قومی جرگہ کی ہیئتِ ترکیبی کیا ہونی چاہیے؟ یہ سواتیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ صدیوں سے جرگہ قومی معاملات طے کرتے آیا ہے۔ ریاستی دور میں چوں کہ قوم نے تمام امور حکم ران کو سپرد کیے تھے۔ وہ بھی جرگے ہی کا فیصلہ تھا۔ اس کے بعد تعزیرات سے لے کر معاشیات، مالیات اور عدالتی نظام کو شریعت اور رسوم و رواج کے تحت طے کیا گیا۔ 5 2سال تک یہ عمل چلتا رہا، مگر بعض عناصر نے ذاتی خواہشات کو قومی مفادات کا لبادہ اُڑھا کر اس سارے نظام کو تلپٹ کرکے مختلف مہم جو عناصر کو اُبھرنے کا موقع دیا اور ایک مکمل ریاستی ہم آہنگی کا جنازہ نکال دیا۔ چھوٹے چھوٹے جرگے اور نئے نئے اتحاد بنتے بگڑتے گئے۔ سیاسی پارٹیوں کی کثیر تعداد برسات کی کھمبیوں کی طرح سر اُٹھانے لگے اور وہ روایتی ’’دو ڈلہ سسٹم‘‘ تباہ ہوگیا۔ اس صورتِ حال سے منفی قوتوں نے فائدہ اُٹھایا۔ حکومتوں کو اَب ’’ڈیوائڈ اینڈ رول‘‘ کے لیے نہ محبت کرنی پڑی نہ پیسا خرچ کرنا پڑا۔ لوگ خود ہی تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے ۔
موجودہ صورتِ حال اس امر کا متقاضی ہے کہ سوات کے طول و عرض میں ایک ہی قومی جرگہ ہو اور ایک ہی مشترکہ پلیٹ فارم سے سوات کی آواز اُٹھے۔ سوات کے معاملات اور سوات کی صورتِ حال دوسرے علاقوں کی نسبت یک سر الگ ہے۔ یہ پورے پختون بلٹ کے لیے "Soft Belly” ہے۔ سب سے پہلے ہم دہشت گردی کا شکار ہوئے، سب سے زیادہ قتل و غارت گری اور بربادی ہماری ہوئی، تو میری عاجزانہ درخواست ہے کہ پورے سوات کی سطح پر ایک قومی جرگہ تشکیل دیا جائے۔ اس کے ذیلی دفاتر اُن قومیتوں کے مراکز میں اور مرکزی دفتر مینگورہ میں قائم کیا جائے۔ وحدت کی بنیاد صرف سوات ہو اور مقصد سوات کا امن ہو۔ باقی چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
مذکورہ قومی جرگے میں اگر پختونوں کی زیر دست قومیتوں کو بھی نمایندگی دی جائے، تو اس سے جرگے کی توقیر میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ آخر وہ بھی انسان ہی ہیں اور معاشرے کے "Uplift” میں حصہ لے رہے ہیں۔تمام موجودہ علاقائی تنظیموں کو یا تو ختم کیا جائے، یا ایک فیڈریشن میں کنورٹ کرکے اُن کو جرگہ کے کنٹرول میں دیا جائے۔ بس ایک آواز، ایک فیصلہ اور ایک مطالبہ ہو: ’’امن اور صرف امن!‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










