات میں جہاں حکومت کی ذمے داری تھی کہ متاثرین کی فوری اور شفاف امداد کو یقینی بنائے، وہاں زیادہ تر سہارا عوام نے عوام کو دیا۔ مقامی مخیر حضرات، نوجوانوں کی تنظیمیں اور عام دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کھانے پینے کا سامان، کپڑے، دوائیاں اور دیگر ضروریاتِ زندگی متاثرہ علاقوں تک پہنچائیں۔
یہی وہ موقع تھا، جہاں خدمت اور ایثار کا جذبہ اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا…… لیکن اسی وقت ضلعی انتظامیہ نے ایک ایسا رویہ اپنایا، جس نے خدمت کی اصل روح کو مجروح کر ڈالا۔
عام طور پر آفات کے وقت انتظامیہ کا کام سہولت فراہم کرنا، امداد کی ترسیل کو منظم بنانا اور کسی بھی بدانتظامی کو روکنا ہوتا ہے…… لیکن بونیر میں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیا۔ پہلے مرحلے میں یہ شرط عائد کی گئی کہ جو بھی فلاحی تنظیم یا فرد متاثرین تک امداد پہنچانا چاہے، اُسے ضلعی انتظامیہ سے ’’این اُو سی‘‘ لینا ہوگا۔
ظاہر ہے، این اُو سی کا مقصد بہ ظاہر یہ دکھایا گیا کہ امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جائے اور غیر معیاری یا مشکوک سامان کو روکا جائے…… لیکن عملی طور پر یہ عمل ایک رکاوٹ ثابت ہوا۔ کیوں کہ ہر وہ تنظیم یا فرد جو خلوصِ دل سے امداد پہنچانا چاہتا تھا، اُسے کاغذی کارروائی اور تاخیری عمل میں اُلجھا دیا گیا۔
مزید ستم یہ ہوا کہ این اُو سی کے ساتھ ایک نیا حربہ متعارف کرایا گیا۔ امداد دینے والوں کو ایک کارڈ دیا جاتا، جس پر کچھ مخصوص نام اور نمبر درج ہوتے۔ یہ ہدایت دی جاتی کہ امدادی سامان انھی افراد کے حوالے کیا جائے۔
یہ کارڈ محض ایک انتظامی سہولت نہیں تھا، بل کہ اس کے پیچھے ایک منظم سیاسی کھیل چھپا ہوا تھا۔ حیرت انگیز طور پر اُن کارڈز پر درج تمام نام ایسے افراد کے تھے، جن کا بہ راہِ راست تعلق حکومتی جماعت ’’پاکستان تحریکِ انصاف‘‘ سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی بھی مخیر شخص یا تنظیم سامان لے کر آتی، تو اسے یہ سامان ان سیاسی افراد کو دینا پڑتا، تاکہ وہ بعد میں اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کریں۔
یہاں اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ سامان اُن کے ذریعے تقسیم ہو رہا ہے، بل کہ یہ تھا کہ اس سارے عمل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنایا جا رہا تھا۔
وہ سامان جو عوام نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے خرید کر دیا تھا، وہ اُن افراد کے ذریعے تقسیم کیا جا رہا تھا، تاکہ وہ اپنی سیاسی ساکھ مضبوط کریں اور عوام میں یہ تاثر دیں کہ یہ امداد انھی کی بہ دولت پہنچی ہے۔
خدمت کا مقصد سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے…… لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہر عمل کو ’’سیاسی عینک‘‘ سے دیکھا جاتا ہے۔ بونیر کا واقعہ اس تلخ حقیقت کی کھلی مثال ہے کہ کس طرح انسانی خدمت کو بھی سیاسی فوائد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف خدمت کے اصل جذبے کو مجروح کرتا ہے، بل کہ عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ لوگ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ کیا ان کی دی گئی امداد واقعی مستحقین تک پہنچے گی، یا یہ بھی سیاست کی بھینٹ چڑھ جائے گی؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب امداد کے راستے میں سیاسی مداخلت آتی ہے، تو مستحقین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وہ غریب کسان جس کا گھر سیلاب میں بہہ گیا، وہ معصوم بچہ جس کے پاس کھانے کو روٹی نہیں، وہ عورت جو کھلے آسمان تلے بیٹھی ہے…… اُن تک امداد نہیں پہنچتی۔ کیوں کہ وہ کسی مخصوص پارٹی یا گروہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ دراصل یہی وہ لمحہ ہے جب انسانیت روتی ہے اور انصاف دم توڑ دیتا ہے ۔
اسلام نے خدمتِ خلق کو سب سے بڑی عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یتیم، مسکین اور بے سہارا افراد کی مدد کی جائے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ’’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ ہے، جو اس کے کنبے کے ساتھ حسن سلوک کرے۔‘‘
اگر ہم خدمت کو سیاست کے تابع کر دیں، تو یہ نہ صرف انسانیت کی توہین ہے، بل کہ اسلامی تعلیمات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
جب عوام دیکھتے ہیں کہ اُن کی دی ہوئی امداد کو سیاسی دکان چمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تو اُن کے دلوں میں بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اُن کی قربانی اور ایثار کا کیا فائدہ…… اگر یہ اصل حق دار تک پہنچنے کے بہ جائے سیاسی نعروں میں ضائع ہو جائے؟
یہ رویہ عوام میں مایوسی، بدظنی اور انتشار پیدا کرتا ہے۔ ایک طرف لوگ مشکلات میں گھرے رہتے ہیں اور دوسری طرف سیاست دان اپنی شہرت کے لیے ان کے دکھوں کو استعمال کرتے ہیں۔
بونیر میں کئی مقامی نوجوان اور تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین تک پہنچے…… لیکن این اُو سی اور کارڈ کے نظام نے ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ امداد عوامی ڈونیشن سے اکٹھی کی گئی تھی، تو انتظامیہ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی تقسیم پر سیاسی کنٹرول قائم کرے؟
یہ پورا عمل نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے، بل کہ قانونی طور پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ کیا کسی سرکاری افسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عوامی امداد کو مخصوص سیاسی افراد کے ذریعے تقسیم کرنے پر مجبور کرے…… کیا یہ عوامی اعتماد کے ساتھ دھوکا نہیں؟
یہ رویہ دراصل بیوروکریسی اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے، جو خدمت کے بہ جائے ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔
اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو اس کے کئی خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ جیسے:
٭ عوام اپنی ڈونیشن دینے سے گریز کرنے لگیں گے ۔
٭ مستحقین امداد سے محروم رہیں گے ۔
٭ سماج میں مزید تقسیم اور نفرت بڑھے گی۔
٭ خدمت کا جذبہ کم زور پڑ جائے گا۔
اس مسئلے کا حل شفافیت اور غیر جانب داری میں ہے۔ جیسا کہ
٭ امدادی سامان کی تقسیم ایک غیر جانب دار کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے۔
٭ مقامی سول سوسائٹی اور میڈیا کو نگرانی کا حق دیا جائے۔
٭ این اُو سی اور کارڈ جیسی غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔
٭ عوامی ڈونیشنز کو بہ راہِ راست متاثرین تک پہنچنے دیا جائے۔
٭ بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا جائے۔
قارئین! بونیر کا واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں…… کیا خدمت کو بھی ہم نے سیاست کا غلام بنانا ہے، کیا متاثرین کی آہوں اور بچوں کے آنسوؤں کو بھی ہم نے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا ہے……؟
خدارا! انسانیت کو سیاست کی نذر نہ کریں۔ خدمت کو خدمت رہنے دیں۔ عوامی تکالیف کو ذاتی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ حق، حق دار تک پہنچے بغیر کسی شرط، بغیر کسی سیاست اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے……!
بہ طور ثبوت میرے ساتھ وہ تصاویر موجود ہیں، جو اس شرم ناک عمل کو بے نقاب کرتی ہیں۔ یہ تصاویر صرف ثبوت نہیں، بل کہ ہماری اجتماعی بے حسی کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے